(رام بن) اپنی عوامی رابطہ مہم جاری رکھتے ہوئے جموںو کشمیرکے سابق وزیراعلیٰ غلام نبی آزاد نے رامبن میں عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جموںو کشمیرکی وحدت انفرادیت اجتماعیت کوقائم رکھنا ہم سب کی ذمہ داری ہے اور اس کام کوانجام دینے کے لئے سیاسی پارٹیوں کے قائدین اور جموںو کشمیرکے عوام کواپنی خدمات انجام دینی ہوگی۔ غلام بنی آزاد نے کہاکہ 5اگست 2019کوجموں وکشمیرکی وحدت انفرادیت اوراجتماعیت کونقصان پہنچایا گیا۔ انہوں نے کہاکہ ملک میں نئی ریاستیں قائم کی جارہی ہے اور مرکزی زیر انتظام علاقوں کوریاستوں میںتبدیل کیاجارہاہے تاہم مرکزی حکومت نے جموںوکشمیرکے حوالے سے جوفیصلہ لیاہے وہ سمجھ سے بالاترہے، جس ریاست کی تاریخ صدیوں پرانی ہے جو ملک کی سالمیت و خودمختاری کے لئے انتہائی حساس ریاستوں میں سے ایک ہے، اس کومرکزی زیر انتظام علاقے میںتبدیل کرکے جموںو کشمیرکے لوگوں کے جذبات واحساسات کوٹھیس پہنچائی گئی ہے۔ سابق وزیراعلی نے جموں و کشمیرکو سیکورلرازم اور شوشل ازم کا مرکز قرار دیتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیرکے لوگوں نے کبھی بھی مذہبی منافرت میں یقین نہیں رکھاہے بلکہ رواں داری اجتماعیت کو قائم رکھنے کے لئے اپنی خدمات انجام دی ہے۔ غلام نبی آزاد نے کہا کہ جموںو کشمیرکا اسٹیٹ ہڈ بحال ہونا چاہئے۔ وزیراعظم مودی نے آل پارٹئز میٹنگ کے دوران یقین دلایاتھا اور آل پارٹئز میٹنگ کے دوران تمام سیاسی لیڈروں نے اسٹیٹ ہڈبحال کرنے کامطالبہ کیاتھا، اب وقت آ گیاہے کہ اسٹیٹ ہڈبحال ہوناچاہئے۔ آزاد نے مذید کہا کہ اس کے لئے تمام سیاسی پارٹیوں کے لیڈران کوچاہئے کہ وہ مضبوطی کے ساتھ اپنے مطالبے کومرکزی حکومت کے سامنے رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ حد بندی کمشن مارچ چھ کے بعدکسی بھی وقت اپنارپورٹ سامنے لائے گا اور مئی 2022کے وسط تک اسمبلی الیکشن کابگل بج سکتاہے، لیڈروں کوچاہئے کہ وہ لوگوں کے ساتھ جڑ جائے اوران میں اعتماد پیدا کریں۔











