امت نیوز ڈیسک //
سری نگر، 9 جنوری: پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر محبوبہ مفتی نے جمعہ کے روز کہا کہ شری ماتا ویشنو دیوی میڈیکل کالج کی بندش بظاہر پہلے سے منصوبہ بند معلوم ہوتی ہے اور اس فیصلے نے ایک خطرناک مثال قائم کی ہے جس کے دور رس نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔
صحافیوں سے بات کرتے ہوئے محبوبہ مفتی نے کہا کہ میڈیکل کالج کی ڈی ریگنیشن سے جڑے واقعات کا تسلسل کئی سنگین سوالات کو جنم دیتا ہے۔ ان کا کہنا تھا، “ایک شام عمر عبداللہ نے کہا کہ کالج بند ہونا چاہیے اور اگلے ہی دن اسے بند کر دیا گیا، یہ محض اتفاق نہیں لگتا۔” انہوں نے مزید کہا کہ ایسے اقدامات عوام میں خوف اور بے یقینی پیدا کرتے ہیں۔
محبوبہ مفتی نے خبردار کیا کہ اس طرح کے فیصلے ملک کے دیگر حصوں میں انتہا پسند عناصر کو شہ دے سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کل کوئی دائیں بازو کی تنظیم ملک کے کسی بھی حصے میں احتجاج کر کے کشمیر سے مسلم طلبہ کو نکالنے کا مطالبہ کر سکتی ہے۔ “یہ ایک رجحان بن جائے گا۔ جموں و کشمیر کو ایک تجربہ گاہ کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے اور جو کچھ یہاں آزمایا جاتا ہے، بعد میں اسے ملک کے دوسرے حصوں میں دہرایا جاتا ہے،” انہوں نے کہا۔
مرکزی ایجنسیوں کی کارروائیوں کا حوالہ دیتے ہوئے محبوبہ مفتی نے کہا کہ ای ڈی جیسے اداروں کی سخت کارروائیاں پہلے کشمیر میں شروع ہوئیں اور بعد ازاں پورے ملک میں پھیل گئیں۔ مغربی بنگال کی حالیہ صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی اس دباؤ کے خلاف ڈٹ کر کھڑی ہیں۔ “ممتا بنرجی ایک شیرنی ہیں اور وہ مقابلہ کر رہی ہیں،” انہوں نے کہا۔
محبوبہ مفتی نے الزام لگایا کہ جموں میں دانستہ طور پر مذہبی بنیادوں پر عوام کو تقسیم کرنے کا ماحول بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر جموں و کشمیر کو مذہبی خطوط پر تقسیم کیا گیا تو یہ محمد علی جناح کے پیش کردہ دو قومی نظریے کی عملی توثیق ہوگی۔
انہوں نے کہا، “ہماری قیادت نے دو قومی نظریے کو اس یقین کے ساتھ مسترد کیا تھا کہ یہ گاندھی کا ہندوستان ہے۔ اگر آج ہم ریاستوں کو مذہبی بنیادوں پر تقسیم کرنے لگیں تو اس کا مطلب ہوگا کہ جناح درست تھے۔”
محبوبہ مفتی نے قیادت سے اپیل کی کہ وہ خود احتسابی کریں اور ایسے فیصلوں سے گریز کریں جو سماجی تقسیم کو گہرا کرنے اور ملک کی تکثیری بنیادوں کو کمزور کرنے کا سبب بنیں۔








