امت نیوز ڈیسک //
ترال : جنوبی کشمیر کے پلوامہ ضلع میں ترال کے دھرم گنڈ علاقے میں ایک سکھ نوجوان کی پر اسرار ہلاکت کے بعد مقامی سکھ اور مسلم برادری نے بڑے پیمانے پر احتجاج کیا۔ احتجاجی مظاہرین نے ہلاکت کو ’’بہیمانہ قتل‘‘ قرار دیتے ہوئے اس میں ملوث افراد کی فوری گرفتاری اور انہیں کیفر کردار تک پہنچانے کا مطالبہ کیا۔
مقامی باشندوں کے مطابق گزشتہ شام ایک مقامی سکھ نوجوان سرجیت سنگھ عرف شنٹی ولد فوجا سنگھ ساکن دھرم گنڈ، ترال کی لاش ایک درخت پر لٹکی ہوئی پائی گئی۔ اس واقعے کے بعد علاقے میں صف ماتم بچھ گئی۔
آج اس معاملے کو لے کر مقامی سکھ سمیت مسلم آبادی نے مشترکہ طور پر احتجاج کیا۔ انہوں نے آری پل – ترال سڑک پر ٹریفک کی نقل و حرکت کو بھی بند کر دیا۔ احتجاجی مظاہرین ’’قتل میں ملوث افراد کو گرفتار کر کے سلاخوں کے پیچھے دھکیلنے‘‘ کا مطالبہ کر رہے تھے۔
بعد ازاں، ترال کے ممبر اسمبلی رفیق احمد نائک اور ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (اے ڈی سی) ترال ساجد نقاش سمیت پولیس کے اعلیٰ افسران بھی جائے حادثہ پر پہنچے۔ انہوں نے عوام کو یقین دلایا کہ اس حوالے سے تحقیقات کی جائے گی اور اگر قتل ثابت ہوا تو اس میں ملوث افراد کو کسی بھی صورت بخشا نہیں جائے گا۔ حکام کی یقین دہانی کے بعد احتجاجی پر امن طور پر منتشر ہو گئے۔
دریں اثنا، ترال انتظامیہ نے مہلوک کے لواحقین کو ایک لاکھ روپے کی فوری مالی امداد بھی جاری کی ہے۔








