امت نیوز ڈیسک //
ایک اہم پیش رفت میں مرکزی وزارتِ داخلہ (ایم ایچ اے) نے لداخ سے متعلق امور پر غور کے لیے قائم اعلیٰ سطحی کمیٹی کا اجلاس جنوری کے آخری حصے میں منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ایم ایچ اے نے لداخ کے چیف سیکریٹری کو ارسال کیے گئے ایک خط میں بتایا ہے کہ اعلیٰ سطحی کمیٹی—جس میں وزارتِ داخلہ، لداخ انتظامیہ اور لداخ کی قیادت کے نمائندے شامل ہیں—کا اگلا اجلاس جنوری کے آخر میں ہوگا۔ خط میں چیف سیکریٹری کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ کمیٹی کے ارکان سے ان کی سہولت کے مطابق تاریخوں پر مشاورت کر کے وزارتِ داخلہ کو آگاہ کریں۔
یہ فیصلہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب لیہ ایپکس باڈی (LAB) اور کرگل ڈیموکریٹک الائنس (KDA)—جو لداخ کے لیے ریاستی درجہ اور آئینی تحفظات کے مطالبات کی قیادت کر رہے ہیں—نے اجلاس میں تاخیر پر ناراضگی کا اظہار کیا تھا۔ لداخ کی قیادت اور حکومتِ ہند کے درمیان آخری مذاکرات 22 اکتوبر 2025 کو نئی دہلی میں ہوئے تھے۔
واضح رہے کہ لیہ ایپکس باڈی اور کرگل ڈیموکریٹک الائنس نے وزارتِ داخلہ کو 29 صفحات پر مشتمل مسودہ تجویز پیش کی ہے، جس میں لداخ کے لیے ریاستی درجہ، چھٹی شیڈول کا نفاذ، اور 24 ستمبر کے احتجاج کے بعد گرفتار افراد کے لیے عام معافی کا مطالبہ شامل ہے۔
24 ستمبر کو ہونے والے احتجاج کے دوران پرتشدد واقعات میں چار افراد جاں بحق جبکہ پولیس اور نیم فوجی دستوں سمیت تقریباً 100 افراد زخمی ہوئے تھے۔ مظاہرین نے متعدد عمارتوں کو نقصان پہنچایا، ایک بی جے پی دفتر اور پولیس گاڑی کو آگ لگا دی گئی تھی۔ یہ جھڑپیں سماجی کارکن سونم وانگچک کی قیادت میں جاری بھوک ہڑتال کے 15ویں دن ریاستی درجہ اور آئینی تحفظات کے مطالبات پر شروع ہوئیں۔ سونم وانگچک کو نیشنل سیکیورٹی ایکٹ کے تحت گرفتار کر کے جودھپور جیل میں رکھا گیا ہے۔









