امت نیوز ڈیسک //
سری نگر، 30 دسمبر، کے این ٹی: پی ڈی پی کے رکن اسمبلی وحید پرہ نے قانونی تحفظات کی مبینہ سنگین خلاف ورزی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں ایک ہی دن یو اے پی اے کے تحت دو مختلف این آئی اے عدالتوں میں سماعت کے لیے طلب کیا گیا ہے، حالانکہ دونوں مقدمات میں الزامات یکساں ہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک تفصیلی پوسٹ میں وحید پرہ نے بتایا کہ انہیں بیک وقت جموں اور سری نگر کی این آئی اے عدالتوں میں پیش ہونے کا حکم دیا گیا ہے، جبکہ دونوں شہروں کے درمیان تقریباً 300 کلومیٹر کا فاصلہ ہے۔ انہوں نے اس صورتحال کو عملی طور پر “ڈبل جیپرڈی” یعنی ایک ہی الزام پر دو بار قانونی کارروائی کا سامنا قرار دیا۔
وحید پرہ نے کہا کہ اگرچہ قانون میں ایک ہی جرم پر دو بار سزا نہ دینے کا اصول تسلیم شدہ ہے، لیکن طویل اور بار بار کی قانونی کارروائیوں کے ذریعے اس کی روح کو مجروح کیا جاتا ہے۔ ان کے مطابق ایک ہی قانون اور ایک ہی الزامات کے تحت متوازی مقدمات کا سامنا کرنا کسی بھی فرد کے لیے ناقابل برداشت بوجھ بن جاتا ہے، جہاں خود قانونی طریقہ کار ہی سزا کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔
انہوں نے طویل عدالتی لڑائیوں کے انسانی پہلو پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ عدالت کی تاریخیں خاندانی زندگی کی جگہ لے لیتی ہیں، کیس نمبرز انسان کی شناخت بن جاتے ہیں اور فیصلے کے بغیر ہی برسوں کی زندگی معطل رہتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بار بار اپنی بے گناہی ثابت کرنے کا تقاضا وقت، صحت اور ذہنی سکون کو شدید متاثر کرتا ہے۔
وحید پرہ نے مزید کہا کہ جسے قانون “طریقہ کار” کہتا ہے، وہ ملزم کے لیے خوف، تھکن اور تذلیل بن جاتا ہے۔ ایک ہی دن دو عدالتوں میں پیش ہونے کا حکم، ان کے مطابق، قانون کو انصاف کی تلاش کے بجائے جسمانی اور ذہنی بقا کا امتحان بنا دیتا ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ یہ مسئلہ صرف ان کے ذاتی معاملے تک محدود نہیں بلکہ ملک بھر میں کئی افراد برسوں سے طویل مقدمات میں الجھے ہوئے ہیں، جہاں انہیں انسان کے بجائے فائل یا ملزم کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ وحید پرہ نے خبردار کیا کہ جب قانون انسانیت سے کٹ جائے تو وہ ظلم کا ذریعہ بن جاتا ہے، جہاں فیصلہ آنے سے بہت پہلے ہی ناانصافی جنم لے لیتی ہے۔ [کے این ٹی]











