امت نیوز ڈیسک //
مرکزی وزیر فوڈ پر وسنگ انڈسٹریز پیشو پنتی کمار پارس نے عوامی کر سائی مرکزی حکومت کے اقدام کے ایک حصے کے طور پر آج یہاں ڈی سی دفتر سانبہ کے کانفرنس ہال میں مختلف وفود کے ساتھ ملاقات کی۔ اس موقعہ پر ضلع ترقیاتی کونسل کے ممبران ، چیئر مین بلاک ڈیولپمنٹ کو نسل، خواتین سرپنچوں، بڑی ہر اہنا اور ساحبہ کی صنعتی ایسوسی ایشن ، فوڈ پر وسنگ انڈسٹریز ایسوسی ایشنز، سی۔ ڈائیٹ کے نوجوانوں اور بینڈی کرافٹس اینڈ ہینڈ لوم کے کاریگروں کے وفود نے مرکزی وزیر کے سامنےمطالبات کا ایک میمورنڈم پیش کیا۔ مرکزی وزیر موصوف کے ہمراہ چیئر مین ضلع ترقیاتی کونسل کیشورت شهر ما، وائس چیئر مین ڈی ڈی سی بلوان سنگھ ، ضلع ترقیاتی کمشنر محترمہ انورادھا، ایس ایس پی بینم توش ،اے ڈی سی راکیش دو ہے اور دیگر افسران
بھی تھے۔
مرکزی وزیر پیشو پتی کمار پارس نے وفود کو بغور سنا اور کہا کہ جموں و کشمیر وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں سماجی و اقتصادی ترقی پر گامزن ہے۔ انہوں نے کہا، "ملک کی 140 کروڑ آبادی تمام شعبوں میں چاہے وہ تعلیم ہو، ہیلتھ کیئر سہولیات، بغیر کسی رکاوٹ کے آن لائن خدمات ، پاور آپ گریڈیشن ، سڑکوں کے نیٹ ورک کی ترقی ، چو میں گھنٹے پائپ پانی کی فراہم وغیر و بے مثال ترقی دیکھ رہی ہے جبکہ سماجی تحفظ سکیموں نے اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ ترقی دیر پا اور مساوی ہو ۔”اُنہوں نے سی۔ ڈی وائی ٹی ای کے تحت نوجوانوں کے گروپ، خواتین سر پہنچوں، صنعت کاروں، بنکروں، کاریگروں سے بھی استفساری گفتگو کی اور زمینی سطح پر مختلف سرکاری سکیموں کی عمل آوری کے بارے میں رائے
مرکزی وزیر پتو پتی کمار پارس نے کہا کہ وزارت فوڈ پر وسنگ انڈسٹریز کے تحت مختلف سکیمیں ملک کے فوڈ پر وسنگ انٹر پرائزز کے لئے بہت اہم ثابت ہو رہی ہیں اور یہ وزیر اعظم نریندر مودی کے آتما نر بھر بھارت کے خواب کو پورا کرنے کے لئے ایک اہم قدم ہے۔ انہوں نے مقامی لوگوں سے پی ایم کے ایس وائی پی ایل آئی ایس ایف پی آئی، منی فوڈ پار کس وغیرہ جیسے فوائد کی سکیموں سے فائدہ اٹھانے کی اپیل کی جو کہ ملک میں فوڈپروسنگ شعبے کی ترقی کو بڑا فروغ دے رہی ہے۔ وفود نے حکومت کے عوامی رسائی پروگرام کو بالخصوص جموں و کشمیر کے ریاستی عوام کے لئے سراہاجنہوں نے اس اقدام میں گہری دلچسپی ظاہر کی۔ وفد کے ایک رکن نے کہا کہ مرکزی حکومت کے جموں و کشمیر یوٹی کی ترقی کے عزم کے متعد داختراعی اقدامات کے ثمر آور نتائج برآمد ہو رہے ہیں۔









