اُمت نیوز ڈیسک//
جموں و کشمیر میں سیکورٹی ایجنسیاں ’’بیڈروم جہادیوں‘‘ کے نام سے ایک نئے اور پوشیدہ خطرے سے نبردآزما ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے گھروں کی محفوظ چار دیواری میں بیٹھ کر سوشل میڈیا کے ذریعے غلط معلومات پھیلاتے ہیں اور فرقہ وارانہ کشیدگی کو ہوا دیتے ہیں۔
حکام کے حوالے سے پریس ٹرسٹ آف انڈیا (پی ٹی آئی)نے اپنی ایک رپورٹ میںکہا کہ’’ اس قسم کا دشمن روایتی عسکریت پسندوں سے بالکل مختلف ہے اور خطے کو غیر مستحکم کرنے کی سرحد پار سے جاری پیچیدہ کوششوں کے مرکز میں ہے۔ اس سلسلے میں مختلف سوشل میڈیا ہینڈلز کے ایسے نیٹ ورک کا انکشاف ہوا ہے جس کے بارے میں مانا جاتا ہے کہ یہ پاکستان میں موجود دعسکری گروپوں اور ان کے حمایتیوں کے زیر کنٹرول ہے، جو مقامی ڈیجیٹل فضا میں فعال طور پر دراندازی کر رہے ہیں اور کشمیری وادی میں فرقہ وارانہ کشیدگی اور بدامنی پیدا کرنے کے واضح مقصد کے تحت اشتعال انگیز مواد اور گمراہ کن پروپیگنڈا پھیلا رہے ہیں۔‘‘
ایک عہدیدار نے واقعات سے واقفیت ظاہر کرتے ہوئےخبر رساں ادرے سے کہا، سالوں تک مسلح شدت پسندوں سے لڑنے کے بعد اب سیکورٹی ایجنسیاں اس چھپے ہوئے دشمن کا سامنا کر رہی ہیں، جن میں یہ نئے دور کے جہادی کمپیوٹر اور اسمارٹ فون کا استعمال کر کے کہیں سے بھی جنگ چھیڑتے ہیں، افواہیں پھیلاتے ہیں اور نوجوانوں کو متاثر کرتے ہیں۔ یہ رجحان 2017 میں سامنے آیا تھا لیکن 2019 میں جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کیے جانے کے بعد انٹرنیٹ پر پابندی اور مؤثر کارروائی سے یہ ختم ہو گیا۔
حکام نے بتایا کہ گزشتہ سال اسمبلی انتخابات کے کامیاب انعقاد کے بعد ’’بیڈروم جہادی‘‘ دوبارہ سامنے آئے ہیں، جن کا مقصد ممکنہ طور پر منتخب حکومت کو غیر مستحکم کرنا اور بدامنی کی فضا پیدا کرنا ہے۔
حکام کے مطابق کئی ہفتوں سے جاری اس تحقیقات میں ہزاروں سوشل میڈیا پوسٹس، تبصروں اور نجی پیغامات کی جانچ کی گئی اور تجزیے سے ان بدنیتی پر مبنی آن لائن سرگرمیوں اور پاکستان میں موجود ماسٹر مائنڈز کے درمیان براہِ راست تعلق کے پختہ شواہد ملے۔
حکام نے بتایا کہ حال ہی میں محرم کے دنوں میں ایک پوسٹ کے سبب مسلمان کمیونٹی کے دو فرقوں کے درمیان کشیدگی پیدا ہو گئی تھی، لیکن سری نگر پولیس کی مؤثر کارروائی سے آگ پھیلنے سے پہلے ہی بجھا دی گئی۔
’’بیڈروم جہادی‘‘ کی اصطلاح حکام نے ان لوگوں کے لیے استعمال کی ہے جو ایک مجازی میدانِ جنگ میں کام کرتے ہیں، جہاں ’’خونی جنگ لڑی جاتی ہے، لیکن الفاظ کے ذریعے۔تاہم اس کا نوجوانوں کے ذہن پر گہرا اثر پڑتا ہے اور افواہیں جتنی آسانی سے پھیلتی ہیں وہ ایک بڑا چیلنج بن جاتی ہیں۔
حکام نے کہا، کوئی بھی شخص اپنے بستر یا صوفے پر بیٹھ کر ہزاروں چیٹ گروپوں میں سے کسی ایک میں جھوٹی خبر ڈال سکتا ہے اور پورا مرکز کے زیر انتظام خطہ فرقہ وارانہ تقسیم میں پھنس سکتا ہے۔کئی ’’ایکس‘‘ (سابق ٹوئٹر) صارفین نے سرحد پار سے پھیلائی جانے والی جھوٹی خبروں کو آگے بڑھانے کے لیے جعلی اکاؤنٹس بنائے ہیں۔ اس سلسلے میں ایک اور عہدیدار نے خبر رساں ادارے سےکہا، ’’یہ بھوسے کے ڈھیر میں سوئی تلاش کرنے جیسا ہے، لیکن پھر بھی مؤثر پولیسنگ کی وجہ سے ایسے عناصر کو روکنے یا گرفتار کرنے میں مدد ملی ہے۔










