(بڈگام) جموں و کشمیر انجمن شرعی شیعیان کے اہتمام سے حوزہ علمیہ جامعہ باب العلم میرگنڈ بڈگام کے محبوب ملت ہال میں عید ملن کے سلسلے میں ایک نشست کا انعقاد عمل میں لایا گیاجس میں مختلف دینی انجمنوں کے سربراہوں اور علمائے کرام نے شرکت کی. نشست کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا جبکہ نظامت کے فرائض آغا سید مجتبیٰ عباس الموسوی الصفوی نے انجام دئے. استقبالیہ میں انہوں نے ماہ مبارک کا ماحصل تقوٰی قرار دیتے ہوئے فرمایا عید صرف خوشی منانے کا نام نہیں بلکہ قوم کےمذہبی رہنماوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ قوم کو گناہوں سے پاک کرنے میں اپنا کلیدی رول ادا کرے سماجی ذمہ داریوں اور سماج میں پھیلے جرائموں کی روک تھام کے لئےلائحہ عمل مرتب کرنے پر زور دیا۔انجمن شرعی شیعیان کے صدر آغا سید حسن الموسوی الصفوی نے ناگفتہ بہہ معاشی و سماجی حالات بدعات و رسومات منشیات کے روز افزون اضافہ ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خودکشی اور سفاکانہ قتل کے سانحات کو روکنے پر زور دیا۔ جن معززین نے موضوع پر اظہار خیال کیا ان میں مولانا رحمت اللہ قاسمی ،مفتی اعظم مفتی ناصر الاسلام ،نمائندہ خاص میرواعظ کشمیر سید شمس الرحمان، میرواعظ وسط کشمیر مولوی عبداللطیف بخاری ،صدر اتحاد المسلمین مولانا مسرور عباس انصاری ،خطیب و امام جمعہ مسجد گنائی محلہ بڈگام اورانجمن شرعی شیعیان کے ائمہ جمعہ حضرات ، جامعہ باب العلم کے اساتذہ صاحبان اور تحفظ اتحاد کے غلام قادر بٹ صاحب وغیرہ شامل ہیں۔مقررین حضرات نے ایسے اجلاسوں کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے انجمن شرعی شیعیان کا خراج تحسین کیا جو ہر وقت ملت کے درپیش مسائل کے سدباب کے لئے ایسے اجتماعات منعقد کرنے میں پیش پیش رہتی ہیں علماے کرام نے اجتماعی امورات کی اصلاح کرنے پر بھی زور دیا اور معاشرہ میں بڑھ رہی بے راہ روی سماجی جرائم و رسومات، حق تلفیاں، اخلاقی و روحانی اقدار کا خاتمہ سفاکانہ قتل اور خودکشیوں کے واقعات وغیرہ کو دین سے دوری کا نتیجہ قرار دیا۔ اس موقعہ پر با اتفاق رائے سماجی بے راہ روی کو روکنے، علماء دین اور ائمہ مساجد کی ذمہ داریوں کو سمجھنے، محراب و مساجد کو خاموش کرنے کی کوشش اور علماء دین کو پابند سلاسل کرنے اور روح رواں صدر مجلس علماء میرواعظ کشمیر مولوی محمد عمر فاروق چار سال سے مسلسل خانہ نظربندی بلا تاخیر ختم کرنے، سوشل میڈیا پر مسلکی اختلافات کے بجائے وادی میں انجام پذیر ہونے والے بھیانک سماجی جرائم جیسے دیگر جرائم کو روکنے کے لئے لائحہ عمل تیار کرنے پر زور دیا گیا۔









