امت نیوز ڈیسک //
جموں، 19 جنوری : رکن اسمبلی شام لال شرما، جو انڈین نیشنل کانگریس چھوڑ کر بھارتیہ جنتا پارٹی میں شامل ہوئے، نے کشمیر کے حوالے سے سخت ریمارکس دیتے ہوئے ایک بار پھر علیحدہ جموں ریاست کے اپنے دیرینہ مطالبے کو دہرایا ہے۔
میڈیا سے بات کرتے ہوئے شام لال شرما نے دعویٰ کیا کہ کشمیر کے لوگ قوم کے تئیں وفادار نہیں ہیں اور الزام عائد کیا کہ کشمیر کی بدامنی نے جموں کے پرامن ماحول کو متاثر کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر جموں کو کشمیر سے الگ کیا جائے تو یہ خطہ کہیں بہتر حالات میں ہوگا۔
کشمیر نیوز ٹرسٹ (کے این ٹی) کے مطابق شرما نے کہا کہ جموں کے پاس کشمیر کے مقابلے میں زیادہ قدرتی اور معاشی وسائل موجود ہیں، جبکہ کشمیر کا زیادہ تر انحصار صرف سیاحت پر ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ریاست کی تقریباً 80 فیصد بجلی جموں خطے میں پیدا ہوتی ہے اور یہاں زرعی شعبہ بھی زیادہ مضبوط ہے۔
بینکنگ سیکٹر کا حوالہ دیتے ہوئے شرما نے کہا کہ جموں و کشمیر بینک میں جمع ہونے والی 80 فیصد رقم جموں کے لوگوں کی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ تقریباً 20 ہزار کروڑ روپے کے نان پرفارمنگ اثاثوں میں سے 18 ہزار کروڑ روپے کشمیر سے تعلق رکھتے ہیں، اور دعویٰ کیا کہ یہ رقم وہاں کے لوگوں نے ہضم کی ہے۔
علیحدہ جموں ریاست کے مطالبے کو دہراتے ہوئے شام لال شرما نے کہا کہ اگر جموں کو الگ ریاست بنایا گیا تو یہ ملک کی سب سے ترقی یافتہ اور پرامن ریاست بن کر ابھرے گا۔ انہوں نے جموں میں نیشنل لا یونیورسٹی کے قیام کا بھی مطالبہ کیا اور کہا کہ اس کے لیے مرکز کی جانب سے فنڈز فراہم کیے جا چکے ہیں۔
شرما نے الزام لگایا کہ جموں کے ساتھ طویل عرصے سے امتیازی سلوک کیا جا رہا ہے، تاہم انہوں نے کہا کہ یہ ان کی ذاتی رائے ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ علیحدہ جموں ریاست کا تصور جلد یا بدیر حقیقت بن کر رہے گا۔
ماضی کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سال 2010 میں، جب وہ کابینہ وزیر تھے اور سیف الدین سوز کانگریس کے صدر تھے، تب انہوں نے ایک اجلاس میں جموں کو کشمیر سے الگ کرنے کا مسئلہ اٹھایا تھا، کیونکہ ان کے بقول کشمیر کی تشدد آمیز صورتحال جموں کے پرامن ماحول کو متاثر کر رہی تھی۔











