تحریر: زین العابدین رینہ
گنڈ سونمرگ
گزشتہ کئی دہائیوں سے جموں و کشمیر کی دلکش خوبصورتی ہماری معیشت کی ریڑھ کی ہڈی رہی ہے۔ سرسبز وادیاں، برف پوش پہاڑ، اور پرسکون جھیلیں دنیا بھر کے سیاحوں کو اپنی جانب کھینچتی رہی ہیں۔ یوں سیاحت ہزاروں خاندانوں کے لیے روزگار کا بنیادی ذریعہ بن گئی ہے۔
لیکن اب وقت آ گیا ہے کہ ہم، خصوصاً ہمارا نوجوان طبقہ، خود سے ایک اہم سوال کرے: کیا ہم اپنی تمام تر امیدیں صرف ایک ہی سہارا پر لگا رہے ہیں؟
ہر چند سالوں بعد ہمارا خطہ سیاسی عدم استحکام یا سرحد پار کشیدگی کا شکار ہو جاتا ہے۔ ایسے ہر بحران میں سب سے پہلے سیاحت متاثر ہوتی ہے۔ ہوٹل ویران ہو جاتے ہیں، ٹیکسیاں کھڑی کھڑی دھول پھانکتی ہیں، اور معیشت رک جاتی ہے۔ ایسے حالات میں وہ نوجوان سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں جنہوں نے قرض لے کر گاڑیاں خریدی تھیں یا گیسٹ ہاؤس تعمیر کیے تھے۔ خواب، قرض میں بدل جاتے ہیں۔
ہم ایک ایسے دائرے کے مستقل شکار نہیں بن سکتے جس پر ہمارا کوئی اختیار نہیں۔
یہ جموں و کشمیر کے نوجوانوں کے لیے ایک عاجزانہ پکار ہے: آئیں ہم اپنے راستے وسیع کریں۔ زراعت، باغبانی، شہد کی مکھیوں کی پرورش، دستکاری، اور یہاں تک کہ ٹیکنالوجی جیسے شعبوں میں موجود اپنی بے پناہ صلاحیتوں کو تلاش کریں۔ دنیا تیزی سے بدل رہی ہے، اور ہمیں ایسے ہنر سیکھنے اور اپنانے کی ضرورت ہے جو بیرونی جھٹکوں کے مقابلے میں زیادہ مضبوط اور پائیدار ہوں۔
مزید برآں، ایک اہم مسئلہ یہ بھی ہے کہ ہمارے سب سے باصلاحیت نوجوان اعلیٰ تعلیم کے لیے دیگر ریاستوں کا رخ کرتے ہیں کیونکہ ہمارے ہاں جدید سہولیات سے آراستہ تعلیمی اداروں کی کمی ہے۔ جو لوگ کروڑوں روپے مالیت کے ہوٹل تعمیر کر سکتے ہیں، وہ اعلیٰ تعلیمی اور پیشہ ورانہ ادارے کیوں نہیں بنا سکتے؟
اگر ہم سیاحوں کے لیے پرتعیش مقامات تخلیق کر سکتے ہیں تو اپنی آئندہ نسلوں کے لیے معیاری تعلیم و تربیت کے مراکز بھی قائم کر سکتے ہیں۔
آج جموں و کشمیر کے نوجوان دنیا بھر میں مختلف شعبوں جیسے آئی ٹی، طب، تحقیق، ٹیکنالوجی، اور کاروبار میں اپنی خدمات دے رہے ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ وہ آگے بڑھ کر اپنے وطن کے لوگوں کی رہنمائی کریں—انہیں دکھائیں کہ کس طرح ہم اپنی زمین پر رہتے ہوئے روزگار اور معاشی ترقی کے نئے دروازے کھول سکتے ہیں۔
ہمارے نوجوان باصلاحیت، جذبے سے بھرپور اور حالات کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے والے ہیں۔ اب ہمیں غیر یقینی حالات پر انحصار چھوڑ کر ایسی بنیادیں رکھنی ہوں گی جو ہر موسم میں ثمر آور ہوں۔
یقیناً سیاحت ہمیشہ ہماری شناخت کا ایک حصہ رہے گی، لیکن یہ ہماری واحد زندگی کی ڈور نہیں ہونی چاہیے۔










