امت نیوز ڈیسک //
سرینگر، 18 جنوری:اکنامک آفنسز ونگ (ای او ڈبلیو)، کرائم برانچ کشمیر نے سرکاری نوکریاں دلانے کے بہانے معصوم لوگوں، بالخصوص بے روزگار نوجوانوں، کو دھوکہ دینے کے الزام میں سات افراد کے خلاف ایک فوجداری مقدمہ درج کیا ہے۔
جی این ایس کو جاری ایک بیان میں کرائم برانچ کشمیر نے کہا کہ یہ معاملہ ای او ڈبلیو کو موصول ہونے والی ایک تحریری شکایت کی بنیاد پر سامنے آیا، جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ کچھ افراد مختلف سرکاری محکموں، جن میں بینک، محکمہ زراعت اور دفاعی خدمات شامل ہیں، میں نوکریاں دلانے کا جھانسہ دے کر امیدواروں کو ورغلا رہے تھے۔ شکایت کے مطابق ملزمان نے مختلف متاثرین سے تقریباً 39 لاکھ روپے وصول کیے، تاہم انہیں جائز ملازمت فراہم کرنے کے بجائے جعلی اور فرضی تقرری نامے تھما دیے گئے۔
شکایت موصول ہونے کے بعد ای او ڈبلیو، کرائم برانچ کشمیر نے ابتدائی جانچ شروع کی، جس دوران الزامات بادی النظر میں درست پائے گئے۔ تفتیش میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ ملزمان نے دھوکہ دہی اور فراڈ کے لیے دوسرے افراد کے نام پر رجسٹرڈ سم کارڈز استعمال کیے۔ متاثرین کو دیے گئے تقرری ناموں کی جانچ سے ثابت ہوا کہ یہ دستاویزات جعلی اور من گھڑت تھیں۔
ملزمان کے یہ اقدامات بادی النظر میں تعزیراتِ رِیاستِ جموں و کشمیر کی دفعات 420، 468، 472 اور 120-بی کے تحت قابلِ سزا جرائم کے زمرے میں آتے ہیں۔ اس سلسلے میں پولیس اسٹیشن اکانامک آفنسز ونگ، کرائم برانچ کشمیر میں باضابطہ طور پر مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور مزید تفتیش جاری ہے۔
ایکانامک آفنسز ونگ، کرائم برانچ کشمیر نے عوام الناس، خاص طور پر بے روزگار نوجوانوں، سے اپیل کی ہے کہ وہ پیسے کے عوض سرکاری نوکریاں دلانے کی پیشکش کرنے والے افراد یا گروہوں سے ہوشیار رہیں۔ کسی بھی مشتبہ یا فراڈ سرگرمی کی فوری اطلاع قریبی پولیس اسٹیشن یا ای او ڈبلیو کو دیں تاکہ مزید لوگوں کو دھوکہ دہی سے بچایا جا سکے۔
(جی این ایس)











