امت نیوز ڈیسک //
سری نگر: عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت پر سخت حملہ کرتے ہوئے جموں و کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر محبوبہ مفتی نے کہا کہ لوگوں کو امید تھی کہ منتخب حکومت انہیں ریلیف فراہم کرے گی لیکن ایسا کچھ نہیں ہو رہا ہے۔
محبوبہ نے کہا کہ ’منتخب حکومت میں عسکریت پسندی میں ملوث ہونے کے الزام میں ملازمین کی برطرفی کا سلسلہ جاری ہے۔ ایک پولیس کانسٹیبل ان برطرف ملازمین میں شامل ہے جس پر کچھ سال قبل عسکریت پسندی نے حملہ کیا تھا۔ لوگوں پر چھاپے اور کریک ڈاؤن رکنے کا نام نہیں لے رہا۔ محبوبہ نے سری نگر میں نامہ نگاروں کو بتایا کہ لوگوں کو راحت، اپنی حفاظت کی امید تھی لیکن ایسا نہیں ہو رہا‘۔
محبوبہ نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے کہا کہ وہ 5 اگست 2019 کے فیصلے کی توثیق کرنے سے گریز کریں۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ اس طرح کا اقدام بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے آرٹیکل 370 اور 35 اے کو منسوخ کرنے کے لیے کیے گئے "غیر قانونی اور غیر آئینی” اقدامات کو جائز قرار دیں گے۔
انہوں نے کہا کہ ’اگرچہ بی جے پی ان حقوق کو بحال نہیں کر سکتی لیکن جموں و کشمیر حکومت کی طرف سے کوئی بھی توثیق اس دعوے کو ہوگی اور ریاست کی حثیت بھی کمتر ہوگی۔ محبوبہ نے بی جے پی کی قیادت والی مرکزی حکومت کو اس سمجھ بوجھ کی یاد دلائی جو اس نے جموں و کشمیر میں بدامنی کے عروج کے دوران دکھائی تھی۔ پتھراؤ کرنے والوں کی ہزاروں ایف آئی آرز کو ختم کیا گیا تھا اور رمضان میں جنگ بندی کا اعلان کیا گیا۔ اُس وقت، ایک اعلیٰ اختیاراتی وفد کو جموں و کشمیر کے لوگوں سے بات کرنے کے لیے بھیجا گیا تھا، بدقسمتی سے علیحدگی پسندوں نے اس پیشکش کو مسترد کردیا تھا‘۔
محبوبہ مفتی نے بی جے پی پر زور دیا کہ وہ اپنے "اونچے گھوڑے” سے نیچے اترے اور یہ تسلیم کرے کہ جموں و کشمیر میں صورتحال اتنی عام نہیں ہے جیسی نظر آتی ہے۔ ایجنسیوں کا غلط استعمال اور پبلک سیفٹی ایکٹ (PSA) و غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ (UAPA) جیسے سخت قوانین کے نفاذ سے یہاں حالات کچھ اور ہی ہے، لیکن یہ ہمیشہ کے لیے نہیں ہوگا۔ محبوبہ نے مزید کہا کہ ’حکومت کو اپنے نقطہ نظر پر نظر ثانی کرنی چاہیے، لوگوں تک پہنچنا چاہیے اور میرے دور میں شروع کیے گئے اعتماد سازی کے اقدامات کو آگے بڑھانا چاہیے‘۔










