امت نیوز ڈیسک //
سری نگر، 27 دسمبر:نیشنل کانفرنس کے سری نگر سے رکنِ پارلیمنٹ آغا روح اللہ مہدی کی جانب سے ریزرویشن پالیسی میں عدم اصلاح کے خلاف وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی رہائش گاہ کے باہر احتجاج کے اعلان کے ایک دن بعد، پارٹی قیادت نے سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ان پر مرکزی حکومت کے کہنے پر کام کرنے کا الزام عائد کیا ہے اور کہا ہے کہ اگر وہ پارٹی پالیسیوں کے ساتھ چلنے کے لیے تیار نہیں ہیں تو انہیں استعفیٰ دے دینا چاہیے۔
جموں و کشمیر کے وزیر جاوید احمد رانا نے کہا کہ آغا روح اللہ مہدی کے دہلی میں دوست ہیں اور وہ ان ہی کے اشارے پر یہ سب کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ سب نئی دہلی کی کارستانی ہے۔ اگر واقعی انہیں ریزرویشن پالیسی کے معاملے پر تشویش ہے تو انہیں جموں و کشمیر حکومت کو موردِ الزام ٹھہرانے کے بجائے اپنے دہلی کے دوستوں سے کہنا چاہیے کہ وہ اس فائل کو کلیئر کروائیں جو جموں و کشمیر حکومت کی منظوری کے بعد لیفٹیننٹ گورنر کو بھیجی گئی ہے اور تاحال ایل جی کے دفتر میں زیرِ التوا ہے۔
جاوید احمد رانا نے کہا کہ آغا روح اللہ مہدی کو عوامی حکومت کے خلاف احتجاج کرنے کے بجائے لیفٹیننٹ گورنر کے دفتر یا رہائش گاہ کے باہر احتجاج کرنا چاہیے تھا، کیونکہ حکومت پہلے ہی اس معاملے پر فیصلہ کر چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی حکومت کے خلاف احتجاج کرنا اخلاقی طور پر درست نہیں ہے۔ “ہم نے اپنا کام کر دیا ہے، اب گیند ایل جی کے کورٹ میں ہے۔”
وزیر موصوف نے آغا روح اللہ مہدی پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ کچھ لوگ جب زیادہ وقت دہلی میں گزارتے ہیں تو وہ بااثر حلقوں میں اٹھنا بیٹھنا شروع کر دیتے ہیں اور پھر اپنی حیثیت سے بڑھ کر خود کو سمجھنے لگتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سری نگر کے رکن پارلیمنٹ بھی اسی “دہلی انفیکشن” کا شکار ہو گئے ہیں، لیکن نیشنل کانفرنس کے طویل تجربے سے یہ ثابت ہے کہ دہلی انفیکشن جموں و کشمیر میں کامیاب نہیں ہوتا۔











