(سرینگر) محکمہ سوشل ویلفیئر کے تحت آنگن وارڈی وکروں کو نوکریوں سے فارغ کرنے کے خلاف عرضی کی سماعت کے دوران جموں و کشمیر لدا خ ہائی کورٹ نے اس فیصلے پر فی الحال روک لگاکر سرکار کوہدایت دی گئی ہے کہ فی الحال جو جہاں پر کام کررہا ہے انہیں کام کرنے دیا جائے اور ان کو ماہانہ مشاہرہ بھی اداکیا جائے۔ اس کے ساتھ ہی عدالت عالیہ نے سرکار کو اس ضمن میں رپورٹ پیش کرنے کی بھی ہدایت کی ہے۔ سماعت کے دوران جسٹس سنجیو کمار نے کہا کہ اگر آنگن وارڈی ورکر اورہیلپر اس وقت خدمات انجام دے رہا ہے تو اسے ہٹایا نہ جائے۔ اس پر حتمی فیصلہ حکومت کے اعتراضات پر منحصر ہوگا۔ جسٹس نے سماعت کی اگلی تاریخ 15 مارچ 2022 مقرر کی۔ واضح رہے محکمہ سماجی بہبود نے 27 اگست کو ایک حکم نامہ جاری کرتے ہوئے سپروائزرز کے ساتھ تعینات 918 مددگاروں کی خدمات ختم کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس معاملے میں عدالت سے حکم کو کالعدم کرنے کی مانگ کے ساتھ آئی سی ڈی ایس پروجیکٹ میں کام جاری رکھنے کی اجازت دینے کی درخواست دائر کی گئی ہے۔ عدالت میں درخواست دائر کرتے ہوئے متاثرہ ورکرز اور ہیلپرس نے کہا کہ محکمہ سماجی بہبود میں کمشنر سکریٹری اور آئی سی ڈی ایس مشن ڈائریکٹر نے آئین ہند کے آرٹیکل 12 اور 226 کا حوالہ دے کر ناانصافی کی ہے۔ وہ حکومت کی اسکیم کے تمام معیارات کو پورا کرنے کے بعد ہی خدمات فراہم کررہے ہیں۔ اس کے باوجود من مانی، منصفانہ اور دلائل کے خلاف حکم جاری کیا گیا ہے۔ درخواست میں بقایا اعزازیہ کی ادائیگی کی استدعا کی گئی ہے۔ عدالت سے حکومت کو ہدایت دینے کی کوشش کی گئی ہے، جس میں خالی آسامیوں کی تعداد کے پیش نظر منصوبہ بندی کرتے ہوئے روزگار فراہم کرنے پر زور دیا گیا ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ مسلسل خدمات فراہم کرنے کے باوجود 2019 سے ہیلپرز کو اعزازیہ ادا نہیں کیا گیا۔ انٹیگریٹڈ چائلڈ ڈیولپمنٹ اسکیم (آئی سی ڈی ایس) کے تحت آنگن واڑی مراکز کو چلانے کے لیے سپروائزروں کے ساتھ ہیلپروں کا تقرر کیا گیا تھا۔










