(سرینگر) پاکستان اور بھارت کے مابین کرکٹ میچ کے بعد آگرہ میں گرفتار کئے گئے کشمیری طلبہ کے اہل خانہ نے جمعہ (29 اکتوبر) کو پریس کالونی سرینگر میں احتجاج کرتے ہوئے بچوں کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے اور اس ضمن میں لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا سے مداخلت کی اپیل کی ہے ۔ بانڈی پورہ سے تعلق رکھنے والا ایک خاندان جمعہ کو پریس کالونی سرینگر میںنمودار ہوا جنہوں نے وہاں احتجاج کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ آگرہ میں گرفتار کئے گئے ان کے بیٹے شوکت احمد گنائی کو جلد ز جلد رہا کیا جائے انہوں نے کہا کہ ان کے بیٹے کو جرم بے گناہی میں آگرہ میں حراست میںلیا گیا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ ہمارے بیٹے کو پاکستان اور بھارت کے مابین کرکٹ میچ میں پاکستان کی جیت منانے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے اور مطالبہ کیا کہ انہیں جلد از جلد رہا کیا جائے، انہوں نے کہا کہ شوکت احمد ایک غریب کنبے سے تعلق رکھتا ہے اور وہ اعلیٰ تعلم حاص کرنے کیلئے باہر گیا تھا ۔
شوکت احمد کی والدہ حفیظہ نے اس موقعہ پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایاکہ میں سرکار سے اپیل کر رہی ہوں کہ میرے بیٹے کو معاف کیا جائے اور انہیں رہا کیا جائے تاکہ وہ اپنی پڑھائی اچھے سے جاری رکھ سکے ۔ انہوں نے کہا کہ میرا بیٹا میری ایک ہی امید ہے اور میں اسکو سلاخوں کے پیچھے نہیں دیکھ سکتی ہوں ۔ انہوں نے کہا کہ میں جموںوکشمیر کے لیفٹنٹ گورنر سے اپیل کرتی ہوں کہ اس معاملے میں ذاتی مداخلت کریں اور میرے بیٹے کی رہائی ممکن بنانے میں اپنا رول ادا کریں ۔