(نئی دہلی) مبینہ ٹیرر فنڈنگ کیس میں این آئی اے کورٹ نے لشکر طیبہ (ایل ای ٹی) کے بانی حافظ محمد سعید اور حزب المجاہدین سربراہ سید صلاح الدین، حریت پسند لیڈروں یٰسین ملک، شبیر شاہ، مسرت عالم سمیت 15 افراد کے خلاف غیر قانونی سرگرمیاں روک تھام قانون (یو اے پی اے) کی مختلف دفعات کے تحت الزامات طے کرنے کا حکم دیا ہے۔ ٹیرر فنڈنگ کیس کی سماعت کر رہی قومی تفتیشی ایجنسی کی خصوصی عدالت کے جج جسٹس پروین سنگھ نے مذکورہ افراد کی کارروائیوں کو ’منصوبہ بند سازش‘ قرار دیا۔جسٹس پروین سنگھ کے مطابق، اس سازش کا ماسٹر مائنڈ سرحد پار پاکستان میں بیٹھا تھا اور آئی ایس آئی کے اشاروں پر کام کر رہا تھا۔این آئی اے کورٹ نے اپنے حکم میں کہا کہ جموں وکشمیر میں ہند مخالف کارروائیوں کی فنڈنگ کے لئے پیسہ پاکستان اور اس کی ایجنسیوں کی طرف سے بھیجا گیا تھا۔یہاں تک کہ سفارتی مشن کا استعمال بڑے منصوبوں کو پورا کرنے کے لئے کیا گیا تھا۔این آئی اے کورٹ نے کہا کہ سازش کرنے والوں کا مقصد جموں وکشمیر میں خون خرابہ، تشدد، بربادی اور تباہی مچاکر اسے ہندوستان سے الگ کرنا تھا۔ایک بڑی مجرمانہ سازش کے تحت جموں وکشمیر میں بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے ہوئے، پُرتشدد واقعات ہوئیں۔کورٹ نے کہا کہ وادی میں عسکریت پسندی کو بڑھاوا دینے میں ان حادثات نے اہم کردار نبھایا ہے۔ان سب میں لشکر طیبہ (ایل ای ٹی) کے بانی حافظ سعید اور حزب المجاہدین سربراہ سید صلاح الدین کے ساتھ یٰسین ملک ، مسرت عالم ، شبیر شاہ ملوث تھے۔این آئی اے عدالت نے کہا کہ اعلان شدہ بین الاقوامی انتہا پسند اور 2008ممبئی بم دھماکوں کے ملزم حافظ محمد سعید کے ذریعہ بھی ہندوستان میں ٹیرر فنڈنگ کے لئے پیسہ بھیجا گیا.









