• Policy
  • Contact Us
  • About Us
  • Home
ePaper
پیر, جنوری ۲۶, ۲۰۲۶
Ummat News
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر
No Result
View All Result
Ummat News
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر
No Result
View All Result
Ummat News
No Result
View All Result
سپریم کورٹ آرٹیکل 370 پر گرمی کی چھٹیوں کے بعد سماعت پر متفق

جموں وکشمیر میں انتخابات کےلئے مرکز کسی بھی وقت تیار،لیکن ریاستی درجہ دینے کےلئے وقت کا تعین نہیں کرسکتے:مرکزی حکومت کا سپریم کورٹ میں جواب

شاہد لطیف

by امت ڈیسک
31/08/2023
A A
Share on FacebookShare on TwitterWhatsappTelegramEmail

سپریم کورٹ بیچ اس آئینی معاملے کا آئینی فیصلہ کرنے کی روادار ہے، ریاست کی بحالی اور الیکشن کے انعقاد کا ٹائم فریم کا معاملہ دفعہ370 کی منسوخی کے آئینی سوال پر اثر انداز نہیں ہوگا:چیف جسٹس

سپریم کورٹ آف انڈیامیں 31اگست2023 ء کو اس وقت دلچسپ موڑ آیا جب مرکزی حکومت کی ترجمانی کرتے ہوئے سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے عدالت کو بتایا کہ حکومت جموں وکشمیر میں کسی بھی وقت انتخابات کرانے کےلئے تیار ہے لیکن یونین ٹیراٹری کو دوبارہ ریاست کا درجہ دینے کے ضمن میں وقت کا تعین نہیں کیا جاسکتا۔ جب مرکز کے وکیل نے عدالت کے سامنے اپنا موقف رکھا تو اسی وقت نیشنل کانفرنس کے وکیل کپل سبل روسٹم پر آئے اورریاست کی بحالی اور الیکشن کے انعقاد کی اس جاری بحث پر اعتراضات عائد کئے۔ کپل سبل نے عدالت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ عدالت کے سامنے ریاست کی بحالی یا الیکشن کے انعقاد کا معاملہ نہیں ہے بلکہ ایک آئینی معاملہ ہے جس کا اس معاملے یا تعمیر و ترقی کے حکومتی دعوؤں کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عدالت کو اس بحث میں جانے کی ضرورت ہی نہیں ہے کیونکہ عدالت کے سامنے 370 کو ہٹانے کے آئینی یا غیر آئینی معاملے کا تعین کرنا ہے۔ کپل سبل کے اعتراض کا جواب دیتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ سالسٹر جنرل کا مذکورہ بیان محض عدالت کی جانب سے اُٹھائے گئے ایک ضمنی سوال کے جواب میں ہے جس میں عدالت نے مرکز سے جموں وکشمیر کی ریاستی درجے کی بحالی اور وہاں الیکشن کرانے کے سلسلے میں ایک روڑ میپ مانگا تھا۔ اس پر کپل سبل نے کہا کہ عدالت کی یہ کارروائی چونکہ براہ راست ٹیلی کاسٹ ہورہی ہے اسلئے مرکزی حکومت کے وکیل عدالت عظمیٰ کے سامنے تعمیر و ترقی کے دعوے کرکے دفعہ370 ہٹانے کے اقدامات کو عوام کی نظر میں جائز ٹھہرانے کے جتن کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرکز کے ان دعووں کے بعد انہیں بھی ان کی نفی کے لئے دلائل دینا پڑیں گے جو وقت کا ضیاع ہوگا ۔چیف جسٹس نے اس موقع پر واضح کیا کہ عدالت کے سامنے دفعہ 370 کو ہٹانے کا آئینی معاملہ ہے اور اس کیس کا فیصلہ بھی آئینی پہلودیکھ کر ہی کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ بیچ اس آئینی معاملے کا آئینی فیصلہ کرنے کی روادار ہے، ریاست کی بحالی اور الیکشن کے انعقاد کا ٹائم فریم کا معاملہ دفعہ370 کی منسوخی کے آئینی سوال پر اثر انداز نہیں ہوسکتا۔ اس سے قبل سالیسٹر جنرل اور اٹارنی جنرل نے بھی عدالت کے سامنے کہا کہ دفعہ370 ہٹائے جانے کے بعد سے تعمیر ترقی کے اعداد و شمار اور ریاسی درجہ کی بحالی یا الیکشن کے انعقاد کے وقت وغیرہ کا اس کیس کے آئینی پہلو کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے اور یہ کہ وہ بھی یہ ساری گزارشات اس کیس کے آئینی پہلو سے پہلو تہی کےلئے نہیں دے رہے ہیں۔ اس پر چیف جسٹس آف انڈیا کا کہنا تھا کہ اس بات پر جملہ فریقین کا اتفاق ہے کہ کیس کا فیصلہ آئینی نوعیت کا ہونا چاہئے۔ ان کا مذید کہنا تھا کہ اسی کے پیش نظر عدالت نے مرکزی حکومت کے بیان حلفی کو پہلے ہی مسترد کردیا تھا۔

یہ بات واضح رہے کہ29 اگست کو شنوائی کے دوران سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل آف انڈیا آر وینکٹ رامانی اور سالیسٹر جنرل تشار مہتا سے کہا تھاکہ وہ جموں و کشمیر کے لیے ریاست کا درجہ بحال کرنے کے لیے ایک ٹائم فریم کے بارے میں اعلیٰ سطح سے ہدایت طلب کریں۔ پانچ ججوںکے آئینی بنچ کی سربراہی کرتے ہوئے جسٹس آف انڈیا ڈی وائی چندرچوڑ نے سالیسٹر جنرل تشار مہتا سے کہا تھا کہ حکومت کو عدالت کے سامنے یہ بیان بھی دینا ہوگا کہ جموں و کشمیر کی ترقی ایک ریاست میں ہونی ہے اور یہ مستقل طور پر یونین ٹیریٹری نہیں ہوسکتی ہے۔جس پر مہتا نے کہا کہ یہ بالکل وہی بیان ہے جوپارلیمان کےاندر پر دیا گیا تھا کہ جموں و کشمیر کو یونین ٹریٹری میں تبدیل کرنا کوئی مستقل طور پر نہیں ہے۔ مہتا نے کہا کہ حالات معمول پر آنے کے بعد،”ہم چاہتے ہیں کہ جموں و کشمیر دوبارہ ریاست بن جائے‘‘۔چیف جسٹس نے کہا کہ ہم آپ کو پابند نہیں کرنا چاہتے کیونکہ ہم اس حقیقت سے آگاہ ہیں کہ یہ قومی سلامتی کے معاملات ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ قوم کا تحفظ سب سے پہلے ہے۔ لیکن آپ اور اٹارنی جنرل دونوں اعلیٰ ترین سطح پر ہدایات طلب کر سکتے ہیں، کیا کوئی ٹائم فریم نظر میں ہے کہ جموں وکشمیر کو ریاستی درجہ بحال ہو؟ چیف جسٹس نے کہا کہ ‘جمہوریت کی بحالی بہت ضروری ہے، یہ ہماری قوم کے لیے ایک اہم جز ہے، ہم ایسی صورتحال پیدا نہیںکر سکتے جہاں جمہوریت ہی کی قربانی پیش کی جائے۔جس کے جواب میں مہتا نے کہا کہ 2020میں جموں و کشمیر میں مقامی حکومتوں کے انتخابات ہوئے اور کئی ہزار لوگ منتخب ہوئے اور کوئی ہڑتال نہیں ہوئی۔چیف جسٹس نے کہا کہ اسکا مطلب ہے کہ وہاں پیشرفت ہوئی ہے، ہم آپ کی بات سے یہ سمجھتے ہیں کہ پیشرفت شروع ہو چکی ہے، کیا یہ روڈ میپ ہے، ہمیں بتائیں کہ روڈ میپ کیا ہے؟دوپہر کے کھانے کے وقفے کے بعد، سالیسٹر جنرل نے عدالت عظمیٰ کو مطلع کیا کہ جموں و کشمیر کی یو ٹی کی حیثیت مستقل نہیں ہے اور انہوں نے مزید کہا کہ وہ اعلیٰ سطح پر میٹنگ کے بعد 31،اگست کو ٹائم فریم پر مثبت بیان دے سکیں گے۔ مہتا نے البتہ کہاتھا کہ لداخ یونین ٹریٹری ہی رہے گی اور اس کے درجے میںکسی بھی قسم کی تبدیلی کا کوئی معاملہ درپیش نہیں ہے۔

آرٹیکل35اے نے مستقل رہائشیوں کو خصوصی حقوق اور مراعات دی ہیں اور عملی طور پر غیر رہائشیوں کے حقوق کو چھین لیا ہے: چیف جسٹس کے دوران سماعت ریمارکس

سالیسٹر جنرل کے دلائل پر جموں وکشمیر کے دو سابق وزرائے اعلیٰ محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کا ردعمل بھی سامنے آیا ۔جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ اور نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ نے اپنے بیان میں کہا کہ ’’سالیسٹر جنرل ایک بہت ہی قابل اور چالاک قانونی چارہ جوئی کررہے ہیں۔ وہ دلائل کی توجہ مرکز کے’’نارملسی‘‘کے نقطہ نظر کی طرف موڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ ایک جال ہے جس سے بچنا بہتر ہے۔ عزت مآب سپریم کورٹ کو جموں و کشمیر میں سکیورٹی کی صورتحال یا معمول پر لانے کے لیے درخواست نہیں دی گئی ہے‘‘۔انہوں نے اپنے ٹویٹ میں مزید کہا کہ معزز چیف جسٹس اور بنچ کے دیگر ججوں کے لیے آسان سوال یہ ہے کہ وہ فیصلہ کریں کہ آیا 2019میں جموں و کشمیر میں جبری تبدیلیاں قانونی اور آئینی تھیں یا نہیں۔ باقی سب محض بٹکانے کا عملہ ہے‘‘۔وہیں جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی سربراہ محبوبہ مفتی کا کہنا تھا کہ ’’مرکزی سرکار کے بلند دعوؤں کے باوجود، آج سپریم کورٹ کے سامنے سالیسٹر جنرل کا بیان ہمارے اس موقف کی تصدیق کرتا ہے کہ جموں و کشمیر میں حالات معمول سے بہت دور ہیں۔ یہاں تک کہ اس غیر معمولی معمول کو حاصل کرنے کے لیے جموں و کشمیر کو ایک اوپن ائیر جیل میں تبدیل کر دیا گیا ہے‘‘۔

آرٹیکل370 منسوخی مخالف وکلاء کے دلائل مکمل ہونے کے بعد جب مرکزی حکومت کے وکلاء سالیسٹر جنرل اور اٹارنی جنرل نے آرٹیکل370 منسوخی کے حق میں دلائل دینے کا آغاز کیا تو چیف جسٹس آف انڈیا نے ریمارکس دئے تھے کہ ’’ اچھے اور بہتر نتائج کے حصول کےلئے بہتر ذرائع ہی استعمال کئے جانے چاہئے۔‘‘عدالت نے زبانی طور پر ریمارکس دئے کہ اچھے مقصد کے لیے بہتر ذرائع کا استعمال ہونا چاہیے۔ عدالت عظمیٰ نے یہ تبصرہ اس وقت کیا جب اٹارنی جنرل آر وینکٹ رمن نے آرٹیکل370کو منسوخ کرنے کے مرکز کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے اپنے دلائل پیش کرنا شروع کیے۔ مرکز کی نمائندگی کرنے والے اے جی نے مرکز کی جانب سے اپنے بیان کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ کسی کی جان بچانے کے لیے ایک عضو کاٹ دیا جاتا ہے، لیکن کسی عضو کو بچانے کے لیے جان نہیں دی جاتی اور وہ اس بات کو یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ آئین محفوظ رہے۔ ایک طرف طریقۂ کار اور مناسب عمل ہے اور دوسری طرف قوم کے کھونے کا منظر تھا۔اس موقعے پر چیف جسٹس نے کہا کہ ‘جناب اٹارنی جنرل، ہم ایسی صورتحال پیدا نہیں کر سکتے کہ جس کا انجام ذرائع کا جواز ہو۔ ذرائع آخر کے مطابق ہونے چاہئیں۔ اے جی نے جواب دیا کہ ہم سب یہ سمجھتے ہیں اور یہ سوال ہمارے سامنے عوامی اور ذاتی زندگی دونوں میں آتا ہے۔ اے جی نے دلیل دی کہ اکتوبر 1947میں حکومت ہند کے ساتھ الحاق کے آلے آئی او اے پر دستخط کرنے کے بعد، جموں و کشمیر نے خودمختاری کے تمام نشانات کھو دیے تھے۔ وینکٹ رمنی نے کہا کہ جموں و کشمیر جیسی سرحدی ریاستیں ہندوستان کے خطوں کا ایک خاص زمرہ بنتی ہیں اور ان کی تنظیم نو پر خصوصی غور کرنے کی ضرورت ہے۔چیف جسٹس نے مرکز کے وکیل سے کہا کہ یہ سردار ولبھ بھائی پٹیل کی ذہانت اور عزم کا مجموعہ ہے کہ562ریاستیں یونین آف انڈیا میں آئیں، لیکن جموں و کشمیر نے آرٹیکل 370کا راستہ اختیار کیا۔ چیف جسٹس نے مرکز کی نمائندگی کرنے والے سالیسٹر جنرل تشار مہتا کی طرف اشارہ کیا کہ درخواست گزاروں کے وکیل کے دلائل کا خلاصہ یہ ہے کہ بیرونی خودمختاری ترک کردی گئی ہے، اور اس میں کوئی شک نہیں، لیکن اندرونی خودمختاری نہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ وہ کہتے ہیں کہ آرٹیکل 370کو اپنانا اس بات کی نشاندہی کرے گا کہ جب بیرونی خودمختاری ختم کی جا رہی تھی، اس وقت کے مہاراجہ کی جانب سے استعمال کی گئی اندرونی خودمختاری بھارت کے حوالے نہیں کی گئی۔وینکٹ رمنی اور مہتا دونوں نے عدالت عظمیٰ کے سامنے سختی سے دلیل دی کہ منسوخی ’آئین کے ساتھ دھوکہ ‘نہیں ہے۔ مہتا نے کہا کہ درخواست گزار داخلی خودمختاری کو خودمختاری کے ساتھ الجھا رہے ہیں اور زور دیا کہ ریاستوں کی خودمختاری پہلے سے موجود ہے اور انضمام کسی کی خودمختاری کو کھونے کی طرف پہلا قدم ہے۔ مہتا نے دلیل دی کہ کوئی بھی بیرونی خودمختاری پر تنازعہ نہیں کر سکتا، جو یونین آف انڈیا کے پاس ہے، اور اندرونی خودمختاری کا مطلب وفاقی اکائیوں کی خودمختاری ہے، اور یہ کہ ایسی خود مختاری ہر ریاست کےپاس ہے۔سپریم کورٹ نے نشاندہی کی کہ ہندوستانی آئین نے دوسری ریاستوں کے لیے آرٹیکل370جیسی کوئی شق نہیں بنائی، جس نے یونین آف انڈیا کی حتمی خود مختاری اور قانون سازی کے اختیار کو قبول کیا۔ مہتا نے کہا کہ یہ دلیل کہ جموں و کشمیر واحد شاہی ریاست تھی جس کا اپنا آئین تھا حقیقتاً غلط ہے اور اس بات پر زور دیا کہ 62ریاستوں نے اپنا آئین بنایا ہے اور ملک بھر کی286ریاستیں اپنا آئین بنانے کے عمل میں ہیں۔ مہتا نے کہا کہ محض اس لیے کہ جموں کشمیرکا1939میں آئین تھا یا آئی او اےنے کچھ تحفظات کا ذکر کیا تھا جس کی تشریح ریاست کی داخلی خودمختاری کے تسلسل کے طور پر کی گئی تھی‘ جموں و کشمیر کو منفرد نہیں سمجھا جا سکتا۔مہتا نے کہا کہ آئی او اےکا مسودہ تمام شاہی ریاستوں کے لیے یکساں تھا اور یہ کہنا درست نہیں تھا کہ دفعہ 370ایک خاص خصوصیت تھی اور یہ جموں و کشمیر کو دیا گیا ایک استحقاق تھا جسے کبھی نہیں چھینا جا سکتا۔ مہتا نے کہا کہ آرٹیکل 370عارضی ہے یا مستقل اس الجھن کی وجہ سے ہمارے ملک کے ایک مخصوص طبقے کے ذہنوں میں نفسیاتی کشمکش پیدا ہو گئی ہے۔ مہتا نے اصرار کیا کہ اس الجھن کا فائدہ ہندوستان کی دشمن قوتوں نے اٹھایا اور یہ کہ آرٹیکل 370کی منسوخی کے ساتھ تنازعہ ختم ہو گیا ہے۔

مرکزی حکومت کے وکلاء کی جانب سے عدالت عظمیٰ کے سامنے دلائل کے دوران چیف جسٹس آف انڈیا کی جانب سے دفعہ 35 ،اے سے متعلق بھی کچھ اہم ریمارکس آئے ۔چیف جسٹس نے کہامشاہدہ کیا کہ دفعہ35،اے جموں و کشمیر کے مستقل باشندوں کو خصوصی حقوق دیتے ہوئے دوسروں کے بنیادی حقوق سے انکار کرتی ہے۔’’آرٹیکل35 ،اے نے مستقل رہائشیوں کو خصوصی حقوق اور مراعات دی ہیں اور عملی طور پر غیر رہائشیوں کے حقوق کو چھین لیا ہے۔ ان حقوق میں ریاستی ملازمت کے مساوی مواقع کا حق، جائیداد کے حصول کا حق اور جموں و کشمیر میں آباد ہونے کا حق شامل ہے‘‘۔ سی جے آئی نے سالیسٹر جنرل تشار مہتا کی عرضی کے دوران مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 35 ،اےکو 1954ءمیں آئین کے آرٹیکل 370کے تحت صدارتی حکم کے ذریعے داخل کیا گیا تھا۔ آرٹیکل 35 ،اےنے جموں و کشمیر اسمبلی کو’مستقل رہائشیوں‘ کی تعریف کرنے کے قابل بنایا اور اسے ریاست میں لوگوں کو مستقل رہائشی سرٹیفکیٹ دینے کی اجازت دی۔چیف جسٹس نے یہ بھی نوٹ کیا کہ آرٹیکل 35 ،اےنے ان خصوصی مراعات کو عدالتی نظرثانی سے بھی استثنیٰ دیا ہے۔سالسٹر جنرل مہتا نے جواب دیا کہ 5اگست 2019ءکا فیصلہ پیشرو حکومتوں کی غلطیوں کو درست کرنے کی کوشش تھی۔ انہوں نے کہا کہ ماضی کی غلطیاں آئندہ نسلوں پر نہیں پڑنی چاہئیں۔مہتا نے دعویٰ کیا کہ جموں و کشمیر کی آئین ساز اسمبلی قانون ساز ادارہ نہیں ہے، اور ریاستی آئین حکمرانی کی دستاویز نہیں ہے۔

قبل ازیں، آئینی بنچ نے لیکچرار ظہور احمد بٹ کی عدالت میں جاری کیس کی کارروائی میں ان کے بینچ کے سامنے پیش ہونے کے بعد، جموں و کشمیر کے محکمہ تعلیم کی طرف سے معطلی پر شدید اعتراض اٹھایا۔ بٹ24 اگست کو ذاتی طور پر ایک پارٹی کے طور پر پیش ہوئے تھے، اور انہوں نے آرٹیکل 370کومنسوخ کردینےپر اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہیں طلباء کو ہندوستانی آئین اور جمہوریت کے اصول سکھانے میں مشکل پیش آئی، کیونکہ طلباء ان سے پوچھتے ہیں کہ کیا؟ منسوخی کے بعد بھی ہندوستان میں جمہوریت ہے۔جب سالسٹر جنرل جناب تشار مہتا نے ابتدا میں یہ کہتے ہوئے معطلی کا جواز پیش کرنے کی کوشش کی کہ مختلف عدالتوں میں ان کی پیشی جیسے دیگر مسائل ہیں، بنچ نے ان سے استفسار کیا کہ معطلی کے حکم میں سپریم کورٹ میں ان کی حاضری کا ذکر کیوں کیا گیا ہے، اور اگر کوئی معقول وجوہات تھیں تو انہیں پہلے کیوں معطل نہیں کیا گیا؟ بنچ کی طرف سے اٹارنی جنرل آر وینکٹ رامانی سے اس پر غور کرنے کی درخواست کے بعد، مہتا نے بنچ سے اتفاق کیا کہ معطلی کو بدلہ کے طور پر نہیں لیا جا سکتا، اور معطلی کا وقت درحقیقت مناسب نہیں ہے۔

عدالت عظمیٰ میں اس کیس کی بحث ہنوز جاری ہے اور اسوقت حکومت کے وکلاء دفعہ 370 کی منسوخی کے حق میں دلائل دے رہے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ اس کے بعد منسوخی کے خلاف وکلاء کو ان دلائل کی تردید کا موقع دیا جائے گا۔ بہرحال اس معاملے پر ایک زندہ اور مثبت بحث جاری ہے اور امید کی جانی چاہئے کہ انصاف اور حق کا ہی بول بالا ہوگا۔

Related

ShareTweetSendShareSendShare
Previous Post

سالسٹر جنرل کے موقف پر وادی کی سیاسی جماعتوں کا ردعمل

Next Post

عمر عبداللہ علیحدہ زوجہ کو ڈیڑھ لاکھ روپے ماہانہ ادا کرے: دلی ہائی کورٹ

امت ڈیسک

امت ڈیسک

Related Posts

نیشنل کانفرنس نے میاں الطاف کو اننت ناگ-راجوری سیٹ کے لیے لوک سبھا امیدوار نامزد کیا

میاں الطاف کی بجبہاڑہ–پہلگام ریلوے لائن کی مخالفت کرنے والے دیہاتیوں کی حمایت

25/01/2026
نائب وزیر اعلیٰ جموں و کشمیر کی سرمائی تیاریوں میں ناکامی پر افسران کو سخت وارننگ

نائب وزیر اعلیٰ جموں و کشمیر کی سرمائی تیاریوں میں ناکامی پر افسران کو سخت وارننگ

25/01/2026
آپ نے جموں و کشمیر کو تقسیم کیا، ہم لداخ کے دوبارہ الحاق کا بھی مطالبہ کرتے ہیں: وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کا بی جے پی پر حملہ

آپ نے جموں و کشمیر کو تقسیم کیا، ہم لداخ کے دوبارہ الحاق کا بھی مطالبہ کرتے ہیں: وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کا بی جے پی پر حملہ

25/01/2026
ادھمپور کی جانب سے پھنسی ہوئی گاڑیاں نکال لی گئیں، جموں جانے والی ٹریفک معطل

ادھمپور کی جانب سے پھنسی ہوئی گاڑیاں نکال لی گئیں، جموں جانے والی ٹریفک معطل

25/01/2026
وزیر اعلی کے مشیر ناصر اسلم  وانی کو کابینہ وزیر کا درجہ دے دیا گیا

وزیر اعلی کے مشیر ناصر اسلم وانی کو کابینہ وزیر کا درجہ دے دیا گیا

24/01/2026
ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026: آئی سی سی کا بنگلہ دیش کو الٹی میٹم، بھارت نہ آنے پر متبادل ٹیم شامل کرنے کا فیصلہ

بنگلہ دیش کی جگہ اسکاٹ لینڈ کھیلے گا ٹی20 ورلڈ کپ

24/01/2026
Next Post
جیسے ہی کانگریس کرناٹک جیت گئی، عمر عبداللہ کا کہنا ہے کہ بی جے پی میں جموں و کشمیر کے انتخابات کرانے کی ہمت نہیں ہوگی

عمر عبداللہ علیحدہ زوجہ کو ڈیڑھ لاکھ روپے ماہانہ ادا کرے: دلی ہائی کورٹ

چینی صدر جی ٹوئنٹی سربراہی اجلاس میں شرکت نہیں کریں گے : رپورٹ

چینی صدر جی ٹوئنٹی سربراہی اجلاس میں شرکت نہیں کریں گے : رپورٹ

کشمیری پنڈت ملازمین کا اپنی مانگوں کو لے کر احتجاج

پنڈت مہاجر ملازمین کیلئے 6000 آسامیاں اور 6000 مکانات کی منظوری ،کچھ مکانات تعمیر باقی پائپ لائن میں

ملک میں بڑھتے سائبر جرائم کے بیچ چیف جسٹس آف انڈیا کی جانب سے ایڈ وائزری جاری

ملک میں بڑھتے سائبر جرائم کے بیچ چیف جسٹس آف انڈیا کی جانب سے ایڈ وائزری جاری

بڈگام میں سی آر پی ایف گاڑی حادثے کا شکار، آٹھ اہلکار زخمی

بڈگام میں سی آر پی ایف گاڑی حادثے کا شکار، آٹھ اہلکار زخمی

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • Policy
  • Contact Us
  • About Us
  • Home

© Designed By Gabfire.in - UMMAT NEWS

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر

© Designed By Gabfire.in - UMMAT NEWS

Translate »