امت نیوز ڈیسک //
جموں، 6 جنوری : جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے منگل کے روز ایس ایم وی ڈی انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل ایکسی لینس میں ایم بی بی ایس داخلوں کے خلاف احتجاج پر بی جے پی اور شری ماتا ویشنو دیوی سنگھرش سمیتی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ ادارے میں داخل ہونے والے طلبہ نے خالصتاً میرٹ پر نشستیں حاصل کی ہیں، کسی قسم کی سفارش یا رعایت نہیں دی گئی۔
احتجاج پر سخت ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا، “کس بات کا احتجاج؟ ان طلبہ نے محنت سے میڈیکل سیٹیں حاصل کی ہیں۔ اگر مظاہرین نہیں چاہتے کہ یہ طلبہ یہاں پڑھیں تو انہیں کہیں اور منتقل کر دیا جائے۔ ایسے ماحول میں کوئی بھی طالب علم تعلیم جاری رکھنا نہیں چاہے گا۔”
بطور والد بات کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ وہ کبھی بھی اپنے بچے کو ایسے ادارے میں پڑھانا پسند نہیں کریں گے جہاں سیاست اور نفرت تعلیمی ماحول پر حاوی ہو۔ انہوں نے حکومتِ ہند اور وزارتِ صحت سے مطالبہ کیا کہ طلبہ کو دیگر میڈیکل کالجوں میں منتقل کیا جائے۔
وزیر اعلیٰ نے سخت لہجے میں کہا، “جہاں سیاست کھیلی جا رہی ہو وہاں ہم طلبہ کو نہیں پڑھنے دیں گے۔ اس میڈیکل کالج کو بند کر دیا جائے، اسے کھولنے کا کوئی جواز نہیں۔ ہمیں ایسے کالج کی ضرورت نہیں۔”
بی جے پی پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ لداخ کو یونین ٹیریٹری بنا کر افراتفری پیدا کی گئی اور اب جموں کے ساتھ بھی یہی تجربہ دہرایا جا رہا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ جموں و کشمیر کو مزید نقصان نہ پہنچایا جائے۔
عمر عبداللہ نے الزام لگایا کہ بی جے پی ہر مسئلے کو مذہب کی عینک سے دیکھتی ہے اور تعلیم، کھیل اور صحت کو بھی فرقہ وارانہ رنگ دیا جا رہا ہے۔ ریزرویشن کے معاملے پر انہوں نے صحافیوں کو لیفٹیننٹ گورنر سے رجوع کرنے کا مشورہ دیا۔
وزیر اعلیٰ نے مکمل ریاستی درجہ کی بحالی کو بڑا چیلنج قرار دیا اور کہا کہ موجودہ حالات میں بجٹ اجلاس کا انعقاد بھی آسان نہیں۔ انہوں نے ڈیلی ویجرز کی مستقلی پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔
اس موقع پر انہوں نے بنگلہ دیشی کرکٹر مستفیض الرحمان کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ان کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں اور آئی پی ایل سے ان کی علیحدگی حالات کے دباؤ کا نتیجہ ہے۔ (کے این ٹی)









