• Policy
  • Contact Us
  • About Us
  • Home
ePaper
پیر, جنوری ۲۶, ۲۰۲۶
Ummat News
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر
No Result
View All Result
Ummat News
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر
No Result
View All Result
Ummat News
No Result
View All Result
جموں و کشمیر میں مرکزی حکومت کے  پانچ سال مکمل۔۔۔

بجلی کے وسائل سے مالا مال،جموں و کشمیر کے عوام اندھیرے میں کیوں؟

رضوان سلطان

by امت ڈیسک
22/06/2023
A A
Share on FacebookShare on TwitterWhatsappTelegramEmail

جموں وکشمیر کی سیاست میں کب کیا ہو کسی کو پتہ نہیں لیکن اسی طرح سے وادی کشمیر کا موسم کب اپنا مزاج بدلے کسی کو پتہ نہیں۔دو ہفتے قبل جہاں وادی میں بارشیں رُکنے کا نام نہیں لے رہی تھی وہیں آج گرمی نے عوام کا حال بے حال کر دیا ہے!وادی کشمیر میں گرمی کا زور جاری رہتے ہوئے رواں موسم کا اب تک کا گرم ترین دن ریکارڈ ہوا ہے۔بدھ کے روز سرینگر میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 34ڈگری درج کیاگیا۔لیکن دوسری طرف سے گرمی کے زور کے بیچ وادی میں بجلی کی کٹوتی عروج پر ہے جس سے صارفین میں کافی غصہ پایا جا رہا ہے اورہر روز کسی ضلع سے بجلی کٹوتی کے خلاف احتجاج کی خبریں بھی سامنے آرہی ہیں۔

ایک طرف جہاں انتظامیہ کی جانب سے بہتر بجلی کی فراہمی کےلیے اسمارٹ میٹرز نصب کیے جا رہے ہیں تاہم وہیں دوسری طرف سے بجلی میں تخفیف کا سلسلہ کئی ہفتوں سےجاری ہے۔بجلی کے وسائل سے مالا مال ہونے کے باوجودیہاں ہر سال سرما میں آٹھ سے دس گھنٹے بجلی کٹوتی کا شیڈول جاری کیا جاتا ہے۔لیکن اب رواں موسم گرما میں غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ سے لوگ پریشان ہیں کیوں کہ ایک طرف جہاں گرمی سے لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے وہیں دوسری طرف سے بجلی پر چلنے والی کارخانوں کو خاصے نقصان سے دوچارہوناپڑرہا ہے۔

انتظامیہ کی جانب سے بلند بانگ دعووں کے باوجوداطلاعات کے مطابق 25فیصد بجلی کی کٹوتی کی گئی ہےاور یہ کٹوتی صرف کشمیر میں ہی نہیں بلکہ جموں میں بھی کی گئی ہے تاہم وہاں زیادہ درجہ حرارت کو دیکھتے ہوئے کشمیر کے مقابلے میں کم کٹوتی ہوئی ہے۔یہ کٹوتی مرکز کی جانب سے فراہم کی جانے والی بجلی میں سے کی گئی ہے۔

حکومت کا دعویٰ ہے کہ بجلی کی بلا خلل فراہمی کے لیے سمارٹ میٹرز نصب کیے جا رہے ہیں۔ چیف سیکرٹری ارون کمار مہتا کی سربراہی میں گزشتہ سال ہوئی ایک میٹنگ میں انہیں مطلع کیا گیا تھا کہ یوٹی میں 21 لاکھ سے زیادہ اسمارٹ میٹر لگائے جائیں گے تاکہ یہاں کے بجلی کے شعبے میں خاطر خواہ تبدیلی لانے کے ساتھ ساتھ یہاں کے صارفین کو 24 گھنٹے بجلی کی سپلائی فراہم کی جاسکے۔اسوقت سرینگر کے کئی علاقوں میں اب تک ایک لاکھ کے قریب سمارٹ میٹرز صارفین کی سخت مزاحمت کے بیچ نصب کیے جا رہے ہیں۔کیوں کہ سرینگر کے کئی علاقوں میں سمارٹ میٹرز کے خلاف احتجاج کیے جا رہے ہیں۔وہیں لوگوں کا کہنا ہے کہ انکے گھروں میں پہلے ہی میٹرز نصب ہیں اور وہ 1500سے دوہزار روپے ماہانہ ادا کر رہے ہیں لیکن اب سمارٹ میٹرز کے بعد وہ زیادہ بل ادا نہیں کر سکتے کیوں کہ ان کے پاس اتنے زرائع آمدنی نہیں۔دوسری طرف سے انتظامیہ کی جانب سے سمارٹ میٹر نصب کرنے کا سلسلہ تیز کیا جا رہا ہے۔رواں سال ڈپٹی کمشنر سرینگر اعجاز اسد نے کہا کہ متعلقہ کمپنی کی جانب سے اکتوبر 2023تک سوا دو لاکھ سمارٹ میٹرز لگائے جائیں گے۔

سمارٹ میٹرز لگانے کی ایک اور وجہ یہ بھی بتائی جارہی ہے کہ جموں وکشمیر یوٹی کے اپنے پاور پلانٹس سے اتنی بجلی کی پیداوار نہیں ہوتی جتنی ضرورت ہوتی ہے اس لیے مرکزی سرکار جموںو کشمیر کو سالانہ لگ بھگ 6000 کروڑ کی بجلی فراہم کرتی ہے۔اعدادوشمار پر نظر ڈالیں تو 2018سے2020کے درمیان جموں وکشمیر انتظامیہ نے بجلی خریدنےکی مد میں 18,400 کروڑ صرف کیے ہیں۔جس میں 2018میں6058کروڑ،2019میں6072 کروڑاور 2020میں 6317 کروڑ بجلی پر خرچ کیے گئے۔ یہ جان کر شائد آپ ضرور حیران ہونگے کہ کشمیر 20,000 میگاواٹ پن بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہےجو پوری یوٹی کو ہر لحاظ سے ترقی یافتہ بنانے کےلیے اہم کردار ادا کر سکتاہےتاہم اس وقت کشمیر سے صرف 3263 میگاواٹ کی بجلی کی پیداوار ہو رہی ہے۔جس میں سے 2009 میگا واٹ نیشنل ہائیڈرو پاور پروجیکٹ (این ایچ پی سی) پیدا کرتا ہے وہیں 1211 میگاواٹ وہ چند پروجیکٹ پیدا کرتے ہیں جو جموں وکشمیر حکومت کے پاس موجود ہیں۔دراصل سنہ 2000میں مرکزی سرکار اور این ایچ پی سی کے درمیان ہوئے معاہدے کے تحت دس سال کی مدت کےلیے سات پاور پروجیکٹ مذکورہ کمپنی کو سونپے گئے جن میں سلال، اوڑی (1)،اوڑی( 2)،دلہستی،چھوٹک،نمو بازگو، سیوا (2) شامل ہیں۔اس معاہدے کے تحت جموں وکشمیر کوان پروجیکٹس سے 13فیصد بجلی مفت فراہم کی جارہی ہے۔وہیں مارچ 2015 میں مرکزی وزیر برائے بجلی کے ذریعہ لوک سبھا میں پیش کئے گئے اعداد و شمار کے مطابق پورے ملک میں مذکورہ کمپنی کی طرف سے پیدا کی جانے والی 40 فیصد سے زیادہ بجلی صرف جموں و کشمیر سے آتی ہے۔ وہیں 2015 تک این ایچ پی سی نے 19,431 کروڑ یا 194بلین ان پاور پروجیکٹس سے کمائے ہیں۔اور اگر 2016سے 2022کے درمیان اسی کی اوسط نکال کر اندازہ لگایا جائے تو این ایچ پی سی نے ان سات سالوں میں 8420کروڑ کی کمائی کی ہے اور یہ کل 27,851 کروڑ بنتا ہے یعنی ہر سال این ایچ پی سی 1265کروڑ روپیے ان سات پروجیکٹس سے کمائی کرتا ہے۔دوسری طرف سے اگرچہ یہ معاہدہ دس سال کے لیے ہی تھا تاہم ابھی تک ان پاور پلانٹس کو واپس نہیں لیا گیا ہے۔

ادھر رواں سال فروری میں ہی ایل جی منوج سنہا نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ جموںو کشمیر میں صارفین کو 24 گھنٹے بجلی فراہم کرنے کا ہدف جلد حاصل کیا جائے گا۔اب اس ہدف کو حاصل کرنے میں کتنا وقت لگے لگا وہ آنے والا وقت ہی بتائے گا لیکن حقیقت یہ کہ فی الحال جموںو کشمیر کے عوام کی بجلی سپلائی میں 25فیصد کمی ہی کی گئی ہے۔

Related

ShareTweetSendShareSendShare
Previous Post

جموں و کشمیر میں مرکزی حکومت کے پانچ سال مکمل۔۔۔

Next Post

ایس آئی یو نے بجبہاڑہ میں رہائشی مکان منسلک کیا

امت ڈیسک

امت ڈیسک

Related Posts

نیشنل کانفرنس نے میاں الطاف کو اننت ناگ-راجوری سیٹ کے لیے لوک سبھا امیدوار نامزد کیا

میاں الطاف کی بجبہاڑہ–پہلگام ریلوے لائن کی مخالفت کرنے والے دیہاتیوں کی حمایت

25/01/2026
نائب وزیر اعلیٰ جموں و کشمیر کی سرمائی تیاریوں میں ناکامی پر افسران کو سخت وارننگ

نائب وزیر اعلیٰ جموں و کشمیر کی سرمائی تیاریوں میں ناکامی پر افسران کو سخت وارننگ

25/01/2026
آپ نے جموں و کشمیر کو تقسیم کیا، ہم لداخ کے دوبارہ الحاق کا بھی مطالبہ کرتے ہیں: وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کا بی جے پی پر حملہ

آپ نے جموں و کشمیر کو تقسیم کیا، ہم لداخ کے دوبارہ الحاق کا بھی مطالبہ کرتے ہیں: وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کا بی جے پی پر حملہ

25/01/2026
ادھمپور کی جانب سے پھنسی ہوئی گاڑیاں نکال لی گئیں، جموں جانے والی ٹریفک معطل

ادھمپور کی جانب سے پھنسی ہوئی گاڑیاں نکال لی گئیں، جموں جانے والی ٹریفک معطل

25/01/2026
وزیر اعلی کے مشیر ناصر اسلم  وانی کو کابینہ وزیر کا درجہ دے دیا گیا

وزیر اعلی کے مشیر ناصر اسلم وانی کو کابینہ وزیر کا درجہ دے دیا گیا

24/01/2026
ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026: آئی سی سی کا بنگلہ دیش کو الٹی میٹم، بھارت نہ آنے پر متبادل ٹیم شامل کرنے کا فیصلہ

بنگلہ دیش کی جگہ اسکاٹ لینڈ کھیلے گا ٹی20 ورلڈ کپ

24/01/2026
Next Post
ترال میں ایس آئی یو کی جانب سے چھاپے

ایس آئی یو نے بجبہاڑہ میں رہائشی مکان منسلک کیا

*پہلگام روڈ حادثہ میں موٹرسائیکل سوار ہلاک، 2 سوار زخمی*

بارہمولہ سڑک حادثے میں نوجوان لقمہ اجل، دیگر متعدد زخمی

ٹائٹن آبدوز میں پھنسے پانچوں افراد ہلاک

ٹائٹن آبدوز میں پھنسے پانچوں افراد ہلاک

کپواڑہ جھڑپ میں دو ملی ٹینٹ مارے گئے :پولیس

مژھل کپواڑہ میں چار عسکریت پسند ہلاک

اگلے چوبیس گھنٹوں کے لیے قومی شاہراہ ٹریفک کے لئے بند

اگلے چوبیس گھنٹوں کے لیے قومی شاہراہ ٹریفک کے لئے بند

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • Policy
  • Contact Us
  • About Us
  • Home

© Designed By Gabfire.in - UMMAT NEWS

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر

© Designed By Gabfire.in - UMMAT NEWS

Translate »