امت نیوز ڈیسک //
نیٹو کے سیکرٹری جنرل مارک روٹے نے بھارت، چین اور برازیل کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر یہ ممالک روس کے ساتھ تجارت جاری رکھتے ہیں، تو انھیں امریکہ کی جانب سے 100 فیصد سیکنڈری پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ امریکی کانگریس میں ارکان سے ملاقات کے دوران مارک روٹے نے ان ممالک کو سخت لہجے میں متنبہ کیا کہ وہ روسی صدر ولادیمیر پوتن کو امن معاہدے کو سنجیدگی سے لینے پر آمادہ کریں۔
مارک روٹے نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا:”میری ان تینوں ممالک سے، خاص طور پر اگر آپ بھارت کے وزیر اعظم، چین کے صدر یا بیجنگ کے نمائندے ہیں، تو آپ سے اپیل ہے کہ اس معاملے پر توجہ دیں، کیونکہ یہ آپ پر بہت بھاری پڑ سکتا ہے۔”
انہوں نے مزید کہا:”براہ کرم پوتن کو فون کریں اور کہیں کہ وہ امن مذاکرات کو سنجیدگی سے لیں، کیونکہ اگر ایسا نہ ہوا تو اس کے سنگین اثرات برازیل، بھارت اور چین پر پڑیں گے۔”
ادھر نیٹو چیف (مارک روٹے) نے یہ بھی کہا کہ یورپ، امن مذاکرات سے پہلے یوکرین کو سب سے مضبوط پوزیشن میں لانے کے لیے ہر ممکن معاشی مدد دے گا۔ انہوں نے بتایا کہ ٹرمپ کے ساتھ ہونے والے معاہدے کے تحت اب امریکہ یوکرین کو بڑی تعدادمیں ہتھیار فراہم کرے گا، اور ان ہتھیاروں کی فراہمی کے اخراجات یورپی ممالک برداشت کریں گے۔
جب ان سے (مارک روٹے) پوچھا گیا کہ کیا یوکرین کو طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل بھی دیے جائیں گے، تو انہوں نے جواب دیا:”یہ صرف دفاعی نہیں بلکہ جارحانہ بھی ہے۔ اس میں ہر طرح کے ہتھیار شامل ہیں، لیکن اس پر ابھی تفصیلی بات چیت نہیں ہوئی۔ اس پر اب پینٹاگون، یورپ میں سپریم الائیڈ کمانڈر، اور یوکرینی قیادت مل کر کام کر رہے ہیں۔”
یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یوکرین کو ہتھیاروں کی ایک نئی کھیپ دینے کا اعلان کیا ہے، اور ساتھ ہی خبردار کیا ہے کہ اگر 50 دنوں کے اندر امن معاہدہ نہیں ہوا تو روس سے سامان خریدنے والوں پر 100 فیصد تک سیکنڈری ٹیرف عائد کیے جائیں گے۔










