امت نیوز ڈیسک //
سری نگر، 29 اپریل: مرکزی وزیر برائے ریلوے اشونی ویشنو 30اپریل کو جموں اور سری نگر کے درمیان 20 کوچز پر مشتمل وندے بھارت ایکسپریس کو ہری جھنڈی دکھائیں گے، جبکہ عام مسافروں کے لیے اس ٹرین سروس کا باقاعدہ آغاز 2 مئی سے ہوگا۔
یہ براہِ راست ٹرین سروس جموں اور سری نگر کے درمیان سفر کے دورانیے کو نمایاں طور پر کم کرے گی، سیاحت کو فروغ دے گی اور وادی کشمیر کو ملک کے دیگر حصوں سے ہر موسم میں منسلک رکھنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔
یاد رہے کہ وزیر اعظم نے 6 جون 2025 کو کٹرہ اور سری نگر کے درمیان پہلی براہِ راست ٹرین سروس کا افتتاح کیا تھا، جسے اب بڑھا کر جموں توی ریلوے اسٹیشن تک توسیع دی جا رہی ہے۔
تقریباً 28 ہزار کروڑ روپے کے اس ریل پروجیکٹ پر کام 1990 کی دہائی کے آخر میں شروع ہوا تھا، جبکہ کشمیر وادی میں پہلی ٹرین اکتوبر 2008 میں چلی تھی۔ پیر پنجال کے دشوار گزار پہاڑی علاقے کی وجہ سے وادی کو ملک کے باقی حصوں سے جوڑنا ایک بڑا چیلنج رہا، جو اب 2025 میں مکمل ہوا۔
حکام کے مطابق جدید سہولیات سے آراستہ یہ 20 کوچز والی وندے بھارت ایکسپریس جموں توی سے سری نگر تک تقریباً 267 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرے گی۔ اسی دوران سری نگر سے بھی ایک ٹرین جموں کے لیے روانہ ہوگی۔
یہ ٹرین ہفتے میں چھ دن چلے گی، جبکہ منگل کے دن اس روٹ پر سروس معطل رہے گی۔ ٹرین میں جدید ’کَوچ‘ سیفٹی سسٹم، جی پی ایس پر مبنی معلوماتی نظام اور آرام دہ گھومنے والی نشستیں فراہم کی گئی ہیں۔
وزیر اعلیٰ نے اس اقدام کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس سے سیاحت کو زبردست فروغ ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ پہلے صرف آٹھ کوچز والی ٹرین چل رہی تھی، لیکن اب 20 کوچز ہونے سے زیادہ مسافر سفر کر سکیں گے۔
حکام کا کہنا ہے کہ یہ جدید ٹرین سروس نہ صرف سفر کو آسان بنائے گی بلکہ خطے کی معیشت کو بھی مضبوط کرے گی۔











