کئی دہایئوں سے تشدد اور انتشار میں مبتلا ہونے کے باوجود کشمیر کی وادی کو یہ شرف حاصل رہا ہے کہ یہاں انسانیت اور انسانی اقدار کلّی طور پر معدوم یا مفقود نہیں ہوئے تھے لیکن حالیہ ایام میں کچھ دلدوز واقعات اور حدثات نے اس مثبت تاثر کو کسی حد تک نقصان پہنچانے کا کام کیا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ آپ جو کچھ دیکھتے، سنتے یا پڑھتے ہیں اس کا اثر دل و دماغ پر ہونا لازمی ہے ۔ پھر یہ بھی ایک لابدی حقیقت ہے کہ یہ انفرادی نوعیت کے نفوس ہی ہیں جو مل کر ایک معاشرے کو تشکیل دیتے ہیں اور اگر انفرادی نوعیت کا انسان وحشی پن کی جانب مائل ہوجائے تو معاشرہ بھی بحیثیت مجموعی وحشی پنے کا شکار ہوکر رہ جاتا ہے۔ معروف شاعرہ زہرا نگارؔ نے کہا تھا ’’سنا ہے جنگلوں کا بھی کوئی دستور ہوتا ہے‘‘،اور جب شہروں ،قصبوں اور انسانی بستیوں کے اندر سے جنگل کا قانون بھی مفقود ہوجائے تو انسانی معاشرہ جنگل سے بھی زیادہ وحشت ناک ہوجاتا ہے۔
اعداد و شمار اور تحقیقات کے مطابق حالیہ برسوں کے دوران جموں و کشمیر میں منشیات کے استعمال میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ منشیات کے بے دریغ استعمال کے نتائج سے متعلق جاننا ہو توحال ہی میں کشمیر میںکچھ نوجوانوں کی جانب سے نشے کی حالت میں جرائم کرنے کے جو واقعات سامنے آئے ہیں۔ان کا جائزہ لینا کافی ہوگا۔ سوپور میں نشہ آوربیٹے کے ہاتھوں ماں کے قتل کا واقعہ ہو یا سرینگر کے ایک سخت سیکورٹی والے علاقے میں چند نشئی نوجوانوں کی جانب سے ایک سیاح کا بیگ چھین لینے کا واقعہ جو دن دھاڑے کیا گیا ‘اسی حقیقت کے غماز ہیں۔ قبل ازیں اسی طرح کا ایک واقعہ بھی پیش آیا تھا جب ضلع اننت ناگ میں ایک نوجوان نے اپنی والدہ اور دیگر تین افراد کے سروں پر لاٹھی سے وار کرکے انہیں ہلاک کر دیاتھا۔ دونوں نوجوانوں کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ جرم کا ارتکاب کرتے وقت وہ نشے کی حالت میں تھے۔
ایک جانب سے منشیات اور ممنوعہ ادویات کے کاروبار کی توسیع ہے تو دوسری جانب اس کے خلاف پولیس، آرمی، پیراملٹری کی کاروائیاں ۔انسان یہ بات سمجھنے سے قاصر نظر آتا ہے کہ آخر حکام کی جانب سے اتنی سختیاں برتنے کے باوجود بھی یہ گورکھ دھندا کیوں تھمنے کا نام نہیں لے رہا ۔
حال ہی میںشائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق نئی دہلی کے آل انڈیا انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کے نیشنل ڈرگ ڈیپنڈنس ٹریٹمنٹ سینٹر کے ذریعے کرائے گئے ایک سروے کے مطابق جموں وکشمیر میں نشے کے عادی افراد کی تعداد تقریباً 10لاکھ ہے۔ یہ اس کی کُل ایک کروڑ36لاکھ آبادی کا سات اعشاریہ35فی صد ہے۔جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے رکن پارلیمان جسٹس (ر) حسنین مسعودی کی طرف سےپوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں وزارتِ انصاف و تفویضِ اختیارات نے حال ہی میں لوک سبھا میں بتایا تھا کہ علاقے میں ایک لاکھ آٹھ ہزار مرد اور سات ہزار خواتین بھنگ کااستعمال کرتی ہیں جب کہ پانچ لاکھ34 مرد اور آٹھ ہزار خواتین افیون اور ایک لاکھ60ہزار مرد اور آٹھ ہزار خواتین مختلف اقسام کی نشہ آور اشیا کے استعمال کے عادی بن گئے ہیں۔سروے کیے گئے ایک لاکھ27ہزار مردوں اور سات ہزار خواتین کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ وہ دم کش ادویات لیتے ہیں اور ان میں بڑی تعداد کوکین اور اعصابی نظام کو متحرک کرنے والی ایمفٹامین قسم کی ادویات اور ہیلو سینوجنز کی کیمیائی مُرکبات استعمال کرنے کے عادی ہیں۔ حکومت ہند کی طرف سے سال 2021ءمیں جاری کیے گئے اعداد و شمار میں کہا گیا تھا کہ کھپت کے سروے کے مطابق علاقے میں چھ لاکھ افراد منشیات سے متعلق مسائل سے متاثر ہیں ۔ اس سرکاری رپورٹ کے مطابق منشیات کا استعمال کرنے والوں میں 90فی صد17ے33 برس کی عمر کے افراد تھے۔
ادھرحکومت نے اعتراف کیا ہے کہ منشیات کے استعمال کے خطرے نے جموں و کشمیر کے طول و عرض کو اپنی گرفت میں لے لیا ہے۔ سرینگر میں پولیس حکام نے بتایا ہے کہ وہ منشیات کے بڑھتے ہوئے استعمال کے پیش نظر اس کے خلاف مہم میں شدت لائے ہیں اور ان کا کاروبار کرنے والوں کو سخت گیر قانون پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت قید کرنے کے عمل کو وسیع کر دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ 2022 ء میں تقریباً ایک ہزار سات منشیات فروشوں کو گرفتار کیا گیا تھا اور رواں برس کے پہلے تین ماہ کے دوران ایسے 300 سے زائد افراد کے خلاف نشہ آور ادویات کی غیر قانونی اسمگلنگ کو روکنے سے متعلق ایکٹ اور دوسرے قوانین کے تحت مقدمات درج کرکے انہیں گرفتار کیا گیا ۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر اس شدت کے ساتھ چلائے جانی والی انسدادی مہم کا نتیجہ کیونکر برآمد نہیں ہورہا ہے۔ اس سے قبل دیکھا گیا ہے کہ انتشار و تشدد کی زد میں رہنے والے پنجاب میں بھی نوجوانوں کی بڑی تعداد منشیات کی لت میں پڑ گئی ہےاور وہاں حالت یہ ہے کہ آج منشیات کی روک تھام اور نوجوانوں کو اس لت سے نجات دلانا ایک انتخابی وعدہ بن چکا ہے۔ وادی اور پنجاب میں نشے کی اس لت اور منشیات کی خرید و فروخت کے کاروبار میں توسیع کےلئے حکام پاکستان کو ذمہ دار قرار دیتے ہیں۔ پولیس اور دوسری ایجنسیوں نے تو منشیات کی نقل و حرکت اور خرید و فروخت کو نارکو ٹریرزم (منشیاتی دہشت گردی ) کا نام دے کر اس کا قلع قمع کرنے کا عزم بارہا ظاہر کیا ہے۔ حالیہ برسوں کے دوران متعلقہ افسران کے ایک اجلاس کے دوران آگاہ کیا گیا تھا کہ کشمیر اور گولڈن کریسنٹ کے مابین چوں کہ جغرافیائی قربت ہے۔ اس لیے افغانستان سے پاکستان اور اس کے زیرِ انتظام کشمیر کے راستے جموں و کشمیر میں افیون اور دوسری منشیات کی غیر قانونی نقل و حمل کی جاتی ہے۔ایک حالیہ سرکاری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغانستان دنیا کی80فی صد افیون پیدا کرتا ہے اور اسے منشیات کی غیر قانونی تجارت کا سب سے بڑا ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔رپورٹ کے مطابق گزشتہ چند برسوں میں افیون کی زیادہ کاشت کے باعث تمام بِمسٹیک ممالک میں، جن میں بھارت، بنگلہ دیش، نیپال، سری لنکا، بھوٹان، میانمار اور تھائی لینڈ شامل ہیں، ہیروئن کی کھپت میں اضافہ ہوا ہے ۔بھارتی حکام الزام لگاتے ہیں کہ اسمگلرز متنازع کشمیر کو تقسیم کرنے والی حد بندی لائن اور دیگر سرحدی راستوں سے افیون اور دیگر منشیات بھارت پہنچاتے ہیں۔ حالیہ برسوں میں اس طرح کی غیر قانونی سرگرمیاں سب سے زیادہ جموں و کشمیر میں دیکھی گئی ہیں۔
کچھ عرصہ قبل جموں وکشمیر پولیس سربراہ دلباغ سنگھ نے کہا تھا کہ سرحد پار سے گولہ باری کی آمد رک گئی ہے۔دراندازی کی نسبتاََ کم کوشش کی جا رہی ہے البتہ بدقسمتی سے منشیات کی اسمگلنگ اور دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ عسکریت پسند گروہ لشکرِ طیبہ اور جیشِ محمد جموں و کشمیر کے مختلف حصوں میں ہتھیاروں اور نشہ آور ادویات گرانے کے لیے ڈرون کا بھی استعمال کر رہے ہیں۔
اعلیٰ حکام الزام لگاتے ہیں کہ اکتوبر 2008میں کشمیر کے دونوں حصوں کے درمیان بارٹر سسٹم یعنی اشیا کے بدلے اشیا کے حصول کے نظام کو کسٹم سے پاک تجارت کو بھی منشیات کی اسمگلنگ کے لیے استعمال کیا گیا۔بھارت کی وزارتِ داخلہ نے اپریل2019 ءمیں یہ الزام لگا تھا کہ پاکستان میں موجود چند عناصر تجارتی راستوں کا غلط استعمال کر رہے ہیں اور اس کے بعد کراس ایل او سی تجارت کو تا حکمِ ثانی معطل کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔بھارت کی وزارتِ داخلہ نے کہا تھا کہ دو طرفہ تجارت سخت ریگولیٹری نظام کے قیام تک بند رہے گی اور دعویٰ کیا تھا کہ کراس ایل او سی تجارت کو معطل رکھنے کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ اس طریقۂ کار کے ذریعے جموں و کشمیر کے لوگوں کے فائدے کے لیے کنٹرول لائن کے آر پار صرف جائز تجارت ہو۔پاکستانی حکام نے بھارت کے الزام کی تردید کی تھی اوردو طرفہ تجارت بند کرنے کے فیصلے کو یک طرفہ قرار دیا تھا۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ کئی برس گزرنے کے باوجود یہ دوطرفہ تجارت بند ہے لیکن اس کے باوجود بقول سیکورٹی حکام منشیات اور غیر قانونی ادویات کی سمگلنگ کا سلسلہ کم ہونے کے بجائے بڑھ چکا ہے اور جموں کشمیر کے نوجوانوں کے اندر اس کی کھپت میں بھی ہوش ربا اضافہ ہورہا ہے۔
مختلف رپورٹوں کے مطابق ماہرینِ نفسیات اور مبصرین کشمیر میں منشیات کے استعمال میں اضافے کی وجہ خطے میں کئی دہائیوں سے جاری تشدد اور بدامنی جب کہ اس کے نتیجے میں نوجوانوں میں بے روزگاری، محرومیوں اور مایوسی کو قرار دیتے ہیں۔اس ضمن میں کچھ عرصہ قبل بات کرتے ہوئے معروف تجزیہ کار اور دانشورپروفیسر نور احمد بابا کہتے ہیں کہ نوجوان نسل کئی طرح کے مسائل اور الجھنوں سے دوچار ہے جن میں روزگار کا مسئلہ سب سے زیادہ بڑا ہے۔ وہ مایوسی کا شکار ہیں اور پھر اس عالم میں غلط کاموں کی طرف مائل ہو رہے ہیں۔ماہرِ نفسیات ڈاکٹر عبدالوحید خان کہتے ہیں کہ منشیات سے متاثرہ جو مریض ان کے پاس علاج کے لیے آتے ہیں یا لائے جاتے ہیں اُن کی اکثریت کی عمریں 18سے 35برس کے درمیان ہوتی ہیں۔ان کا مذید کہنا ہےکہ ان میں سے چند نے منشیات کا شوقیہ استعمال شروع کیا تھا البتہ بعد میں انہیں اس کی لت پڑ گئی۔ ان کے مطابق اکثر مریض مختلف وجوہات کی وجہ سے مایوسی اور محرومیوں سے اس راہ پر چل پڑتے ہیں۔ایک اور ماہرِ نفسیات ڈاکٹر مشتاق مرغوب کہتے ہیں کہ کشمیر کے لوگ گزشتہ تین دہائیوں سے ذہنی دباؤ، مایوسی، ناامیدی اور افسردگی کے ماحول میں زندگی بسر کر رہے ہیں ۔ تاہم باہمی سماجی تقریبات، میل ملاپ اور آپس میں دکھ اور خوشیاں بانٹنا اس کے اثرات کو بڑی حد تک زائل کرتے تھے لیکن بوجوہ یہ سارا سلسلہ تقریباََ مکمل طور پر رُک گیا جس سے صورتِ حال مزید بگڑ گئی ہے۔جموں و کشمیر حکام کے مطابق اس ساری صورتِ حال سے مؤثر طریقے سے نمٹنے کے لیے حکومت نے ایک جامع منصوبہ تیار کیا ہے جس کے تحت اینٹی نارکوٹکس ٹاسک فورس، ایکسائز اور زراعت کے محکموں کے ساتھ مل کر کشمیر میں افیون اور چرس کی کاشت کے خلاف مہم چلائی جارہی ہے اور کنٹرول لائین و سرحد پار سے منشیات کی سمگلنگ کو روکنے کےلئے بھی کوششیں جاری ہیں ۔
بہرحال سول اور پولیس حکام منشیات کے فروغ و انسداد کے ضمن میں جو کچھ کررہے ہیںوہ اپنی جگہ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے اس ضمن میں کشمیری سماج ،ہماری محلہ کمیٹیاں ،علمائے کرام، سماجی و مذہبی جماعتیں کیا کررہی ہیں۔ کیا ان کی کچھ ذمہ داریاں نہیں ہیں اور اگر ہیں تو کیا یہ ذمہ داریاں نبھائی جارہی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اب یہ مسئلہ خطرناک حد تک پہنچ گیاہے اور ہم بحیثیت مجموعی منشیات کی اسمگلنگ کرنے والوں ، اس کو فروخت کرنے والوں ، اس کو استعمال کرنے والوں اور خاص طور پر ان عوامل کہ جو اس صورت حال کےلئے ذمہ دار ہیں کو کب تک نظر انداز کرتے رہیں گے۔ کیا اس وبا کو روکنے اور اپنی نئی نسل کو مکمل تباہی سے بچانے کےلئے ہمیں تعمیری اور مثبت اقدامات نہیں اٹھانے چاہیے۔ کیا علمائے کرام ، مبلغین عظام، دینی و سماجی قائدین اور جماعتیں موجودہ تباہ کن صورت حال میں مجرمانہ خاموشی اختیار کرنے کا جرم کرسکتے ہیں ۔ ہمیں بحیثیت ایک ملت و قوم اس پرغور کرنا پڑے گا۔ہمیں اس حساس مسلئے کے لئے جنگی خطوط پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمارے پاس ہر محلے میں مسجد ہے اور اس کے ذریعہ ہم سارے کمیونٹی کے قریب جاسکتے ہیں اور اس صورت حال پر قابو پایا جاسکتا ہے ۔بقول شاعر ؎
ہمیں خود ناخدا بننا پڑے گا اپنی کشتی کا
سہاروں کا بھروسہ کیا سہارے چھوٹ جاتے ہیں











