جموں کشمیر کی عمر عبداللہ والی سرکار نے ایل جی انتظامیہ کے لیے گیے دو فیصلوں کو اب تک بدلا ہے جن میں ایک کشمیر صوبے کے بارہویں جماعت تک کے امتحانات پھر سے اکتوبر نومبر میں کرانے کا اعلان کیا وہیں دوسرا فیصلہ دربار مو کی روایت کو بحال کیا گیا جس کو چار سال قبل ایل جی انتظامیہ نے بند کر دیا تھا۔
3نومبر کو جموں کے سیکرٹریٹ میں ایک بار پھر سے انتظامی کام کاج بحال ہو گیا۔ اس موقع پر وزیر اعلی عمر عبداللہ کا جموں میں تاجر برادری کی طرف سے شاندار استقبال کیا گیا۔ وہیں جموں میں تاجروں کی جانب سے جشن منایا گیا۔ دربار مو کی روایت اتفاقاً ایسے وقت پر بحال ہوئی جب نگروٹہ کے ضمنی انتخابات منعقد ہو رہے ہیں۔
شہیدی چوک پہنچنے کے بعد جموں چیمبر آف کامرس، ریزیڈنسی روڈ اور راجندر بازار ایسوسی ایشنز نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔اس کے بعد وزیر اعلیٰ ریذیڈنسی روڈ سے ہوتے ہوئے رگھوناتھ بازار چوک کی طرف چل پڑے، ان کی آمد پر مبارکباد دینے کے لیے راستے میں کھڑے تاجروں اور شہریوں کا استقبال کیا۔رگھوناتھ بازار چوک میں عمر عبداللہ کا سٹی چوک کی طرف پیدل چلنے سے قبل رگھوناتھ بازار ایسوسی ایشن کی طرف سے خیر مقدم کیا گیا جہاں سٹی چوک بازار اور کنک منڈی بازار ایسوسی ایشن کے اراکین نے ان کا استقبال کیا۔بعد ازاں، وزیراعلیٰ کا سول سیکرٹریٹ میں استقبال کیا گیا، جہاں انہیں گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔رسمی استقبال کے بعد، عمر عبداللہ نے وزراء کی کونسل اور انتظامی سکریٹریوں کے ساتھ ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ کی صدارت کی تاکہ مختلف محکموں کے کام کاج کے بارے میں اپ ڈیٹ حاصل کیا جا سکے اور اس اقدام کے بعد انتظامی تیاریوں کا جائزہ لیا جا سکے۔میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے، وزیر اعلیٰ نے چار سال کے وقفے کے بعد جموں میں دربار کی بحالی کو ایک خوش آئند تجربہ قرار دیا جس نے شہر اور اس کے ملحقہ علاقوں میں جوش و خروش اور خوشی کی لہر دوڑا دی۔ تاہم، انہوں نے آگے آنے والے چیلنجوں کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اب ایک اہم موڑ پر ہے جہاں حقیقی زمینی ترسیل متوقع ہے۔
سیکریٹریٹ میں میڈیا نمائندوں سے بات کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا کہ دربار مو کو ختم کرنے کے فیصلے نے جموں کو بہت بڑا نقصان پہنچایا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ”ہم نے لوگوں سے وعدہ کیا تھا کہ ہم دربار مو کو بحال کریں گے۔ آج دربار موو دوبارہ بحال ہو گیا ہے۔ امید ہے کہ اس سے جموں و کشمیر کی معیشت کو نمایاں فائدہ ہوگا۔“
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اس روایت کو ختم کرنے کا فیصلہ صرف مالی بنیادوں پر لیا گیا تھا، جبکہ اس کی جذباتی اور علامتی اہمیت کو نظرانداز کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ“ہر چیز کو مالی بنیادوں پر پرکھنا درست نہیں۔ کچھ چیزوں کی جذباتی اہمیت ہوتی ہے۔ دربار موو سری نگر اور جموں کو جوڑتا تھا۔ اس کو ختم کرنا دراصل جموں و کشمیر کی وحدت کو نقصان پہنچانے کے مترادف تھا، جسے ہم نے اب درست کرنے کی کوشش کی ہے۔“
وہیں اس موقع پر این سی صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے بھاجپا کو ہدف تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ” جو لوگ جموں و کشمیر کو الگ کرنا چاہتے تھے وہ آج ناکام ہو چکے ہیں۔ نائب وزیر اعلی سریندر کمار چودھری نے کہا کہ ”لوگ خوش ہیں، سب خوش ہیں۔ بی جے پی والے کہا کرتے تھے کہ نیشنل کانفرنس جموں مخالف ہے۔ آج عمر عبداللہ کی حکومت نے ثابت کر دیا ہے کہ جس دربار مو کو آپ نے ختم کیا تھا، وہ عمر عبداللہ کی حکومت نے دوبارہ شروع کر دیا ہے۔ اب یہ لوگوں کو فیصلہ کرنا ہے کہ اُن کے مفاد میں بی جے پی ہے یا عمر عبداللہ کی حکومت یا نیشنل کانفرنس۔ یہ مہاراجہ کی وراثت ہے، جسے ہم نے آج دوبارہ زندہ کیا ہے، اور حقیقی معنوں میں ہم نے مہاراجہ صاحب کو خراجِ عقیدت پیش کیا ہے۔“
بھارتیہ جنتا پارٹی کا ردعمل
دوسری طرف سے بھاجپا کے جنرل سیکرٹری اشوک کول نے اس پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ہم کبھی بھی دربار موو کے مخالف نہیں تھے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ ”ہماری فکر صرف انتظامی کارکردگی اور شفافیت کو بہتر کرنے کی تھی۔ پہلے سرینگر اور جموں کے درمیان فائلوں کی منتقلی میں ہفتوں لگ جاتے تھے۔ لیکن اب ڈیجیٹل نظام کی بدولت دونوں خطوں میں سرکاری کام بخوبی جاری رہتا ہے۔“
دربار مو کیا ہے؟؟
دربار مو جموں کشمیر کی ایک پرانی انتظامی روایت ہے، جس کے تحت جموں و کشمیر حکومت سال میں دو مرتبہ اپنا دارالحکومت تبدیل کرتی تھی۔ سردیوں میں دفاتر جموں منتقل ہوتے تھے، جبکہ گرمیوں میں سری نگر واپس آتے تھے۔ یہ عمل 1872 میں مہاراجہ گلاب سنگھ کے دور میں شروع ہوا تھا تاکہ موسم کی سختیوں کے سبب سرکاری کام میں رکاوٹ نہ ہو۔اس روایت کے تحت سرکاری دفاتر، فائلیں، اور عملہ دو شہروں کے درمیان منتقل ہوتا تھا، جس پر بھاری اخراجات بھی آتے تھے۔
تاہم، 2021ء میں ایل جی منوج سنہا اس روایت کو ختم کرکے دفاتر کو مستقل طور پر دونوں شہروں میں فعال رکھنے کے لیے ڈیجیٹل نظام متعارف کرایا گیا۔ اب جبکہ اس مہاراجہ کے زمانے کی روایت کو پھر سے زندہ کیا گیا ہے اب نگروٹہ ضمنی انتخابات میں پتہ چلے گا کہ آیا این سی کو کوئی فائدہ اس کا ملتا ہے یا نہیں؟…









