امت نیوز ڈیسک //
جموں: جموں و کشمیر حکومت نے ایک تاریخی قدم اٹھاتے ہوئے یونین ٹریٹری بھر میں اہم انفراسٹرکچر کے تحفظ کے لیے سابق فوجیوں کی خدمات حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد سکیورٹی کو مضبوط بنانا اور تجربہ کار سابق فوجی اہلکاروں کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانا ہے۔ یہ تجویز سینک ویلفیئر بورڈ، جموں و کشمیر کی جانب سے پیش کی گئی تھی، جسے اب سرکاری سطح پر منظوری مل چکی ہے۔
منصوبے کے تحت 4000 رضاکار سابق فوجیوں کی شناخت کی گئی ہے، جن میں سے 435 افراد ذاتی لائسنس یافتہ اسلحہ رکھتے ہیں، جس سے مقامی سطح پر حفاظتی صورتِ حال کا مؤثر انداز میں مقابلہ کرنے کی صلاحیت میں اضافہ ہوگا۔ ان سابق فوجیوں کو جموں و کشمیر کے تمام 20 اضلاع میں بجلی گھروں، پلوں، سرکاری تنصیبات اور دیگر حساس مقامات کی حفاظت پر تعینات کیا جائے گا۔
وزارتِ دفاع کے ترجمان اور پی آر او جموں، لیفٹیننٹ کرنل سنیل برتوال نے اس حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ "یہ قدم نہ صرف سابق فوجیوں کی حب الوطنی اور عوامی خدمت کے جذبے کو تسلیم کرتا ہے، بلکہ اس سے مقامی سطح پر سکیورٹی کے نظام میں مضبوطی آئے گی”۔ انہوں نے مزید کہا کہ "سابق فوجیوں نے کووڈ-19 کے دوران بھی اپنی خدمات پیش کی تھیں، اور اب حکومت ان کے جذبے اور مہارت پر اعتماد کرتے ہوئے انہیں ایک نئے کردار میں شامل کر رہی ہے۔ یہ نہ صرف تحفظ کا ماڈل ہے بلکہ ایک مثالی عوامی-فوجی تعاون بھی ہے”۔
تفصیلات کے مطابق یہ فوجی ضلعی سینک ویلفیئر افسران کی مجموعی نگرانی میں کام کریں گے ان کی تعیناتی ضلعی انتظامیہ اور مقامی پولیس کے اشتراک سے کی جائے گی۔ ان کا کردار غیر جنگی ہوگا۔ انہیں وردی اور بنیادی آلات فراہم کیے جائیں گے، جس کے لیے انتظامی مدد ضلعی حکام دیں گے۔ تربیتی اور اورینٹیشن پروگرامز کی منصوبہ بندی بھی کی جارہی ہے تاکہ یکساں معیار اور کارکردگی کو یقینی بنایا جا سکے۔ ان کی تعیناتی ضلعی انتظامیہ اور مقامی پولیس کے اشتراک سے کی جائے گی۔









