ان دنوں اسکولوں میں سالانہ پروگرام منعقد ہورہے ہیں جن میں بچوں کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار کا موقع دیا جاتا ہے۔ یہ دن تعلیمی نشوونما اور تخلیقی کارکردگی کے جائزے کا اہم موقع سمجھا جاتا تھا۔ والدین اور سماج کے باشعور افراد کو مدعو کیا جاتا تاکہ وہ تعلیمی ترقی کا مشاہدہ کریں۔
ماضی میں اس موقع پر اساتذہ، والدین اور منتظمین بچوں کی تحقیقی اور تخلیقی صلاحیتوں کی قدر کرتے تھے۔ اساتذہ کو پہلے سے ذمہ داریاں دی جاتی تھیں کہ وہ علمی اور اخلاقی پروگرام تیار کریں۔ مگر اب منظر بدل گیا ہے۔ تعلیم کا مقصد بکھر چکا ہے۔ اسکولوں نے یوٹیوب اور فیس بک کے غیر تعلیمی مواد کو اپنایا ہے۔ چیرمین، پرنسپل اور اساتذہ ریڈی میڈ مواد لا کر سالانہ پروگراموں میں غیر اخلاقی نمائش کرتے ہیں۔ایکسپوجر کے نام پر والدین کو دھوکہ دیا جاتا ہے۔ وہ سامعین بن کر اپنے بچوں، خاص طور پر بیٹیوں، کے ناچ نغموں کا تماشہ دیکھتے ہیں۔ کچھ اسکول اپنی تشہیر کے لیے ہماری بچیوں کو تفریحی مواد کا حصہ بنا دیتے ہیں۔ اخلاقی حدود ٹوٹ چکی ہیں۔ ان پروگراموں میں نہ تعلیم ہے، نہ تربیت۔ صرف تماشہ ہے۔یہ ادارے سائنسی اور تحقیقی تعلیم کے قابل نہیں رہے۔ وہ صرف اسی چیز کی نقل کرتے ہیں جو جاہل عوام کو پسند ہو۔
والدین بھی کمزور ہیں، وہ اپنی بیٹیوں کو ایسے تجارتی استعمال سے نہیں روکتے۔ اسکول چند نمبروں یا عارضی واہ واہ کے لیے سوشل میڈیا پر اپنی تشہیر کرتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ ہمارے بچے بڑے امتحانات میں کمزور ثابت ہوتے ہیں۔تعلیمی معیار گر چکا ہے۔ ہم تماشائی بن گئے ہیں۔ اب بھی وقت ہے کہ ہم اپنے تعلیمی اداروں کا محاسبہ کریں۔ اسکولوں سے پوچھیں کہ وہ تعلیم کے نام پر کیا کر رہے ہیں۔ ہماری اخلاقی تربیت غائب ہے۔ صرف اسناد سے معاشرہ نہیں بنتا۔اللہ تعالیٰ ہمارے بچوں کو علم، اخلاق اور تربیت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آمین۔









