امت نیوز ڈیسک //
دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی نے والدہ کے انتقال پر افسوس و غم کا اظہار کیا۔ انہوں نے والدہ کے انتقال پر ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ‘شاندار صدی کا اختتام ایشور کے قدموں میں ہوا …میں نے ہمیشہ اپنی ماں میں اس تثلیث کو محسوس کیا، جس میں ایک سنیاسی کا سفر، ایک بے لوث کرما یوگی کی علامت اور اقدار سے مزین زندگی کو شامل کیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید لکھا کہ جب میں ان سے ان کی 100ویں سالگرہ پر ملا تو انہوں نے ایک بات کہی تھی جو ہمیشہ یاد رکھوں گا کہ ذہانت سے کام لینا اور زندگی کو پاکیزگی سے گزارنا۔’
وزیر اعظم نریندر مودی اپنی والدہ کے انتقال کی خبر ملتے ہی احمد آباد روانہ ہو گئے ہیں۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی والدہ ہیرا بین کا انتقال جمعہ کی صبح ہوا۔ 100 سال کی عمر میں ہیرا بین نے احمد آباد میں آخری سانس لی۔ بدھ کو ہی طبیعت بگڑنے کے بعد انہیں احمد آباد کے یو این مہتا انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی اینڈ ریسرچ سینٹر میں داخل کرایا گیا تھا، جہاں ہسپتال نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کی حالت مستحکم ہے، لیکن بڑھتی عمر کے سبب ان کی صحت نے ساتھ نہیں دیا اور آج ان کا انتقال ہوگیا۔ گذشتہ روز والدہ سے ملاقات کرنے اور ان کی خیریت دریافت کرنے وزیراعظم احمد آباد پہنچے اور وہاں سے والدہ کی حالت جاننے کے لیے یو این مہتا اسپتال گئے۔ پی ایم مودی کی ماں ہیرا بین کی صحت بدھ کو خراب ہوئی تھی۔ اس کے بعد انہیں احمد آباد کے یو این مہتا اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا جہاں آج انہوں نے زندگی کی آخری سانس لی۔
اس سال پی ایم نے اپنی والدہ کی سالگرہ کے موقع پر ‘ماں’ کے عنوان سے اپنے بلاگ میں لکھا تھا کہ آج میں یہ بتاتے ہوئے انتہائی خوشی محسوس کر رہا ہوں کہ میری والدہ محترمہ ہیرابین سو سال میں داخل ہو رہی ہیں۔ یہ ان کا صد سالہ سالگرہ ہونے جا رہا ہے۔ اگر میرے والد باحیات ہوتے تو وہ بھی گذشتہ ہفتے اپنی 100ویں سالگرہ مناتے۔ 2022 ایک خاص سال ہے کیونکہ میری والدہ کی 100ویں سالگرہ شروع ہو رہی ہے اور میرے والد نے اسے مکمل کر چکے ہوتے۔ وزیر اعظم مودی نے بلاگ میں مزید لکھا کہ "مجھے اس میں کوئی شک نہیں کہ میری زندگی میں جو کچھ اچھا ہے، اور میرے کردار میں جو کچھ بہتر ہے، وہ میرے والدین سے منسوب کیا جا سکتا ہے۔ آج جب میں دہلی میں بیٹھا ہوں، ماضی کی یادوں سے بھرا ہوا ہوں۔”








