امت نیوز ڈیسک //
سرینگر: حریت چیئرمین اور میر واعظ کشمیر مولوی محمد عمر فاروق کو ایک بار پھر گھر میں نظربند کر دیا گیا، مسجد کی انتظامی تنظیم انجمن اوقاف کے مطابق انہیں سرینگر کی تاریخی جامع مسجد میں جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرنے کی اجازت بھی نہیں دی گئی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں میرواعظ مولوی محمد عمر فاروق نے لکھا کہ ’ایک بار پھر مجھے جمعہ کے موقع پر گھر میں نظر بند کردیا گیا اور جامع مسجد میں نماز پڑھنے سے روک دیا گیا۔ یہ دل دہلا دینے والا اور اشتعال انگیز ہے کہ حکام میرے بنیادی مذہبی حقوق کو اپنی مرضی سے پامال کرتے رہتے ہیں‘۔
انہوں نے مزید لکھا کہ ’وقف ترمیمی ایکٹ کے خلاف متحد مجلس علما (ایم ایم یو) کی طرف سے تیار کردہ قرارداد، جس کے اجلاس کی بھی اجازت نہیں دی گئی. آج جموں و کشمیر بھر کی مساجد، مزارات اور امام بارگاہوں میں پڑھی جائے گی۔
وہیں ایک بیان میں انجمن اوقاف جامع مسجد سرینگر نے اپنے سربراہ اور میر واعظ کشمیر مولوی محمد عمر فاروق کو ایک بار پھر اپنی رہائش گاہ میں نظربند کرنے پر شدید افسوس اور مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ میر واعظ کو تاریخی جامع مسجد سرینگر میں نماز جمعہ کی ادائیگی سے روکنے کا عمل بلا جواز ہے۔ انجمن اوقاف نے اپنے بیان کہا ہے کہ حکام کی طرف سے یہ من مانی اور بلاجواز اقدام قرار دیا اور کہا کہ جامع مسجد مرکزی عبادت گاہ ہے جہاں ہزاروں لوگ جمعہ کی نماز کے لیے ہدایت، برکت اور اللہ تعالیٰ سے تعلق کی تلاش میں جمع ہوتے ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ میر واعظ کشمیر کو ان کے مذہبی فرائض کی ادائیگی سے روکنا اور ان کے خطبات سے مومنین کو مستفید ہونے سے روکنے سے لوگوں کے مذہبی جذبات کو شدید ٹھیس پہنچی ہے۔ انجمن نے کہا کہ یہ ان لوگوں کے لیے پریشان کن اور مایوس کن ہے جو دور دور سے ان کی رہنمائی سننے آتے ہیں۔ اس طرح کی پابندیاں، خاص طور پر رمضان کے مقدس مہینے میں، مکمل طور پر غیر ضروری اور مذہبی آزادی کے اصولوں کے خلاف ہیں۔
واضح رہے کہ میر واعظ عمر فاروق کشمیر کی تاریخی جامع مسجد کے خطیب اور کُل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین بھی ہیں۔ والد کے قتل کے بعد محمد عمر فاروق کو میراعظ کشمیر بنایا گیا اور تب سے وہ جامع میں جمعہ کا خطبہ دیتے آرہے ہیں۔







