اُمت ڈیسک رپورٹ
ڈل جھیل کے دلکش اور روح پرور ماحول میں واقع شیرِ کشمیر انٹرنیشنل کانفرنس سینٹرایک بار پھر علم، ادب اور ثقافت کا مرکز بن گیا، جہاں تیسرے’’چنار بُک فیسٹول‘‘ کا شاندار افتتاح عمل میں آیا۔ افتتاحی روز ہی وادی بھر سے آئے ہوئے طلبہ، اساتذہ، ادیبوں، شاعروں، دانشوروں، فنکاروں، ناشرین اور کتاب دوست عوام کی غیر معمولی شرکت نے اس بات کا واضح پیغام دیا کہ کشمیر میں مطالعے اور ادبی سرگرمیوں کا ذوق بدستور زندہ ہے۔
نیشنل بُک ٹرسٹ کی جانب سے وزارتِ تعلیم ہند کے اشتراک سے، ضلعی انتظامیہ سرینگر اور نیشنل کونسل فار پروموشن آف اردو لینگویج کے تعاون سے منعقد ہونے والا یہ نو روزہ میلہ 18 سے 26 جولائی تک جاری رہے گا، جس میں ملک بھر کے دو سو سے زائد ناشرین اور کتاب فروش ہزاروں عنوانات پر مشتمل اردو، کشمیری، انگریزی، ہندی، گوجری، ڈوگری اور دیگر ہندوستانی زبانوں کی کتابیں پیش کر رہے ہیں۔
افتتاحی تقریب کے مہمانِ خصوصی جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا تھے، جبکہ نیشنل بک ٹرسٹ کے چیئرمین پروفیسر ملند سدھاکر مراتھے، چیف سیکریٹری اٹل ڈلو، ضلعی کمشنر سرینگر اکشے لبرو، این بی ٹی کے ڈائریکٹر یوراج ملک، این سی پی یو ایل کے ڈائریکٹر ڈاکٹر شمس اقبال اور چنار بُک فیسٹول کے چیف کنوینر ڈاکٹر امیت وانچو سمیت متعدد اعلیٰ حکام اور ادبی شخصیات بھی موجود تھیں۔
اپنے خطاب میں منوج سنہا نے کہا کہ چنار بُک فیسٹول محض کتابوں کی نمائش نہیں بلکہ ایک فکری تحریک ہے، جو نوجوان نسل کو علم، تحقیق اور مثبت سوچ کی جانب راغب کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قلم کی طاقت ہر طاقت سے بڑی ہے اور نوجوانوں کو چاہیے کہ نصابی کتابوں کے علاوہ ہر ماہ کم از کم ایک کتاب ضرور پڑھیں اور باقاعدگی سے لکھنے کی بھی عادت ڈالیں۔ انہوں نے اس میلے کو امن، تبدیلی، خود اعتمادی اور فکری بیداری کی علامت قرار دیا۔
نیشنل بک ٹرسٹ کے چیئرمین پروفیسر ملند سدھاکر مراتھے نے نئی قومی تعلیمی پالیسی (NEP-2020) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کتابیں انسان کی شخصیت سازی میں بنیادی کردار ادا کرتی ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں کو’’منشیات کو نہ، کتابوں کو ہاں‘‘ کا پیغام دیتے ہوئے مطالعے کو روزمرہ زندگی کا حصہ بنانے پر زور دیا۔
چنار بُک فیسٹول کے چیف کنوینر ڈاکٹر امیت وانچو نے کہا کہ یہ میلہ صرف کتابوں کی خرید و فروخت تک محدود نہیں بلکہ خیالات، مکالمے اور ثقافتی تبادلۂ خیال کا ایک وسیع پلیٹ فارم ہے، جہاں ادبی مذاکرے، مصنفین سے ملاقاتیں، ورکشاپس، بچوں کے لیے تخلیقی سرگرمیاں، کہانی گوئی، مشاعرے، صوفیانہ موسیقی اور ثقافتی پروگرام مسلسل منعقد ہوں گے۔
اس سال کے میلے میں آٹھ سو سے زیادہ فنکار، ادیب، محققین، صحافی، فلم ساز اور دانشور مختلف نشستوں میں شرکت کریں گے، جبکہ پہلی مرتبہ ’’فائیو کے ریڈنگ رن‘‘ کا بھی انعقاد کیا جا رہا ہے، جس کا مقصد مطالعے کی عادت کو صحت مند طرزِ زندگی کے ساتھ جوڑنا ہے۔شرکاء کے لیے راشٹریہ ای۔پستکالیہ کے ذریعے ہزاروں مفت ڈیجیٹل کتابیں بھی دستیاب ہیں۔
حرف ِآخر:
اگرچہ چنار بُک فیسٹول اپنی وسعت، منظم انتظامات اور عوامی شرکت کے اعتبار سے کشمیر کی سب سے بڑی ادبی تقریب بنتا جا رہا ہے، تاہم ادبی حلقوں میں اس سوال پر بھی گفتگو جاری ہے کہ کیا ایسے بڑے سرکاری سرپرستی والے میلوں کے ساتھ ساتھ مقامی کشمیری زبان، آزاد ادبی اداروں، چھوٹے ناشرین اور مقامی مصنفین کو بھی یکساں مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں؟ اہلِ ادب کا ماننا ہے کہ اگر اس پلیٹ فارم کو مقامی ادبی روایت، کشمیری زبان کے فروغ اور نوجوان لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی سے مزید مؤثر انداز میں جوڑا جائے تو یہ میلہ نہ صرف ایک سالانہ تقریب بلکہ کشمیر کی علمی و تہذیبی شناخت کا مستقل حوالہ بن سکتا ہے۔
سوشل میڈیا، موبائل فون اور ڈیجیٹل مصروفیات کے اس دور میں ہزاروں نوجوانوں، بچوں اور خاندانوں کا کتابوں کے درمیان وقت گزارنا یقیناً ایک مثبت اور حوصلہ افزا منظر ہے۔ اگر اس جذبے کو صرف نو روزہ تقریب تک محدود رکھنے کے بجائے تعلیمی اداروں، عوامی کتب خانوں اور مقامی ادبی تنظیموں تک وسعت دی جائے تو کشمیر میں مطالعے کی نئی ثقافت پروان چڑھ سکتی ہے۔ یہی اس چنار بُک فیسٹول کی اصل کامیابی ہوگی، جو آنے والی نسلوں کو علم، تحقیق اور مکالمے کی طرف مائل کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔










