امت نیوز ڈیسک //
نئی دہلی: پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس کا آج دوسرا دن ہے۔ اجلاس کے پہلے دن کی طرح آج دوسرے دن بھی ایس آئی آر کے خلاف اپوزیشن کا احتجاج اور ہنگامہ جاری رہا۔ دوسرے دن کی کارروائی شروع ہونے سے قبل ہی ایس آئی آر کے ساتھ ‘سنچار ساتھی ایپ معاملہ بھی طول پکڑ گیا۔
اسی بیچ کانگریس کے قومی صدر ملکارجن کھڑگے اور پارٹی کے سابق سربراہان سونیا گاندھی اور راہل گاندھی سمیت اپوزیشن پارٹیوں کے رہنماؤں نے منگل کو پارلیمنٹ ہاؤس کمپلیکس میں ایس آئی آر کے خلاف شدید احتجاج کیا اور اس پر بحث کا مطالبہ کیا۔
اپوزیشن لیڈران نے انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظر ثانی (SIR) مہم کے خلاف پوسٹر، پلے کارڈز اور ایک بڑا بینر کے ساتھ احتجاج کیا جس پر ‘اسٹاپ ایس آئی آر، سٹاپ ووٹ چوری’ درج تھا ۔ اس دوران اپوزیشن لیڈران نے حکومت کے خلاف زوردار نعرے لگائے۔
اس احتجاج میں کھڑگے، سونیا گاندھی، راہل گاندھی، پرینکا گاندھی واڈرا، ڈی ایم کے کے کنیموزی، اور ٹی آر بالو سمیت متعدد قدآور لیڈران شامل ہوئے اور پارلیمنٹ کے مکر دوار کے سامنے ایس آئی آر کے خلاف صدائے احتجاج بلند کیا۔
اس سے قبل سرمائی اجلاس کے پہلے دن لوک سبھا کے بار بار ملتوی ہونے اور ایس آئی آر پر بحث کے مطالبے کے بیچ راجیہ سبھا سے اپوزیشن کا واک آؤٹ دیکھنے میں آیا۔ وہیں حکومت کا کہنا ہے کہ وہ بحث کے خلاف نہیں ہے، لیکن ٹائم لائن مقرر نہیں کی جا سکتی۔
راجیہ سبھا میں پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو نے زور دے کر کہا کہ حکومت ایس آئی آر پر بحث کرنے کے خلاف نہیں ہے، تاہم انہوں نے اپوزیشن سے کہا کہ وہ ٹائم لائن طے کرنے پر اصرار نہ کرے۔ وزیر کے جواب سے مطمئن نہ ہونے پر متعدد اپوزیشن جماعتوں کے ارکان نے ایوان بالا سے واک آؤٹ کیا۔ راجیہ سبھا کے چیئرپرسن سی پی رادھا کرشنن نے اس سے قبل نو اپوزیشن اراکین کی طرف سے کئی مسائل بشمول ایس آئی آر پر بحث کے لیے دیے گئے نوٹس کو مسترد کر دیا جس کی وجہ سے اپوزیشن نے احتجاج کیا۔
کانگریس کی رکن پارلیمنٹ رینوکا چودھری نے منگل کو راجیہ سبھا میں سنچار ساتھی ایپ پر تحریک التواء پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ "رازداری کا حق اور شخصی آزادی کے بنیادی حق ہے جس کی ضمانت آئین کے آرٹیکل 21 کے تحت ضمانت دی گئی ہے۔ محکمہ ٹیلی کمیونیکیشن کا سرکلر اسمارٹ فون مینوفیکچررز اور درآمد کنندگان کو ہدایت دیتا ہے کہ وہ "سانچار ساتھی” ایپلی کیشن کو اس طرح انسٹال کریں کہ اسے ہٹایا نہیں جا سکے۔ یہ فیصلہ حکومت کو مناسب حفاظتی اقدامات یا پارلیمانی نگرانی کے بغیر شہریوں کی ہر نقل و حرکت، بات چیت اور فیصلوں کو مسلسل نگرانی میں رکھنے کے لیے وسیع نگرانی کے قابل بناتا ہے۔” انہوں نے اپنی تحریک التوا میں کہا۔









