امت نیوز ڈیسک //
سرینگر: جموں و کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے شمالی کشمیر کے تُلبل نیویگیشن پروجیکٹ (Tulbul Navigation Project) کی بحالی کی تجویز دینے پر جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ پر سخت تنقید کی۔ محبوبہ نے کہا کہ اس طرح کی تجاویز بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کو دوبارہ ہوا دے سکتی ہیں۔
محبوبہ مفتی نے عمر عبداللہ کی جانب سے وُلر جھیل اور تُلبل بیراج کی ویڈیو شیئر کرنے پر سماجی رابطہ گاہ ’’ایکس‘‘ پر نہ صرف اپنے خدشات کا اظہار کیا بلکہ ویڈیو شیئر کرنے ’’وقت اور نیت‘‘ پر بھی سوال اٹھایا۔ محبوبہ نے لکھا: ’’جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی بھارت اور پاکستان کے مابین جاری کشیدگی کے دوران تُلبُل نیویگیشن پروجیکٹ کو بحال کرنے کی اپیل انتہائی افسوسناک ہے۔‘‘
انہوں نے مزید لکھا: ’’ایسے وقت میں جب دونوں ممالک جنگ بمشکل ٹلی ہے، اور جموں و کشمیر نے اس کی سب سے بڑی قیمت معصوم جانوں کے ضیاع، تباہی اور تکالیف کی صورت میں چکائی ہے، (عمر عبداللہ کے) ایسے بیانات غیر ذمہ دارانہ ہی نہیں بلکہ خطرناک حد تک اشتعال انگیز بھی ہیں۔‘‘
محبوبہ مفتی، جو پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر ہیں، نے مزید کہا کہ کشمیریوں کو سکون اور امن کی ضرورت ہے، نہ کہ حساس معاملات جیسے پانی کی تقسیم پر سیاسی بیان بازی۔ ’’پانی جیسی بنیادی اور حیات بخش شیئیکو ہتھیار بنانا نہ صرف غیر انسانی فعل ہے بلکہ ایک دو طرفہ معاملے کو بین الاقوامی رنگت دینے کا خطرہ بھی ہے۔‘‘
محبوبہ مفتی کا یہ بیان عمر عبداللہ کے ایک روز قبل جاری کیے گئے پوسٹ پر ردعمل تھا، جس میں نیشنل کانفرنس کے رہنما اور وزیر اعلیٰ نے وُلر جھیل کی 30 سیکنڈ کی فضائی ویڈیو شیئر کی تھی۔ ویڈیو میں تُلبُل نیویگیشن بیراج پر جاری سول کام کاج کو صاف طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ عمر عبداللہ نے اپنی پوسٹ میں لکھا تھا: ’’شمالی کشمیر میں وُلر جھیل- اس ویڈیو میں جو سول کام آپ دیکھ رہے ہیں وہ تُلبُ نیویگیشن بیراج ہے۔‘‘
عمر عبداللہ نے مزید لکھا: ’’یہ کام 1980 کی دہائی کے اوائل میں شروع ہوا تھا لیکن پاکستان کے انڈس واٹر ٹریٹی (آبی معاہدہ) کے تحت دباؤ کے بعد اسے روک دیا گیا۔ اب جب کہ یہ معاہدہ ’عارضی طور پر معطل‘ ہو چکا ہے، میں سوچتا ہوں کہ کیا اب ہم اس پروجیکٹ کو دوبارہ شروع کر سکتے ہیں؟‘‘











