جنوبی کشمیر کے ضلع کولگام کے اکہال علاقے میںگھنے جنگلات میںملی ٹینسی مخالف آپریشن کو سرکاری طور پر 11 دن بعد پیر کی شام بند کر دیا گیا، جسے علاقے میں بھاری ہتھیاروں سے لیس عسکریت پسندوں کی موجودگی کے بارے میں مصدقہ اطلاعات کے بعد شروع کیا گیا تھا۔جموں و کشمیر میں حالیہ برسوں میں سب سے طویل آپریشن میں سے ایک تصادم کو علاقے میں موجودعسکریت پسندوںکے پورے گروپ کو بے اثر کیے بغیر ختم ہو گیا ہے‘جن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ ابتدائی فائرنگ کے بعدعلاقے سے نکلنے میں کامیاب ہو گئے تھے۔ یاد رہے اس تصادم میں دو فوجی اہلکار اور ایک مقامی ملی ٹینٹ ہلاک ہو گئے ۔
یہ آپریشن اس وقت شروع ہوا تھا جب فورسزاہلکاروںنے دور دراز اور گھنے جنگلات والی اکہال پٹی میں ایک بڑے پیمانے پر محاصرے اور تلاشی کاروائی شروع کی تھی ۔ آپریشن کے ابتدائی دنوں میںعلاقے میں موجود عسکریت پسندوں سےتصادم کے نتیجے میں شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس میں حکام کے مطابق ایک مقامی ملی ٹینٹ مارا گیا۔ تاہم، انکائونٹر میں دو فوجی اہلکاروں کی جان بھی گئی اور دیگر 9زخمی ہوئے۔عسکریت پسند‘ فوج، جموں و کشمیر پولیس، سی آر پی ایف، اور ایلیٹ پیراکمانڈوزکی مشترکہ ٹیم کے گھیرےسے نکلنے میں کامیاب ہوگئے۔ مسلسل کوششوں بشمول گہری زمینی تلاشی، ڈرون نگرانی، تھرمل امیجنگ، اور سونگھنے والے کتوں کی تعیناتی کے باوجود، عسکریت پسندوں کے ساتھ کوئی نیاتصادم نہیں ہوا۔11 دنوں تک جاری رہنے والے اس آپریشن کو مزید فائرنگ کے تبادلے کی اطلاع نہ ملنے کے بعد آپریشن کو باضابطہ طور پر پیر11 اگست کو ختم کر دیا گیا۔
تصادم کے دوران مارے گئے مقامی ملی ٹینٹ کی شناخت پلوامہ کےحارس نذیرکے بطور ہوئی ہے، جبکہ مہلوک فوجی اہلکاروں کی شناخت لانس نائیک پرتپال سنگھ اور سپاہی ہرمیندر سنگھ کے طور پر کی گئی ہے؛ دس دیگر فوجی اہلکارنھی تصادم آرائی کے دوران زخمی ہوئے ہیں۔
واضح رہے اَکہال کے جنگلات میں قدرتی غاریں، فرار کے متعدد راستے اور پیر پنچال پہاڈی سلسلے سے براہ راست رابطہ موجود ہے۔ یہ بھی شبہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ عسکریت پسندوں کے پاس نائٹ ویژن آلات، طویل فاصلے تک مار کرنے والی رائفلیں اور وآفر مقدار میں گولہ بارود موجود ہے۔
آپریشن کے دوران آرمی کے شمالی کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل پرتیک شرما، چنار کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل پرشانت سریواستو اور جموں و کشمیر پولیس کے ڈی جی پی نلن پربھات سمیت اعلیٰ افسران نے علاقے کا دورہ کیا ہے اور کاروائی کی نگرانی کی۔
قابل ذکر ہے کہ گزشتہ برس بھی اسی پیر پنچال پہاڑی سلسلے کے تحت گڈول کے مقام پر ایک شدید انکاؤنٹر ہوا تھا، جو سات دنوں تک جاری رہا۔ اس تصادم میں فوج کے ایک کرنل، ایک میجر اور جموں وکشمیر پولیس کے ایک ڈی ایس پی ہلاک ہوئے تھے۔ موجودہ آپریشن نے اس گزشتہ انکاؤنٹر کی سنگینی کو پیچھے چھوڑ دیا ہے اور وقت کے لحاظ سے اب یہ وادی میں ہونے والا سب سے طویل انکاؤنٹر بن چکا ہے۔
کشمیر میں حالیہ برسوں کے دوران اس نوعیت کے طویل آپریشن کم ہی دیکھنے میں آئے ہیں۔ وادی میں سکیورٹی صورتحال کی نزاکت اور ’خطے میں امن‘ کی بحالی کے لیے ایسے آپریشنز نہایت اہم سمجھے جا رہے ہیں۔ مستقبل قریب میں یہ آپریشن کشمیر کی سکیورٹی تاریخ میں ایک اہم باب کے طور پر درج کیا جائے گا۔










