امت نیوز ڈیسک //
سرینگر : جموں کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے بھارت اور پاکستان کی جانب سے جنگ بندی کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے احسن اقدام قرار دیا۔ سرینگر میں میڈیا نمائندوں کے ساتھ بات کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا: ’’بھارت اور پاکستان نے جو دوبارہ سیز فائر کا اعلان کیا ہے، میں اس کا دل کی گہرائیوں سے خیر مقدم کرتا ہوں۔‘‘
عمر عبداللہ نے سیز فائر معاہدہ کو ’’دیر آید درست آید‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا: ’’اگر یہ معاہدہ چند روز قبل ہوا ہوتا تو جو خون خرابہ (جنگ کی وجہ سے ہوا) اس سے ہم محفوظ رہتے۔ ‘‘ عمر کے مطابق اگر جنگ بندی معاہدہ پہلے ہی ہوتا تو شاید قیمتی جانی نقصان سے بچا جا سکتا تھا۔
جموں کشمیر میں ہوئے جانی و مالی نقصان کا ذکر کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا: ’’موجودہ حالات میں اب یہ حکومت جموں کشمیر کی ذمہ داری ہے کہ نقصان کا تخمینہ لگا کر لوگوں کو امداد پہنچانے کا عمل شروع کریں۔‘‘
فاروق عبداللہ نے کیا خیر مقدم
نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ سمیت سیاستدانوں نے بھی بھارت اور پاکستان کے درمیان مکمل جنگ بندی کے اعلان کا خیر مقدم کیا۔
ڈاکٹر عبداللہ نے اس اقدام کو لائن آف کنٹرول (ایل او سی) اور بین الاقوامی سرحد (آئی بی) کے قریب رہنے والے شہریوں کے لیے ’’بہت ضروری ریلیف‘‘ قرار دیا، جو جموں و کشمیر اور لداخ میں طویل عرصے سے گولہ باری کی اذیت برداشت کر رہے تھے۔
پارٹی ہیڈکوارٹر سرینگر سے جاری بیان میں ڈاکٹر عبداللہ نے کہا کہ ’’اس اقدام سے ان سرحدی رہائشیوں کو بڑی حد تک راحت ملے گی جو اکثر شیلنگ اور تباہی کی زد میں آتے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا: ’’ایل او سی اور آئی بی کے قریب رہنے والے ہمارے لوگ دونوں ممالک کے بگڑتے تعلقات کی بھاری قیمت چکاتے آئے ہیں۔ یہ قدم ان کے زخموں پر مرہم رکھے گا۔‘‘
محبوبہ مفتی کا رد عمل
سابق وزیر اعلیٰ اور پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے ایک ویڈیو بیان میں جنگ بندی کا سہرا عالمی سفارتی کوششوں، خاص طور پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایک ٹویٹ کو دیا۔ انہوں نے اسے ’’پورے خطے کے لیے امن کا پیغام‘‘ قرار دیا اور زور دیا کہ بھارت اور پاکستان کو باہمی سیاسی حل نکالنا ہوگا۔ محبوبہ کے مطابق: ’’فوجی حل کوئی حل نہیں ہے۔ بالآخر دونوں ممالک کو ایک میز پر بیٹھ کر مستقل امن کا راستہ نکالنا ہوگا۔‘‘
سجاد لون نے بھی کیا خیر مقدم
پیپلز کانفرنس کے رہنما اور ہندوارہ سے ایم ایل اے سجاد لون نے بھی جنگ بندی کو سراہا اور کہا: ’’پورے علاقے میں ایک طرح کا اطمینان محسوس کیا جا رہا ہے۔ جموں و کشمیر کے لوگوں نے انتہائی مشکل وقت گزارا ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا: ’’امید ہے کہ لوگ اپنی زندگی دوبارہ معمول پر لا سکیں گے، اور ہماری سوسائٹی ان کی مدد کرے گی تاکہ وہ اپنے گھروں کی دوبارہ تعمیر کر سکیں۔‘‘









