امت نیوز ڈیسک //
سرینگر، 24 نومبر: وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے پیر کو کہا کہ ماتا ویشنو دیوی یونیورسٹی میں داخلوں کو لے کر ہونے والی بحث آئینی اصولوں سے ہٹ رہی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر داخلوں کے فیصلے مذہب کی بنیاد پر کیے گئے تو اس کا اثر دیگر سرکاری خدمات پر بھی پڑ سکتا ہے۔
میڈیا سے بات کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے اسمبلی کی جانب سے منظور شدہ اُس ایکٹ کا حوالہ دیا جس کے تحت ماتا ویشنو دیوی یونیورسٹی قائم ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ اس قانون میں کہیں بھی یہ نہیں لکھا کہ کسی مخصوص مذہب کے لڑکے یا لڑکیوں کو داخلہ نہیں دیا جائے گا۔ “جب اسمبلی نے یونیورسٹی قائم کرنے کا بل پاس کیا تھا، تب کہاں لکھا تھا کہ ایک مذہب کے طلبہ کو داخلے سے خارج کیا جائے؟” انہوں نے KNS سے بات کرتے ہوئے کہا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایکٹ میں واضح طور پر درج ہے کہ داخلے کا معیار صرف میرٹ ہوگا۔ “اُس وقت صاف کہا گیا تھا کہ داخلہ میرٹ پر ہوگا، مذہب پر نہیں۔ آج جب میرٹ کی بنیاد پر داخلے ہو رہے ہیں تو کچھ لوگوں کو یہ بات پسند نہیں آرہی،” انہوں نے کہا۔
عمر عبداللہ نے زور دے کر کہا کہ میرٹ کو نظرانداز کرکے داخلہ دینا ممکن نہیں۔ “جہاں تک مجھے معلوم ہے، میرٹ کے بغیر داخلہ نہیں دیا جا سکتا۔ اگر کوئی میرٹ کو بائی پاس کرنا چاہتا ہے تو اسے سپریم کورٹ کی اجازت درکار ہوگی،” انہوں نے کہا۔ ان کے مطابق داخلوں میں مذہب کو شامل کرنا آئینی اصولوں کی خلاف ورزی ہوگی۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر اداروں کے فیصلوں میں مذہب کو بنیاد بنایا گیا تو اس کے دور رس نتائج نکلیں گے۔ “اگر فیصلے مذہب کی بنیاد پر ہوں گے، تو کیا سماجی بہبود کی اسکیمیں بھی اسی بنیاد پر چلیں؟ کیا پولیس افسران اپنے فرائض مذہب دیکھ کر انجام دیں؟” انہوں نے سوال کیا۔
عمر عبداللہ نے اپوزیشن لیڈر سنیل شرما کو مشورہ دیا کہ وہ اسمبلی کے ریکارڈ اور متعلقہ بل کا جائزہ لیں، کیونکہ اس میں کہیں بھی مذہب کی بنیاد پر نشستوں کی تقسیم کا ذکر موجود نہیں۔
ممکنہ بجلی نرخ میں اضافے کی خبروں پر انہوں نے کہا کہ ایسی کوئی فائل ان کے دفتر میں نہیں آئی۔ “میں ہی پاور منسٹر ہوں، اور میرے سامنے ابھی تک ایسی کوئی فائل نہیں آئی،” انہوں نے کہا۔
انہوں نے مزید کہا کہ معدنی بلاکس کی جاری ای نیلامی وزارتِ معدنیات کی نگرانی میں شفاف الاٹمنٹ اور خطے میں سیمنٹ صنعت کی ترقی کے لیے کی جا رہی ہے۔









