امت نیوز ڈیسک //
سرینگر: بارہمولہ سے منتخب رکن پارلیمان عبد الرشید شیخ المعروف انجینئر رشید ہفتے کی شام 8 بجے سے اتوار کی شام 8 بجے تک ایک روزہ بھوک ہڑتال کریں گے۔ اس بات کا اعلان عوامی اتحاد پارٹی (اے آئی پی) نے کیا۔ پارٹی کے مطابق، یہ علامتی احتجاج بھارتی جیلوں میں بند کشمیری قیدیوں کو بنیادی انسانی اور آئینی حقوق سے محروم رکھنے کے خلاف ہوگا۔
اے آئی پی کے ترجمان اعلیٰ انعام النبی کے مطابق: ’’انجینئر رشید نے تہاڑ جیل انتظامیہ کو اپنے ارادے سے باضابطہ طور پر آگاہ کر دیا ہے۔‘‘ ان کا کہنا ہے کہ ’’انجینئر رشید نے اہل خانہ کے ساتھ حالیہ ملاقات میں کہا کہ بی جے پی اور کانگریس دونوں ایک دوسرے پر جمہوریت کا گلا گھونٹنے کے الزامات عائد کرتے ہیں، لیکن جب بات کشمیری قیدیوں کی آتی ہے تو دونوں خاموش رہتے ہیں۔‘‘ انعام النبی کے مطابق رشید نے الزام عائد کیا ہے کہ ’’یو اے پی اے جیسے سخت قوانین کے تحت صرف سیاسی نظریات رکھنے کی بنیاد پر کشمیری نوجوانوں اور کارکنوں کو قید رکھا گیا ہے، اور قومی جماعتیں اس پر مجرمانہ خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ بی جے پی ایمرجنسی کے مظالم کو تو اجاگر کرتی ہے، لیکن کشمیر میں گزشتہ 11 برسوں کے دوران ’’سیاسی آوازوں کو خاموش کرنے، نظریاتی اختلافات کو جرم جتانے اور جمہوری آوازوں کو کچلنے‘‘ کی اپنی پالیسی پر بات نہیں کرتی۔
انجینئر رشید کے بھوک ہڑتال کے اس اعلان سے قبل جمعرات کو کشمیر کے ایک اور رکن پارلیمان آغا سید روح اللہ نے وزیر داخلہ امیت شاہ کو خط لکھ کر تہاڑ جیل میں قید بزرگ علیحدگی پسند رہنما شبیر شاہ کے علاج کا مطالبہ کیا تھا۔ شاہ کی بیٹی، سحر شبیر، نے ایک ویڈیو بیان میں دعویٰ کیا تھا کہ ان کے والد متعدد امراض میں مبتلا ہیں جن میں پروسٹیٹ کینسر بھی شامل ہے۔
یاد رہے کہ انجینئر رشید نے 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کو دو لاکھ سے زائد ووٹوں سے شکست دی تھی، لیکن وہ 2019 سے تہاڑ جیل میں قید ہیں۔ اُنہیں دہشت گردی کی مالی معاونت سے متعلق ایک کیس میں گرفتار کیا گیا تھا۔
اے آئی پی کا مزید کہنا ہے کہ انجینئر رشید کی بھوک ہڑتال کا مقصد بھارت کے عوام کو یاد دلانا ہے کہ آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد سے کشمیری عوام کے آئینی و جمہوری حقوق کی منظم پامالی جاری ہے اور اسے بھلایا نہیں جا سکتا۔









