جموں وکشمیر کی سیاست میں کب کیا ہو کسی کو پتہ نہیں لیکن اسی طرح سے وادی کشمیر کا موسم کب اپنا مزاج بدلے کسی کو پتہ نہیں۔دو ہفتے قبل جہاں وادی میں بارشیں رُکنے کا نام نہیں لے رہی تھی وہیں آج گرمی نے عوام کا حال بے حال کر دیا ہے!وادی کشمیر میں گرمی کا زور جاری رہتے ہوئے رواں موسم کا اب تک کا گرم ترین دن ریکارڈ ہوا ہے۔بدھ کے روز سرینگر میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 34ڈگری درج کیاگیا۔لیکن دوسری طرف سے گرمی کے زور کے بیچ وادی میں بجلی کی کٹوتی عروج پر ہے جس سے صارفین میں کافی غصہ پایا جا رہا ہے اورہر روز کسی ضلع سے بجلی کٹوتی کے خلاف احتجاج کی خبریں بھی سامنے آرہی ہیں۔
ایک طرف جہاں انتظامیہ کی جانب سے بہتر بجلی کی فراہمی کےلیے اسمارٹ میٹرز نصب کیے جا رہے ہیں تاہم وہیں دوسری طرف سے بجلی میں تخفیف کا سلسلہ کئی ہفتوں سےجاری ہے۔بجلی کے وسائل سے مالا مال ہونے کے باوجودیہاں ہر سال سرما میں آٹھ سے دس گھنٹے بجلی کٹوتی کا شیڈول جاری کیا جاتا ہے۔لیکن اب رواں موسم گرما میں غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ سے لوگ پریشان ہیں کیوں کہ ایک طرف جہاں گرمی سے لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے وہیں دوسری طرف سے بجلی پر چلنے والی کارخانوں کو خاصے نقصان سے دوچارہوناپڑرہا ہے۔
انتظامیہ کی جانب سے بلند بانگ دعووں کے باوجوداطلاعات کے مطابق 25فیصد بجلی کی کٹوتی کی گئی ہےاور یہ کٹوتی صرف کشمیر میں ہی نہیں بلکہ جموں میں بھی کی گئی ہے تاہم وہاں زیادہ درجہ حرارت کو دیکھتے ہوئے کشمیر کے مقابلے میں کم کٹوتی ہوئی ہے۔یہ کٹوتی مرکز کی جانب سے فراہم کی جانے والی بجلی میں سے کی گئی ہے۔
حکومت کا دعویٰ ہے کہ بجلی کی بلا خلل فراہمی کے لیے سمارٹ میٹرز نصب کیے جا رہے ہیں۔ چیف سیکرٹری ارون کمار مہتا کی سربراہی میں گزشتہ سال ہوئی ایک میٹنگ میں انہیں مطلع کیا گیا تھا کہ یوٹی میں 21 لاکھ سے زیادہ اسمارٹ میٹر لگائے جائیں گے تاکہ یہاں کے بجلی کے شعبے میں خاطر خواہ تبدیلی لانے کے ساتھ ساتھ یہاں کے صارفین کو 24 گھنٹے بجلی کی سپلائی فراہم کی جاسکے۔اسوقت سرینگر کے کئی علاقوں میں اب تک ایک لاکھ کے قریب سمارٹ میٹرز صارفین کی سخت مزاحمت کے بیچ نصب کیے جا رہے ہیں۔کیوں کہ سرینگر کے کئی علاقوں میں سمارٹ میٹرز کے خلاف احتجاج کیے جا رہے ہیں۔وہیں لوگوں کا کہنا ہے کہ انکے گھروں میں پہلے ہی میٹرز نصب ہیں اور وہ 1500سے دوہزار روپے ماہانہ ادا کر رہے ہیں لیکن اب سمارٹ میٹرز کے بعد وہ زیادہ بل ادا نہیں کر سکتے کیوں کہ ان کے پاس اتنے زرائع آمدنی نہیں۔دوسری طرف سے انتظامیہ کی جانب سے سمارٹ میٹر نصب کرنے کا سلسلہ تیز کیا جا رہا ہے۔رواں سال ڈپٹی کمشنر سرینگر اعجاز اسد نے کہا کہ متعلقہ کمپنی کی جانب سے اکتوبر 2023تک سوا دو لاکھ سمارٹ میٹرز لگائے جائیں گے۔
سمارٹ میٹرز لگانے کی ایک اور وجہ یہ بھی بتائی جارہی ہے کہ جموں وکشمیر یوٹی کے اپنے پاور پلانٹس سے اتنی بجلی کی پیداوار نہیں ہوتی جتنی ضرورت ہوتی ہے اس لیے مرکزی سرکار جموںو کشمیر کو سالانہ لگ بھگ 6000 کروڑ کی بجلی فراہم کرتی ہے۔اعدادوشمار پر نظر ڈالیں تو 2018سے2020کے درمیان جموں وکشمیر انتظامیہ نے بجلی خریدنےکی مد میں 18,400 کروڑ صرف کیے ہیں۔جس میں 2018میں6058کروڑ،2019میں6072 کروڑاور 2020میں 6317 کروڑ بجلی پر خرچ کیے گئے۔ یہ جان کر شائد آپ ضرور حیران ہونگے کہ کشمیر 20,000 میگاواٹ پن بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہےجو پوری یوٹی کو ہر لحاظ سے ترقی یافتہ بنانے کےلیے اہم کردار ادا کر سکتاہےتاہم اس وقت کشمیر سے صرف 3263 میگاواٹ کی بجلی کی پیداوار ہو رہی ہے۔جس میں سے 2009 میگا واٹ نیشنل ہائیڈرو پاور پروجیکٹ (این ایچ پی سی) پیدا کرتا ہے وہیں 1211 میگاواٹ وہ چند پروجیکٹ پیدا کرتے ہیں جو جموں وکشمیر حکومت کے پاس موجود ہیں۔دراصل سنہ 2000میں مرکزی سرکار اور این ایچ پی سی کے درمیان ہوئے معاہدے کے تحت دس سال کی مدت کےلیے سات پاور پروجیکٹ مذکورہ کمپنی کو سونپے گئے جن میں سلال، اوڑی (1)،اوڑی( 2)،دلہستی،چھوٹک،نمو بازگو، سیوا (2) شامل ہیں۔اس معاہدے کے تحت جموں وکشمیر کوان پروجیکٹس سے 13فیصد بجلی مفت فراہم کی جارہی ہے۔وہیں مارچ 2015 میں مرکزی وزیر برائے بجلی کے ذریعہ لوک سبھا میں پیش کئے گئے اعداد و شمار کے مطابق پورے ملک میں مذکورہ کمپنی کی طرف سے پیدا کی جانے والی 40 فیصد سے زیادہ بجلی صرف جموں و کشمیر سے آتی ہے۔ وہیں 2015 تک این ایچ پی سی نے 19,431 کروڑ یا 194بلین ان پاور پروجیکٹس سے کمائے ہیں۔اور اگر 2016سے 2022کے درمیان اسی کی اوسط نکال کر اندازہ لگایا جائے تو این ایچ پی سی نے ان سات سالوں میں 8420کروڑ کی کمائی کی ہے اور یہ کل 27,851 کروڑ بنتا ہے یعنی ہر سال این ایچ پی سی 1265کروڑ روپیے ان سات پروجیکٹس سے کمائی کرتا ہے۔دوسری طرف سے اگرچہ یہ معاہدہ دس سال کے لیے ہی تھا تاہم ابھی تک ان پاور پلانٹس کو واپس نہیں لیا گیا ہے۔
ادھر رواں سال فروری میں ہی ایل جی منوج سنہا نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ جموںو کشمیر میں صارفین کو 24 گھنٹے بجلی فراہم کرنے کا ہدف جلد حاصل کیا جائے گا۔اب اس ہدف کو حاصل کرنے میں کتنا وقت لگے لگا وہ آنے والا وقت ہی بتائے گا لیکن حقیقت یہ کہ فی الحال جموںو کشمیر کے عوام کی بجلی سپلائی میں 25فیصد کمی ہی کی گئی ہے۔









