امت نیوز ڈیسک //
سرینگر: نیشنل کانفرنس (این سی) کے صدر اور جموں کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے ممبئی حملوں کے مبینہ سازشی تہور رانا کی امریکہ سے بھارت حوالگی پر مودی حکومت کو سراہا، تاہم ساتھ ہی انہوں نے 2014 کے انتخابی وعدے یعنی بیرون ملک جمع ’’کالے دھن‘‘ کی واپسی پر مرکزی حکومت کو آڑے ہاتھوں بھی لیا۔
صحافیوں سے بات کرتے ہوئے فاروق عبداللہ نے کہا: ’’میری مبارکباد کہ اس (تہور رانا) کو واپس لایا گیا۔‘‘ لیکن ساتھ ہی انہوں نے طنز کرتے ہوئے کہا: ’’وہ کالا دھن بھی لانے والے تھے، ہر ایک کے کھاتے میں 15 لاکھ روپے ڈالنے والے تھے، وہ کہاں گیا؟‘‘ یاد رہے کہ تہور رانا کو جمعرات کے روز 26/11 ممبئی دہشت گرد حملوں میں ملوث ہونے کے الزام میں امریکہ سے بھارت لایا گیا۔ رانا کو لشکر طیبہ، حرکت الجہاد الاسلامی سمیت پاکستان میں مقیم دیگر تنظیموں کے ساتھ مل کر ممبئی حملے کی منصوبہ بندی کا ملزم قرار دیا گیا ہے۔
رانا کو اب قومی تحقیقاتی ایجنسی (NIA) کی 18 روزہ حراست میں رکھا گیا ہے جہاں اس سے 2008 کے حملوں کی سازش سے متعلق تفصیل سے تفتیش کی جائے گی۔ تہور رانا کی حوالگی کو بھارت کی ایک بڑی سفارتی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے، جو طویل قانونی جد و جہد کے بعد ممکن ہو پائی۔ یاد رہے کہ ممبئی حملوں میں 166 افراد مارے گئے تھے اور 300 سے زائد زخمی ہوئے تھے










