امت نیوز ڈیسک //
سری نگر، 18 جنوری (کے این ٹی):سابق میئر سری نگر جنید عظیم مٹو نے ’’متحدہ جموں و کشمیر‘‘ کے تصور پر سخت سیاسی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کی کوئی مضبوط تاریخی، ثقافتی یا لسانی بنیاد نہیں ہے اور یہ وقت کے ساتھ کشمیریوں کے لیے ایک استحصالی اور جابرانہ سیاسی بندوبست میں تبدیل ہو چکا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک تفصیلی پوسٹ میں مٹو نے لکھا کہ جموں و کشمیر کی بنیاد معاہدۂ امرتسر پر رکھی گئی، جو ابتدا ہی سے ناانصافی پر مبنی تھی اور جس کے ساتھ کشمیری کبھی خود کو جوڑ نہیں سکے۔ ان کے مطابق گزشتہ دہائیوں میں کشمیر نے طویل بدامنی کا سب سے زیادہ خمیازہ بھگتا، ہزاروں نوجوانوں کی جانیں ضائع ہوئیں، جبکہ اسی دوران جموں کو ہمدردی اور مراعات حاصل ہوتی رہیں۔
سابق میئر نے الزام لگایا کہ پالیسی سازی میں برسوں سے جموں خطے کو غیر متناسب فائدہ پہنچایا گیا ہے، خاص طور پر ریزرویشن اور مواقع تک رسائی کے معاملات میں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ ریزرویشن نظام جموں مرکز ہے، جس سے وہاں کی ہندو اور مسلم دونوں برادریاں مستفید ہو رہی ہیں، جبکہ کشمیری مسلمان پیشہ ورانہ اور معاشی دھارے سے بتدریج باہر کیے جا رہے ہیں۔
جنید مٹو نے خبردار کیا کہ آج کشمیری عوام، بالخصوص نوجوانوں اور کاروباری طبقے کو، غیر یقینی مستقبل کا سامنا ہے۔ ان کے مطابق مواقع سکڑتے جا رہے ہیں اور یہ صورتِ حال پورے خطے پر اجتماعی سیاسی سزا کے مترادف ہے، جس میں آنے والی نسل کے لیے امید کی کوئی کرن نظر نہیں آتی۔
جموں کے لیے علیحدہ ریاست کے مطالبات کا حوالہ دیتے ہوئے مٹو نے کہا کہ یہ ایک بار پھر کشمیریوں کے تئیں بے حسی کا مظہر ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ اگر حکام واقعی جموں کو الگ ریاست بنانے کی طرف بڑھتے ہیں تو یہ کشمیر کے لیے نقصان کے بجائے فائدہ ثابت ہو سکتا ہے۔
’’متحدہ جموں و کشمیر‘‘ کے تصور کو انہوں نے رومانوی مگر غیر حقیقی قرار دیتے ہوئے کہا کہ جموں اور لداخ کے ساتھ علاقائی اختلافات مشترک پہلوؤں سے کہیں زیادہ گہرے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری مزید ایک نسل اس کوشش میں ضائع نہیں کر سکتے کہ وہ اپنی حب الوطنی ان لوگوں کو ثابت کریں جو، ان کے بقول، تعلیمی اداروں تک میں عدم برداشت کا مظاہرہ کر چکے ہیں۔
آخر میں جنید عظیم مٹو نے سیاسی قیادت سے حقیقت کا سامنا کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ محض نعرے بازی اور شاعرانہ زبان سے خلیج کی سنگینی کو چھپایا نہیں جا سکتا۔ ان کے مطابق یہ ایک ناگزیر سیاسی تصحیح کا وقت ہے اور اس میں تاخیر بحران کو مزید گہرا کرے گی۔(کے این ٹی)











