سرینگر///لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہانے 30برس بعد تواریخی عرس سید قمر الدین بخاریؒ کے سلسلے عقیدت مندوں کے قافلے کو سرینگر سے گاندربل کی طرف دریائے سفر پر روانہ کیا ۔ اس موقعے پر لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے کہاکہ جموں کشمیر میں حالات اب بدلاﺅ دکھارہے ہیں اور جو تواریخی مقامات بند تھے یا کسی وجہ سے جہاںپر لوگ جانے سے ڈرتے تھے اب لوگ آزادی کےساتھ جاسکتے ہیں ۔ انہوںنے بتایا کہ عرس قمر الدین تیس برس بعد منایا جارہا ہے اور اس روایتی قافلے کو ہر جھنڈی دکھاتے ہوئے مجھے فخر محسوس ہورہا ہے انہوں نے بتایا کہ یہ حالات کے بدلاﺅ کا بین ثبوت ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ یہاں پر بھائی چارے اور مذہبی رواداری ایک روایت رہی ہے تاہم حالات کے سبب اس میں زنگ لگ چکا تھا جس کو سرکار صاف کررہی ہے ۔ لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے آج صوفی بزرگ سید قمر الدین بخاری رحمة اللہ علیہ کے عرس کی یاد میں عقیدت مندوں اور فنکاروں کو زیرو برج سے گاندربل تک لے جانے والی کشتیوں اور شکاروں کے ایک قافلے کو ہری جھنڈی دکھا کر روانہ کیا۔لیفٹیننٹ گورنر نے امید ظاہر کی کہ یہ موقع خیر سگالی اور بھائی چارے کے رشتوں کو مزید مضبوط کرے گا۔ آئیے ہم خود کو بنی نوع انسان کے اتحاد کی یاد دلائیں اور ہم آہنگی اور امن کے لیے کوشش کرنے کا عزم کریں۔زندگی کے تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والے ممتاز شہری اس موقع کو دیکھنے کے لیے زیرو برج پر جمع ہوئے، جو سری نگر سے گاندربل تک آبی نقل و حمل کی بحالی کا بھی نشان ہے۔واضح رہے کہ سید قمر الدین بخاری رحمةاللہ علیہ کا عرس تین دہائیوں کے بعد منایا جا رہا ہے۔اس موقعے پر ایس ایم سی میئرجنید عظیم متو،نزہت اشفاق، ڈی ڈی سی چیئرپرسن، گاندربل۔ ڈاکٹر درخشاں اندرابی، چیئرمین جے اینڈ کے وقف بورڈ،ڈاکٹر حنا شفیع بھٹ، وائس چیئرپرسنKVIB،سابق قانون ساز، اشفاق جبار،ڈاکٹر ارون کمار مہتا، چیف سکریٹری، ایس ایچ پانڈورنگ کے پول، ڈویڑنل کمشنر کشمیر، ڈپٹی کمشنر سرینگر محمد اعجازاسد ، ڈائریکٹر ٹورازم غلام نبی ایتو کے علاوہ اس موقع پر مذہبی رہنما اور عوام کی کثیر تعداد موجود تھی۔









