ڈاکٹر فاروق عبداللہ دوبارہ نیشنل کانفرنس کے صدر منتخب کر لیے گئے ہیں۔ تاہم یہ فیصلہ سب کیلئے حیران کن رہا ہے کیونکہ اس سے قبل 18 نومبر کو ڈاکٹر فاروق نے صدارت کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔
5دسمبر کوپارٹی کے بانی شیخ محمد عبداللہ کی برسی کے موقع پر منعقدہ ڈیلگیٹ سیشن میںنیشنل کانفرنس کے سینئر رہنما اور رکن پارلیمنٹ ڈاکٹر فاروق عبداللہ دوبارہ نیشنل کانفرنس کے صدر منتخب کر لیے گئے ہیں۔ تاہم یہ فیصلہ سب کیلئے حیران کن رہا ہے کیونکہ اس سے قبل 18 نومبر کو ڈاکٹر فاروق نے صدارت کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔بتایا جاتا ہے کہ فاروق عبداللہ نے یہ فیصلہ اپنی عمر اور صحت کو مد نظر رکھتے ہوئے کیا تھا، اسکے بعد ہی پارٹی کی جانب سے اس حوالے سے ایک بیان سامنے آیاجس میں کہا گیا تھا کہ ڈاکٹر فاروق 5 دسمبر تک پارٹی کے صدر رہیں گے لیکن آئندہ صدارتی انتخابات میں حصہ نہیں لیں گے۔اس دوران نیشنل کانفرنس کے نائب صدر اور سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے واضح کیا کہ تھا کہ پارٹی صدر فاروق عبداللہ نے استعفیٰ نہیں دیا ہے بلکہ آئندہ پارٹی صدارتی انتخابات میں حصہ نہ لینے کی اطلاع دی ہے۔عمر عبداللہ نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہا تھا کہ پارٹی انتخابات بہرحال دسمبر میں ہونے والے ہیں۔ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں عمرعبداللہ نے کہاتھا ”یہ انتخابات ویسے بھی اس سال دسمبر میں ہونے والے تھے۔ ڈاکٹر صاحب انتخابی عمل مکمل ہونے تک صدر رہیں گے۔ میں اپنے تمام ساتھیوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ صدر کے عہدے کے لیے اپنے کاغذات نامزدگی داخل کرنے پر سنجیدگی سے غور کریں تاکہ ہم میں سے بہترین شخص ان ہنگامہ خیز وقتوں میں پارٹی کو آگے بڑھا سکے۔“ ادھرجموں و کشمیر نیشنل کانفرنس نے ایک ٹویٹ میں کہا تھاکہ”ڈاکٹر فاروق عبداللہ صاحب نے اپنے ساتھیوں کو این سی کے صدر کے عہدے سے مستعفی ہونے کے اپنے فیصلے سے آگاہ کر دیا ہے۔ پارٹی میں سینئر ساتھیوں کی بہترین کوششوں کے باوجود ڈاکٹر صاحب اس بات پر بضد تھے کہ وہ اپنے فیصلے پر نظرثانی نہیں کریں گے۔“این سی نے ٹویٹ میںمزید کہاتھا”اس اچانک اعلان کی روشنی میں جس نے سب کو حیران کر دیا ہے‘پارٹی کے آئین کے مطابق جنرل سکریٹری کو پارٹی کے صدر کے لیے الیکشن کرانے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے جو کہ5 دسمبر کو مکمل ہو جائے گی۔ تب تک ڈاکٹر صاحب این سی کے صدر کے طور پر جاری رہیں گے۔“لیکن5 دسمبر کوایسا کچھ بھی نہیں دکھا :ڈاکٹرفاروق عبداللہ ایک مرتبہ پھر نیشنل کانفرنس صدر بنائے گئے!
نیشنل کانفرنس پارٹی کے صدرتی انتخابات پارٹی ہیڈ کوارٹر نوائے صبح میں منعقد ہوئے جس کے بعد اس کا باضابطہ اعلان پارٹی کے بانی شیخ محمدعبداللہ کے 117ویں یوم پیدائش کے موقع پر ان کے مزار واقع حضرت بل میں ہوا۔ صدر منتخب ہونے کے بعد ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے پارٹی کے لیڈروں اور اراکین سے بھی خطاب کیا۔ اس تقریب میں پارٹی کے سینئر لیڈران اور ارکان نے شرکت کی اور نئے صدر کو منتخب کیا۔ قابل ذکربات یہ کہ ڈاکٹر فاروق عبداللہ بلا مقابلہ اس عہدے کےلئے منتخب ہوئے ہیں۔
ڈاکٹر فاروق عبداللہ اس وقت 88 برس کے ہیں۔فاروق عبداللہ کو شیخ محمد عبداللہ کی وفات سے ایک سال قبل 1981 میں پارٹی کا صدر منتخب کیا گیا۔ جبکہ 2002 میں انہوں نے استعفیٰ دیااور اپنے بیٹے عمر عبداللہ کے ہاتھوں میں پارٹی قیادت سونپی تھی تاہم انتخابات میں پارٹی کی مایوس کن کارکردگی کے بعد انہیں دوبارہ صدر منتخب کیا گیا۔ یعنی 1981سے 2022تک پانچ سال چھوڑ کرپارٹی صدارت کی کرسی پر فاروق عبداللہ ہی براجمان رہے ہیں۔ سیاسی ماہرین کا گمان تھا کہ شاید اس مرتبہ کانگریس پارٹی کی طرح این سی بھی کچھ الگ کرے گی لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا۔دریں اثنا، بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی جموں و کشمیر یونٹ نے کہا کہ ڈاکٹر فاروق کے دوبارہ انتخاب نے ظاہر کیا کہ ان کی پارٹی”خاندانی سیاست“تک محدود ہے جس کی جموں و کشمیر میں کوئی جگہ نہیں ہے۔
وہیں سرینگر میں پارٹی کے بانی شیخ عبداللہ کے 117ویں یوم پیدائش کے موقع پر ان کے مزار واقع حضرت بل میں جلسہ بھی منعقد ہوا جس میں پارٹی کے سینئر لیڈران اور ارکان نے شرکت کی۔ فاروق عبداللہ میں اپنی تقریر میں اپنے بیٹے عمر عبداللہ کو مشورہ دیاکہ انہیں الیکشن لڑناہو گا!انہوں نے کہا کہ عمر عبداللہ کو اسمبلی الیکشن لڑنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ تاہم عمر عبداللہ کئی بار کہہ چکے ہیں کہ وہ اس اسمبلی کیلئے بطور امیدوار الیکشن نہیں لڑیں گے جس کے اختیارات محدود کرکے میونسپلٹی کے برابر کردئے گئے ہیں۔ عمر عبداللہ کا استدلال ہے کہ جب تک جموں و کشمیر میں ریاست کی بحالی نہیں ہوتی تب تک اسمبلی مضبوط اور طاقتور نہیں ہوگی۔عمر عبداللہ نے ابھی اپنے والد کی صلاح پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے۔فاروق عبداللہ نے اپنی تقریر میں مزیدکہا کہ 2018 میں پنچایتی انتخابات کا بائیکاٹ کرنا ’ایک بہت بڑی غلطی‘ تھی اور ہمیں جموں و کشمیر میں آئندہ ہر الیکشن لڑنا چاہیے۔ ڈاکٹر فاروق نے حکومت اور فورسز کو متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ کسی بھی انتخابی عمل میں’ مداخلت ‘نہ کریں۔دریں اثنا ڈاکٹر فارق کے اس بیان پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے پیپلز کانفرنس کے صدر سجاد لون نے کہا کہ فاروق عبداللہ کو انتخابی عمل میں دھاندلیوں کے بارے میں بات کرنے کا کوئی حق نہیں ہے کیونکہ 1987 میں خود نیشنل کانفرنس نے انتخابات میں دھاندلی کی ، آج دھاندلی پر بات کرنے والوں کو شرم آنی چاہیے۔
نیشنل کانفرنس کی جانب سے اس موقع پر ایک سیاسی قرارداد بھی پاس کی گئی جس میں خصوصی آئینی حیثیت کی بحالی ،ریاستی درجہ اور اسمبلی الیکشن کے مطالبات شامل ہیں ۔ تاہم اس میں خود مختاری کا کوئی مطالبہ نہیں دوہرایا گیا ہے جو5 اگست2019ءسے قبل پارٹی کے منشور کا حصہ رہتا تھا ۔تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اس سے واضح ہوتا ہے کہ شاید اب نیشنل کانفرنس کا منشور بھی بدل دیا گیاہے اور وہ اب ریاستی درجے تک ہی محدود ہو کر رہ گیا ہے ۔
نیشنل کانفرنس کی جانب سے ایک قرارداد بھی پاس کی گئی جس میں خصوصی آئینی حیثیت کی بحالی ،ریاستی درجہ اور اسمبلی الیکشن کے مطالبات شامل ہیں ۔ تاہم اس میں خود مختاری کا کوئی مطالبہ نہیں دوہرایا گیا ہے جو5 اگست2019ءسے قبل پارٹی کے منشور کا حصہ رہتا تھا







