امت نیوز ڈیسک //
جموں، 16 جنوری : جموں کے باہو حلقہ سے بھارتیہ جنتا پارٹی کے رکنِ اسمبلی وکرم رندھاوا نے جمعہ کے روز کہا کہ علیحدہ جموں خطے کا مطالبہ آج بھی برقرار ہے، جو ان کے بقول جموں پر کشمیر کی طویل بالادستی کے نتیجے میں ابھرا ہے۔
صحافیوں سے بات کرتے ہوئے رندھاوا نے کہا کہ یہ مطالبہ کسی ایک واقعے کا نتیجہ نہیں بلکہ تاریخی عدم توازن کی پیداوار ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ماضی میں کشمیر کی بالادستی لداخ پر بھی رہی، تاہم لداخ کو الگ یونین ٹیریٹری بنانے کے بعد حالات میں تبدیلی آئی۔
انہوں نے کہا، “ہم علیحدگی نہیں چاہتے، لیکن کشمیر نے ہمیشہ جموں کو دبا کر رکھا ہے۔” رندھاوا نے مزید کہا کہ اس مطالبے کا مستقبل میں کیا رخ ہوگا، یہ وقت کے ساتھ واضح ہوگا۔
مجوزہ نیشنل لا یونیورسٹی کے معاملے پر رندھاوا نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ یہ ادارہ صرف جموں میں ہی قائم ہونا چاہیے اور یونین ٹیریٹری کے کسی اور حصے میں اس کے قیام کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس بارے میں حتمی فیصلہ مرکز کے پاس ہے اور نئی دہلی کو قائل کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔
انہوں نے کہا، “یا تو نیشنل لا یونیورسٹی جموں میں آئے گی یا پھر اسے قائم ہی نہیں کیا جائے گا۔”
جموں کے تعلیمی تشخص پر روشنی ڈالتے ہوئے، کشمیر نیوز ٹرسٹ کے مطابق، رندھاوا نے دعویٰ کیا کہ جموں ایک تعلیمی مرکز کے طور پر ابھر چکا ہے، جہاں کشمیر سمیت مختلف علاقوں سے طلبہ بڑی تعداد میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کے کئی طلبہ جموں میں زیرِ تعلیم ہیں۔
تاہم، انہوں نے الزام عائد کیا کہ جموں کے طلبہ کے کشمیر میں تعلیم حاصل کرنے کی مثالیں نہ ہونے کے برابر ہیں اور ماضی میں جموں کے طلبہ کو وہاں ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا۔ [کے این ٹی]









