امت نیوز ڈیسک //
یروشلم : اسرائیل نے منگل کو اعلان کیا ہے کہ وہ 2026 کے آغاز سے غزہ میں کام کرنے والی دو درجن سے زائد انسانی امدادی تنظیموں کی سرگرمیاں معطل کر دے گا، جن میں ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز (ایم ایس ایف) بھی شامل ہے۔ اسرائیلی حکام کے مطابق یہ تنظیمیں بین الاقوامی اداروں کی جانچ (ویٹنگ) سے متعلق نئے ضوابط پر پورا نہیں اترتیں۔
وزارتِ امورِ ڈائسپورا نے کہا کہ یکم جنوری سے جن تنظیموں پر پابندی عائد کی جائے گی، انہوں نے اپنے عملے، فنڈنگ اور آپریشنز سے متعلق مطلوبہ معلومات فراہم نہیں کیں۔ وزارت نے الزام عائد کیا کہ ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز نے بعض ایسے ملازمین کے کردار کی وضاحت نہیں کی جن پر اسرائیل نے حماس اور دیگر عسکری گروہوں سے تعاون کا الزام لگایا ہے۔
بین الاقوامی امدادی تنظیموں کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے نئے قواعد من مانی نوعیت کے ہیں اور ان سے عملے کی سلامتی کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ وزارت کے مطابق غزہ میں کام کرنے والی این جی اوز میں سے تقریباً 25 تنظیموں، یعنی 15 فیصد، کے اجازت نامے کی تجدید نہیں کی گئی۔
ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز، جسے فرانسیسی مخفف ایم ایس ایف کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، نے فوری طور پر تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔ اسرائیل اس سے قبل 2024 میں بھی تنظیم کے بعض عملے پر غزہ میں عسکری سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزامات لگا چکا ہے، جس پر ایم ایس ایف نے کہا تھا کہ وہ ان الزامات پر گہری تشویش رکھتا ہے اور انہیں سنجیدگی سے لے رہا ہے، اور یہ کہ وہ کبھی جان بوجھ کر کسی عسکری سرگرمی میں ملوث افراد کو ملازمت نہیں دیتا۔
اسرائیل اور بین الاقوامی تنظیموں کے درمیان غزہ میں امداد کی مقدار پر اختلافات برقرار ہیں۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ 10 اکتوبر سے نافذ ہونے والی دو سالہ جنگ کے بعد طے پانے والی تازہ جنگ بندی کے تحت امدادی وعدوں پر عمل کر رہا ہے، تاہم انسانی امدادی ادارے اسرائیلی اعداد و شمار سے اختلاف کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ تباہ حال فلسطینی علاقے، جہاں 20 لاکھ سے زائد افراد رہتے ہیں، کو کہیں زیادہ امداد کی اشد ضرورت ہے۔











