امت نیوز ڈیسک //
سری نگر، 6 جنوری : ریجنل ٹرانسپورٹ آفیسر قاضی عرفان نے منگل کے روز واضح کیا کہ اب تک ٹرانسپورٹ کرایوں میں کسی قسم کا اضافہ نہیں کیا گیا ہے اور کرایوں میں ممکنہ تبدیلی صرف حکومت کی باضابطہ منظوری کے بعد ہی نافذ العمل ہوگی۔
کشمیر نیوز ٹرسٹ سے بات کرتے ہوئے آر ٹی او نے بتایا کہ ٹرانسپورٹ کمشنر نے کشمیر اور جموں ڈویژن کے ٹرانسپورٹر اداروں کے ساتھ مشاورت کی تھی۔ ان مذاکرات کے دوران بس کرایوں میں ایک مخصوص شرح سے اضافے کی تجویز تیار کی گئی، جسے کرایہ تعین کمیٹی کے پاس بھیجا گیا۔ کمیٹی نے اس تجویز کو مزید غور و خوض کے لیے حکومت کو ارسال کر دیا ہے۔
انہوں نے کہا، “یہ تجویز اس وقت حکومت کے پاس زیرِ غور ہے۔ آج تک کسی بھی قسم کے ٹرانسپورٹ کرایے میں اضافہ نہیں ہوا ہے۔ اب فیصلہ حکومت کو کرنا ہے اور منظوری کے بعد ہی نظرِ ثانی شدہ کرایوں کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کیا جائے گا۔”
باہر کی ریاستوں سے خریدی گئی گاڑیوں کے حوالے سے آر ٹی او نے کہا کہ ایسی تمام گاڑیوں کا مقامی ٹرانسپورٹ دفتر میں مکمل دستاویزات کے ساتھ رجسٹریشن لازمی ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ نو آبجیکشن سرٹیفکیٹ (این او سی) کی معیاد صرف چھ ماہ ہوتی ہے، تاہم بعض معاملات میں باہر سے لائی گئی گاڑیاں دو سے تین برس تک دوبارہ رجسٹر نہیں کی گئیں، جو قواعد کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ٹرانسپورٹ محکمہ نے ایسے معاملات کا نوٹس لیا ہے اور رجسٹریشن ضوابط پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے کارروائی کی جائے گی۔
سری نگر شہر میں ٹریفک جام کے مسئلے پر بات کرتے ہوئے آر ٹی او نے کہا کہ سڑکوں پر دباؤ کم کرنے کے لیے مسلسل اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ای رکشاؤں کی بڑی شاہراہوں پر آمد و رفت محدود کرنے جیسے اقدامات پہلے ہی عمل میں لائے جا چکے ہیں، جو ٹریفک کی روانی بہتر بنانے کی وسیع حکمتِ عملی کا حصہ ہیں۔
انہوں نے مزید کہا، “یہ کوئی ایک وقتی مہم نہیں ہے۔ ٹریفک مینجمنٹ ایک مسلسل عمل ہے اور شہر میں آمد و رفت کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک محکمہ کے ساتھ تال میل سے مزید اقدامات کیے جائیں گے۔” (کے این ٹی)








