امت نیوز ڈیسک //
سرینگر : میرواعظ کشمیر ڈاکٹر مولوی محمد عمر فاروق کو آج مسلسل تیسرے جمعہ بھی خانہ نظر بند رکھا گیا اور انہیں اپنے گھر واقع نگین، سرینگر سے جامع مسجد نوہٹہ جانے کی اجازت نہیں دی گئی اور میرواعظ آج بھی جمعہ کا خطبہ ادا نہیں کر سکے۔
میرواعظ نے سماجی رابطہ گاہ ایکس پر ایک بیان میں کہا ’’ایک اور جمعہ اور ایک بار پھر حکام نے مجھے جامع مسجد جانے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا، اس طرح کی بار بار پابندیاں انتہائی تکلیف دہ ہیں، یہ انتہائی افسوسناک ہے کہ میں اس غیر معمولی خشک سردی میں بارش اور برف و باراں کے لیے مومنین کی اجتماعی دعا کی قیادت تک نہیں کر سکا۔‘‘
دریں اثناء میرواعظ نے مولانا محمد یاسین ہمدانی کی اہلیہ کے جنازے میں شرکت کی اجازت طلب کی تھی جسے حکام نے مسترد کر دیا تھا۔ میرواعظ نے مولانا ریاض ہمدانی اور سوگوار خاندان کے ساتھ دلی تعزیت کرتے ہوئے مرحوم کی روح کے ایصال ثواب اور غم کی اس گھڑی میں اہل خانہ کے لیے صبر و استقامت کی دعا کی۔
دوسری جانب، میرواعظ کی خانہ نظر بندی کے باوجود جامع مسجد کے امام حئی، مولاند سعید احمد نقشبندی نے بارش اور برف باری کے لیے خصوصی دعا کی قیادت کی، جس میں نمازیوں کی ایک بڑی جماعت نے شرکت کی، کیونکہ طویل خشک سالی وادی میں تشویش کا باعث بنا ہوا ہے۔ امام حئی نے لوگوں پر زور دیا کہ وہ عاجزی اور توبہ کے ساتھ اللہ کی طرف رجوع کریں اور اس کی رحمت اور برکت کے حصول کے لیے اپنی دعاؤں میں شدت پیدا کریں۔
مولانا سعید احمد نقشبندی نے میراعظ کی خانہ نظر بندی پر غم و غصہ کا اظہار کرتے ہوئے کہا: ’’میرواعظ پر اس طرح کی بار بار پابندیوں سے لوگوں کے مذہبی جذبات اور ضمیر کو شدید ٹھیس پہنچی ہے۔‘‘








