ماہ رمضان المبارک کے پہلے دو عشروں کا با سعادت حصہ ہمیں وداع کر چکا ہے مگر اس تقدس مآب مہینے کی رحمتوں اور برکتوں میں روز افزوں اضافہ ہی ہو رہا ہے۔ عام مشاہدہ یہی ہے کہ رمضان کی برکات سے روزہ داروں کی رگ رگ اور نس نس میں نیکو کاری کا تازہ دم خون دوڑتا ہے، لوگ مساجد کی جانب زیادہ توجہ دیتے ہیں، نمازوں میں باقاعدگی آجاتی ہے، فضولیات سے اجتناب برتا جاتا ہے ، دل پسیج جاتے ہیں، اچھائیوں کی طرف رغبت بڑھ جاتی ہے، کچھ اچھا کرنے کی نیت دل میں خود بخود پیدا ہو جاتی ہے ، جگہ جگہ وعظ و تبلیغ کی مجالس منعقد کی جاتی ہیں، اجتماعی افطاری کے روح پر ور اور ایمان افروز مناظر دل و نگاہ کی دنیا میں اخوت و محبت کی جوت جگاتے ہیں۔ غرض ہر پہلو سے اس مینےسے ایمانی زندگی کو جلا ملتی ہے۔ کسی عالم دین نےکیا سچ کہا ہے کہ اگر کسی مسلمان آبادی کے بارے میں اندازہ لگانا ہو کہ یہ زندہ ہے یامردہ تو ماہ صیام کے تئیں اس کا رویہ دیکھو۔الحمد للہ ابھی تلک کی صورت حال یہی ہے کہ مسلمان جہاں جہاں آباد ہیں وہاں ماہ رمضان کریم کی سعادتیں نظر آجاتی ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ اچانک ساری دنیا ہی بدل گئی ہے۔ لیکن کہا جاتا ہے کہ جہاں نیکی اوراچھائی ہے وہیں پربرائی اور بدی بھی ہوا کرتی ہے۔ آخر اللہ تعالیٰ نے شیطان مردود کو قیامت تک کےلئے مہلت اور آزادی دے رکھی ہے اور وہ کیونکر نیکیوں کی فصل بہار میں برائیوں کا موسم خزاں لانے کی کوششیں نہ کرے۔
ماہِ رمضان یقیناً ماہ ِمساوات ہے جس میں دنیا بھر کے مسلمان بدنی عبادات کے ساتھ ساتھ مالی عبادات میں مشغول ہوجاتے ہیں۔ ویسے بھی دین اسلام کی تعلیمات میں توحید و صلوٰۃ کے بعد جس عبادت کو سب سے زیادہ اہمیت دی گئی ہے وہ انفاق فی سبیل اللہ یا عرف عام میں صدقات و خیرات کرنا ہی ہے۔ یہ بھی ایک مسلّم حقیقت ہے کہ اسلام بھیک مانگنے اور ہاتھ پھیلانے کے عمل کی ممکن حد تک تحقیر و توبیخ کرتا ہے۔’ دینے والا ہاتھ لینے والے ہاتھ سے بہتر ہے‘ اور’ قیامت کے دن ہاتھ پھیلانے والوں کے چہروں پر گوشت نام کی کوئی چیز نہ ہوگی‘ جیسی بے شمار نبویﷺ احادیث اسی مسلّمہ حقیقت کی جانب اشارہ کرتی ہیں۔ دین اسلام میں دھوکہ دہی،فریب اور مکاری کو بھی قبیح ترین اعمال میں سے گنا ہے ۔’جو دھوکہ کرے گا وہ ہم میں سے نہیں ہے‘ کا فرمان مصطفویﷺ اس کی واضح مثال ہے۔ ان سبھی فرمودات اور اصولوں کو ملحوظ رکھیں اور پھر اپنے سماج پر نظر دوڑائیں تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اجتماعی طور پرہمارا سماج ا ن زریں اصولوں کی نفی میں کھڑا ہے ۔ یہاں گداگری، دھوکہ دہی، فریب و مکر کو نت نئے انداز اور اصولوں کے ساتھ مزین کردیا گیا ہے اور کون مستحق ہے کون نہیں ہے کی تمیز کرنا کسی بھی عام انسان کےلئے ممکن نہیں رہا ہے۔ کچھ روز قبل کی بات ہےکہ میںسڑک پر چل رہا تھا جہاں اسکول بیگ اور وردی میں ملبوس آٹھویں یا نویں جماعت کی چار پانچ بچیاںبھی چل رہی تھیں ۔ان پانچ بچیوں کو ایک غیر ریاستی بھکاری بچی نے گھیر لیا تھا۔ یقین کیجئے میں مداخلت نہ کرتا تو یہ اکیلی بچی جو ان سے عمر میں کافی کم تھی انہیں دو قدم بھی آگے بڑھنے نہیں دے رہی تھی۔ یہ ہے حال ہمارے سماج کا کہ جہاں آپ اور آپکے بھال بچے سب بھیک مانگنے والے گداگر وں کی رحم و کرم پر ہیں اور اس پر مستزاد یہ کہ کوئی پوچھنے والا نہیں ۔
اسی پس منظر میں مسلم آبادیوں میں یہ ایک پائیدار روایت بن چکی ہے کہ آمد صیام کے ساتھ ہی ایک طرف فلاحی انجمنیں، خیراتی ادارے، یتیم خانے اور دار العلوم اپنی چندہ مم شد ومد سے شروع کر دیتے ہیں ، دوسری طرف پیشہ ور گداگروں کی فوجیںبھی متحرک ہو کر ہر مسجد ہر معابد، ہر بستی ہر بازار کے اندر لوگوں کے سامنے دستِ سوال دراز کر کر کےگویا جیب کتری میں مشغول ہو جاتے ہیں۔برسوں پہلے ہماری وادی کے ایک سیاسی و سماجی انسان نے ایک جگہ تقریر کرتے ہوئے کہا تھا کہ کشمیر کے لوگ سالانہ کروڑوں روپے دار العلوموں اور دینی اداروں کو بطور صدقہ یا چندہ دیتے ہیں۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ دارالعلوموں اور دینی اداروں کی ضرورت اور پھر ان کے اخراجات وغیرہ پر کوئی کلام نہیں ہےمگرسوال یہ ہے کہ کروڑوں اربوں روپے خرچ کرکے یہ ادارے اس معاشرے اور سماج کو کیا واپس دیتے ہیں۔اگر بالفرض یہی روپیہ پیسہ یا اس کا ایک حصہ یہ قوم و ملت کسی ایسے ادارے یا اداروں جہاں دین کی بنیادی تعلیمات کے ساتھ ساتھ جدید سائنسی علوم سے بچوں اور طلاب کو آراستہ کرنے کا کام کیا جائے تو سوچئے ہر برس ہمیں کتنے نئے مسلم دین پسند سائنس داں، ڈاکٹر،انجینئر،پروفیسر اور دوسرے علوم کے ماہرین ملیں گےجو اس قوم و ملت کی نیا کو پار لگانے کا کام کریں گے۔
حیران کردینے والی بات یہ ہے کہ گداگری اور اداروں کے نام پر چندہ جمع کرنے کا یہ سلسلہ متحدہ عرب امارات ، امریکہ، برطانیہ اور یوروپ تک پھیلا ہوا ہے ۔ یہی نہیں صدقہ و خیرات اور کھلے دل کا مظاہرہ کرنا چونکہ ہمارے دین کی بنیادی تعلیمات کا حصہ ہے اسلئے بھارت، پاکستان یایا عرب ممالک کو چھوڑ کراگر ہم امریکہ برطانیہ اور پوروپ میں مسلمانوں کی جانب سے چندے اور صدقے میں دی جانے والی رقومات کے اعداد و شمار کو ہی دیکھتے ہیں تو دھنگ رہ جاتے ہیں۔ اگر ہم صرف برطانیہ کے مسلمانوں کی بات کریں تو ایک رپورٹ کے مطابق برطانوی مسلمان بڑے پیمانے پر خیراتی کام کرتے ہیں اور وہ یورپ کے فراخ دل لوگوں میں شامل ہیں۔ گزشتہ دنوں منظر عام پر آنے والی ایک سروے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ برطانوی مسلمان سالانہ تقریباً ایک ارب پاؤنڈ خیرات میں دیتے ہیں جو کہ دس ہزارکروڑ روپے سے زیادہ ہے۔ لندن میں قائم تھنک ٹینک، آیان انسٹی ٹیوٹ کی طرف سے شائع ہونے والی ایک تحقیقی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ برطانیہ کی مسلم انسانی فلاحی تنظیموں نے 2020میں مختلف اسباب کے لیے 708ملین پاؤنڈ اکٹھے کیے ہیں۔ رمضان کا مہینہ، پورے یورپ اور خاص طور پر برطانیہ میں خیراتی کاموں میں ایک بڑا حصہ دار ہے۔ ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ برطانیہ کے مسلمان اس ماہ اوسطاً130ملین پاؤنڈز خیراتی کاموں میں دیتے ہیں۔ عطیات کی اتنی بڑی توقع ہے کہ چیریٹی کمیشن برائے انگلینڈ اور ویلز نے ایک ایڈوائزری جاری کی۔ مارچ کے اوائل میں ویلز کے شہزادے اور شہزادی ولیم اور کیتھرین نے ترکی اور شام میں آنے والے زلزلوں کے متاثرین کی امداد کے لیے ریکارڈ فنڈز جمع کرنے پر برطانوی مسلمانوں کی تعریف کی۔ شاہی خاندان، شہزادی کے ساتھ اسکارف پہنے ہوئے، ہیز مسلم سینٹر کا دورہ کرنے والے رضاکاروں کا شکریہ ادا کرنے کے لیے گئے جنہوں نے چند گھنٹوں میں 30ہزارپاؤنڈز اکٹھے کیے تھے۔یہ ایک نمونہ ہے مسلمانوں کے خیرات و صدقات کا جس میں تمام تر خامیوں اور کمزوریوں کے باوجود الحمد للہ ہم کسی سے کم نہیں ہیں ۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر اتنی فراخ دل قوم و ملت میں یہ جھوٹے، فریبی، دھوکہ باز کہاں سے پیدا ہوتے ہیں جو مساجد، معابد، دارالعلوموں ،مہلک بیماریوں اور حادثات کے نتیجے میں تباہ ہونے والے لوگوں کے نام پر لوگوں کی جیبو ں پر ڈاکہ رہتے ہیں۔ پھر یہ بھی سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر رمضان المبارک میں ہی یہ مشروم گروتھ کیوں نظر آتی ہے۔ دارالعلوموں اور دیگر خیراتی اداروں کو یک بہ یک ماہ مبارک میں ہی چندہ جمع کرنا کیوں یاد آتا ہے ؟سوال یہ بھی ہے کہ دار العلوموں، فلاحی اداروںیا بیماروں کے نام پر چندہ مانگنے والے سبھی سفیر قابل بھروسہ بھی نہیں ہوتے بلکہ بسا اوقات جن دار العلوموں اور خیراتی اداروں کے نام پر چندہ ہوتا ہے وہ صرف کاغذی گھوڑے ہوتے ہیں اور ان کا عالم وجود میں کوئی اتہ پتہ نہیں ہوتا۔ یہاں مجھے اپنے ایک ساتھی کی تحریر کی ہوئی سطور یاد آرہی ہیں جن میں موصوف نے لکھا تھا کہ ’’ ہمارے یہاں ہی نہیں بلکہ یورپ میں بھی خیراتی اداروں کی بھر مار ہے ، ان کو چلانے والے اکثر منکرین خدا ہوتے ہیں جو آخرت کی باز پرس کا کوئی نظریہ نہیں رکھتے ، اس کے باوجود ان کے رفاہی ادارے درست خطوط پر اور صحیح جذبوں کے ساتھ کام کرتے ہیں ،ان میں کوئی ہیرا پھیری ہونے کا سوال ہی نہیں ہو تا ۔نہ یہ ادارے جعلی ہوتے ہیں اور نہ ان کے یہاں اونچی دوکان پھیکی پکوان والا معاملہ ہوتا ہے۔ غیر مسلم ہونے کے باوجود یہ رضاکار مشنریاں جس خلوص، دیانت داری اور لگن سے سماجی خدمات انجام دیتی ہیں ، وہ قابل رشک بھی ہے اور لائق تقلید بھی۔‘‘
اسلامی تعلیمات کے لحاظ سے یہ ساری خصوصیات اُمت مسلمہ کا طرز عمل ہونا چاہئے مگر افسوس کے ساتھ لکھنا پڑتا ہے کہ ہم اس محاذ پران مغربی اداروں کی خاک کو بھی نہیں پہنچ سکتے۔ اللہ عزوجل کی طرف سے اس اُمت کو ایک خاص حیثیت دمنزلت عطا کی گئی ہے اور انہی معنوں میں قوموں کی برادری میں اسے خیر الامت اور اُمت وسط کے طور متعارف کیا گیا ہے۔ اس رتبہ عالیہ کا تقاضا یہی ہے کہ اللہ کے پر اسرار بندے کار کشاہ کار آفریں اور کار ساز ہوں ، یہ ید علیا یعنی اوپر والا ہا تھ بنیں، یہ قطعی طورید سفلی یا نیچے والا ہاتھ نہ بنیں۔ اس کے بجائے جب رمضان کے شروع سے لے کر اختتام تک بلکہ عیدین کے مواقع پر آپ کو ہر طرف بھک منگوں کے لشکر نظر آئیں تو آپ غیرت و حمیت کے حامی اور محنت و جفاکشی کے داعی اسلام کے بارے میں کیا رائے قائم کریں گے ؟ وہ اسلام جو غربت کو غیرت سے جوڑتا ہے اور امارت کو سعادت سے مشروط کرتا ہے، اس کی خوب صورتی کو صیام میں بھک منگوں سے کیوں گہن لگ جاتا ہے ؟
ماہ صیام ہمارے اعمال کی درستگی کےلئے آتا ہے۔ ہم سبھی یکسوئی کے ساتھ اس مہینے کی برکات اور فیوض سے مستفید و مستفیض ہونا چاہتے ہیں لیکن جب آپ کی گلی میں دن بھر لائوڑ اسپیکر لگائی گاڑیاں،لاریاں، آٹو اور ریڈیاں گھومتی پھرتی رہیں تو یکسوئی اور تنہائی جو حشر ہونا ہوتاہے ہوجاتا ہے۔ آپ کے دروازے پر جب وقت بے وقت گھنٹیاں بجتی ہیں تو کون ہے جو چین سے رہ پائے گا۔ اس سارے معاملے میں ایک اور بات جو بہت خطرناک اور معاشرتی ناسور ہے وہ یہ ہے کہ جوان لڑکیاں اور عورتیںگھر گھر پھرتی نظر آتی ہیں اور لوگوں سے مختلف ناموں پر مدد طلب کرتی رہتی ہیں۔ یہ بھی ایک بری روایت ہے کہ اکثر اداروں کے سفراء اور چندہ جمع کرنے والے ان اوقات میں جب کہ گھروں کے اندر اکثر خواتین یا بچے ہی ہوتے ہیں آٹپکتے ہیں ۔ایسا ممکن ہے ان میں سے بعض مجرم ذہن ہوں جن کی و جہ سے لوگوں کی زندگیوں اور گھروں کو بھی خطرہ لاحق پہنچے۔یہ بھی ایک مسلّم حقیقت ہے کہ کشمیر کے اکثر علاقوں کے اندر مساجد اور انکے ساتھ بیت المال کمیٹیاں قائم ہیں جو حتی الوسع غرباء،مساکین ،یتامیٰ اور دوسرے ناداروں کی مدد کرتے رہتے ہیں۔ راقم ایسے ہی کئی اداروں سے واقف ہیں جو اس ضمن میں بہت اعلیٰ کام کررہے ہیں۔ مذید بر آں یہ کہ سرکاری سطح پر بھی ضرورت مندوں، ضعفاء و مساکین،بیوائوں وغیرہ کےلئے وظائف اور مراعات کا ایک سلسلہ موجود ہے جہاں سے اس قسم کے لوگ کسی نہ کسی حد تک مستفید ہوتے رہتے ہیں۔اس کے باوجود گاڑیوں پر لائوڈ اسپیکر سجائے،چندہ جمع کرنے والوں کی بھرمار ہے جن کے بارے میں ایک عمومی رائے یہ ہے کہ ان میں سے اکثر نے اس فلاحی و عوامی بہبود کے کام کو ایک منافع بخش دھندہ بنا دیا ہے۔ یہ کتنے شرم اور افسوس کی بات ہے۔ جس معاشرے میں کھلے بندوں خیر خواہی کےکام کو دھندہ بنادیا جائے تو ایسے معاشرے کی تباہی کو کون روک سکتا ہے۔
ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ لوگ مستند اداروں اور ضرورت مندوں کے پاس خود جاکر ان کی مدد کرتے یا پھر کم از کم مساجد کی حد تک اس کام کو محدود کردیا جاتا لیکن معاملہ اس کے برعکس ہے ۔رب کائنات اس ماہ ِ مبارک میں اپنے بندوں کو تائب ہونے کا موقع فراہم کرتا ہے، انہیں اپنے خاص فضل و کرم سے تزکیہ نفس کے لئے آمادہ کرتا ہے ، انہیں اخوت و نیک عملی کی مالا میں پر وتا ہے، لیکن عجیب یہ کہ اس مہینے میں ہزاروں یتیم خانے اور دار العلوموں کے سفیر مشروم گروتھ کی ماند جابجا نمودار ہوتے ہیں۔ اکثر و بیش تر ان سفیروں کے بارے میں خیرات و صدقات دینے والے لوگوں کو وثوق نہیں ہوتا کہ آیا یہ امانت دار ہیں، قابلِ اعتمادہیںیا نہیں۔ زیادہ تر ان سفراء کی کوئی مستند شناخت بھی نہیں ہوتی سوائے اس کے کہ ہاتھ میں رسید بکس اور اس پر چھپا کوئی ایڈریس۔ اوّل تو ان کے پاس کسی بڑے ادارے کی کوئی تصدیقی سند نہیں ہوتی ، دوم کوئی اپنی نماز یا دیگر معمولات چھوڑ کر ان کی پوچھ تاچھ کرنے لگ جائے یہ بھی کار دار والا معاملہ ہے۔ روناتو اس بات کا ہے بھکاریوں کے اس ٹڈی دل کے سبب وہ اصل مستحقین اور لاچار لوگ ہماری معاونت سے محروم رہ جاتے ہیں جن کی ایک ترتیب قرآن کریم میں مصارف زکوٰۃ کے حوالے سے درج ہے۔ گداگری ایک لعنت ہے جو بد قسمتی سے ہمارے معاشرے میں تیزی سے پھیلتی جارہی ہے۔اب گداگری نے باقاعدہ ایک پیشے کی شکل اختیار کرلی ہے۔ یہ افراد کے اندر غیرت و حمیت کو ختم کر دیتی ہے۔ محنت اور کام کرنے کی صلاحیت برباد کر دیتی ہے، قوم کی ذہنی صلاحیتوں کو یکسر موقوف کردیتی ہے، اقوام اور افراد میں سستی، سہل پسندی اور دولت کی ہوس بڑھ جاتی ہے۔ اخلاقی اور نفسیاتی جرائم عام ہو جاتے ہیں انسان گھٹیا اور ذلیل عادات کا غلام ہو جاتا ہے۔ پھر جب گداگری کا یہ دھندہ گاڑیوں اور لاریوں میں ہونے لگ جائے تو اس کی قباحت اور بڑھ جاتی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ سبھی اقسام کی گداگری کو روکنے کےلئے عوامی سطح پر بیداری لائی جائے تاکہ اصل حق داروں کا حق محفوظ رہے اور خلق خدا کا خیر و بھلا ہو۔









