امت نیوز ڈیسک //
تبدیلی مذہب اور لو جہاد پر گرما گرم بحث کے درمیان الہ آباد ہائی کورٹ کے ایک فیصلے نے نئی ہلچل مچا دی ہے۔ عدالت نے واضح کیا ہے کہ مذہب تبدیل کیے بغیر مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد کے درمیان شادی غیر قانونی تصور کی جائے گی۔ یہ فیصلہ خاص طور پر آریہ سماج جیسے اداروں کے پیش نظر دیا گیا ہے جو شادی کے سرٹیفکیٹ جاری کرتے ہیں اور شادی کی رسم کے لیے مقررہ فیس اور دکشنہ لے کر کسی کو بھی نکاح نامہ جاری کرتے ہیں۔ یعنی ایسی شادیاں قانون کی خلاف ورزی ہیں۔
اس معاملے میں سخت موقف اختیار کرتے ہوئے جسٹس پرشانت کمار کی سنگل بنچ نے ریاست کے ہوم سکریٹری کو حکم دیا ہے کہ وہ آریہ سماج سوسائٹیوں کی جانچ ڈی سی پی سطح کے آئی پی ایس افسر سے کروائیں، جو مخالف مذہب کے لوگوں یا نابالغ جوڑوں کو شادی کا سرٹیفکیٹ جاری کر رہے ہیں۔ عدالت نے ہدایت کی ہے کہ اس حکم کی تعمیل رپورٹ 29 اگست 2025 تک ذاتی حلف نامے کے ساتھ پیش کی جائے۔
بتادیں کہ یہ معاملہ مشرقی اتر پردیش کے مہاراج گنج کے نکلول تھانہ علاقے سے متعلق ہے، جہاں سونو عرف سہنور کے خلاف ایک نابالغ لڑکی کے اغوا، عصمت دری اور پوکسو ایکٹ کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔ ہائی کورٹ میں مقدمے کی کارروائی کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے ایک درخواست دائر کی گئی تھی، جس میں دلیل دی گئی تھی کہ درخواست گزار نے متاثرہ لڑکی سے آریہ سماج مندر میں شادی کی اور اب وہ بالغ ہے، اس لیے اس کے خلاف فوجداری کارروائی کو منسوخ کیا جائے۔
حکومتی وکیل نے درخواست گزار کے دلائل کی مخالفت کی
ساتھ ہی حکومتی وکیل نے اس دلیل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ لڑکا اور لڑکی مختلف مذاہب سے تعلق رکھتے ہیں اور مذہب تبدیل کیے بغیر شادی قانونی طور پر غیر قانونی ہے۔ دونوں فریقوں کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے نہ صرف ملزمین کی عرضی کو مسترد کر دیا بلکہ آریہ سماج مندروں کی طرف سے جعلی نکاح نامہ جاری کرنے کے معاملات پر بھی سخت تشویش کا اظہار کیا۔ ساتھ ہی عدالت نے ایسی سرگرمیوں کو روکنے کے لیے فوری اور سخت کارروائی کی ضرورت پر زور دیا۔










