• Policy
  • Contact Us
  • About Us
  • Home
ePaper
جمعرات, فروری ۵, ۲۰۲۶
Ummat News
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر
No Result
View All Result
Ummat News
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر
No Result
View All Result
Ummat News
No Result
View All Result
کیا عرب ممالک نے اسرائیل کے آگے ہتھیار ڈال دیے ہیں؟

کیا عرب ممالک نے اسرائیل کے آگے ہتھیار ڈال دیے ہیں؟

محمد علی صدیقی

by امت ڈیسک
23/12/2021
A A
Share on FacebookShare on TwitterWhatsappTelegramEmail

’آخر عربوں نے یورپی یہودیوں کو کیا نقصان پہنچایا ہے؟ یہ تو جرمن عیسائی تھے جنہوں نے ان کے گھر اور جانیں ہتھیا لیں۔ جرمنوں کو اس کی قیمت ادا کرنے دیں‘۔

یہ الفاظ سعودی بادشاہ عبد العزیز نے امریکی صدر فرینکلن ڈی روزویلٹ سے کہے تھے۔ کسی بھی سعودی بادشاہ اور امریکی صدر کے درمیان ہونے والی یہ پہلی ملاقات 14 فروری 1945ء کو نہر سوئز میں امریکی جنگی بحری جہاز کوئنسی پر ہوئی تھی۔ یہ وہ دور تھا جب دوسری جنگ عظیم اپنے انجام کے قریب تھی۔

وہ 20ویں صدی کے وسط کی بات تھی اور اب 21ویں صدی کی تیسری دہائی میں ہمیں کوئی ایسا عرب حکمران ڈھونڈنا پڑے گا جو مغربی رہنماؤں کے سامنے یہ الفاظ کہہ سکے۔ اس وقت اسرائیل ایک کے بعد ایک سفارتی کامیابیاں سمیٹ رہا ہے اور اس بات کو ثابت کررہا ہے کہ اسرائیل فلسطین کا مسئلہ حل کیے بغیر بھی عرب دنیا کے ساتھ تعلقات برقرار رکھ سکتا ہے۔

کیا اسرائیل نے امن کے لیے عرب کوششوں کا جواب دیا ہے جنہیں معاہداتِ ابراہیمی کا پُر فریب نام دیا گیا تھا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ آخر مشرق وسطیٰ کی سپر پاور اس کا جواب کیوں دیتی؟ کیا اسرائیل عسکری اور ٹیکنالوجی کے اعتبار سے عرب ممالک کی طرح صفر ہے؟

گزشتہ سال نومبر میں تب ایک تنازعہ کھڑا ہوگیا تھا جب اس وقت کے اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے متحدہ عرب امارات سے تل ابیب آنے والی پہلی مسافر پرواز کو ’السلام علیکم‘ کہہ کر خوش آمدید کہا اور انہیں بار بار اسرائیل آنے کا کہا۔ بلاشبہ پروازوں کا آنا اور سفارتخانوں کا کھلنا اسرائیل کے لیے کسی بڑی سفارتی فتح سے کم نہیں تھا اور اس کام میں ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ایران پر ’زیادہ سے زیادہ دباؤ‘ ڈالنے کی پالیسی نے بہت مدد کی۔

14 جولائی کو متحدہ عرب امارات نے تل ابیب میں اپنا سفارت خانہ کھولا، جی ہاں تل ابیب میں۔ ویسے بھی اگر امارات اپنی تمام تر حکمت اختیار کرتے ہوئے اور ڈونلڈ ٹرمپ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے مقبوضہ یروشلم میں بھی اپنا سفارت خانہ قائم کرلیتا تو فلسطینی کیا کرلیتے؟ دوسری جانب خیلج میں بھی اسرائیلی وزیر خارجہ یائر لاپید نے ابو ظہبی میں اسرائیلی سفارت خانے کا افتتاح کیا۔ یوں متحدہ عرب امارات اسرائیلی سفارت خانہ رکھنے والا پہلا خلیجی ملک بن گیا۔ بعد ازاں دبئی میں بھی ایک اسرائیلی کونسل خانے کا افتتاح کیا گیا۔

آپ عرب حکمرانوں کے حوالے سے اسرائیل کے ہتک آمیز رویے کو نظر انداز نہیں کرسکتے۔ ویسے بھی یہ حکمران 19ویں صدی کے افریقی ایشیائی خادموں کی طرح ہیں جو اپنا اقتدار بچانے کے لیے یورپی نوآبادیاتی طاقتوں کے معمولی افسران کے آگے جھک جاتے تھے۔ ظاہر ہے کہ صیہونیوں نے عربوں کی رضامندی کو بالائے طاق ہی رکھا ہے۔

اسرائیلی رہنما شائستگی کی خاطر عارضی طور پر بھی سفارتی طریقوں کا خیال نہیں رکھتے۔ چند سال پہلے تک، اسرائیلی رہنما دو ریاستی حل پر بھی کچھ گفتگو کرلیتے تھے اور یہودی بستیوں کے بارے میں خاموشی اختیار کرلیتے تھے۔ تاہم اب اسرائیلی قیادت خلیجی رہنماؤں کی فرمانبرداری کے بارے میں اس قدر پراعتماد ہے کہ اسے سفارتی دوغلے پن کی بھی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

اگست میں امریکی صدر جو بائیڈن سے واشنگٹن میں ملاقات کرتے ہوئے اسرائیلی وزیر اعظم نفتالی بینیٹ نے واضح کیا کہ اسرائیل مزید بستیاں تعمیر کرے گا اور 1967ء میں قبضہ کیے گئے علاقوں پر کسی فلسطینی ریاست کے قیام کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اس بیان پر عمل کرتے ہوئے اسرائیل نے مغربی کنارے اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں ایک ہزار نئی بستیوں کی تعمیر کے ٹینڈر جاری کردیے۔

اسرائیل کے اس اقدام پر بائیڈن انتظامیہ کو بھی امریکا میں موجود طاقتور اسرائیلی لابی کے خلاف جاتے ہوئے یہ بیان جاری کرنا پڑا کہ مشرقی کنارے میں اسرائیلی بستیوں کی تعمیر سے اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے درمیان امن کی کوششوں کو ٹھیس پہنچے گی۔ امریکا نے تو یہ بیان جاری کردیا لیکن اسرائیل کے نام نہاد عرب اتحادیوں کی جانب سے اس حوالے سے کوئی بیان نہیں آیا۔

اسرائیل نے اپنے عرب دوستوں کا اصل امتحان تو مئی کے مہینے میں لیا جب اس نے 11 دنوں تک غزہ میں تباہی مچائے رکھی اس دوران رہائشی اور کاروباری عمارتوں کو زمین بوس کیا گیا۔ ان میں ایک ایسی عمارت بھی شامل تھی جس میں میڈیا (بشمول الجزیرہ) کے دفاتر بھی موجود تھے۔ اسرائیلی حملوں میں 39 خواتین اور 66 بچوں سمیت تقریباً 250 افراد ہلاک ہوئے۔ اس دوران اسرائیل نے اوسطاً 25 منٹوں میں 125 بم گرائے۔

حیران کن بات یہ ہے کہ غزہ میں ہونے والے قتل عام کا عرب ریاستوں کی مشترکہ پالیسی پر کوئی اثر نہیں پڑا جس کا ثبوت اسرائیل، امریکا اور دو خلیجی ریاستوں یعنی بحرین اور متحدہ عرب امارات کی جانب سے گزشتہ ماہ بحیرہ احمر میں کی جانے والی مشترکہ بحری مشقیں ہیں۔ اسرائیلی بحریہ کے ایک ترجمان کے مطابق ان مشقوں کا مقصد خلیج میں ایران کی جانب سے طاقت کے بڑھتے ہوئے اظہار کا مقابلہ کرنا تھا۔

اگر عرب ریاستوں نے فلسطین کو بھلا دیا ہے تو کوئی ہے جسے اب بھی فلسطین یاد ہے۔ شاید یہ سننے میں عجیب لگے لیکن اینجلا مرکل نے بطور جرمن چانسلر اپنے آخری دورہ اسرائیل میں میزبانوں کو یہ یاد دلوایا کہ انہیں ایک فلسطینی ریاست کے قیام کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔

ایک اسرائیلی تھنک ٹینک سے بات کرتے ہوئے مرکل کا کہنا تھا کہ متحدہ عرب امارات کے سفارتی اقدامات کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اسرائیل کے لیے فلسطینیوں کے ساتھ امن معاہدے کی ضرورت ختم ہوگئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’ ہمیں فلسطینیوں کے لیے زندگی گزارنے کے حق کو تسلیم کرنا چاہیے۔ اسی وجہ سے کسی بھی صورت میں دو ریاستی حل کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے پھر چاہے نئی بستیوں کی تعمیر سے یہ کام کتنا ہی مشکل کیوں نہ ہوجائے‘۔

تو کیا اب کوئی عرب ریاست جرمنوں کی مدد کرے گی؟

(ڈان نیوز)

Related

ShareTweetSendShareSendShare
Previous Post

آدھار سے منسلک ہوگا ووٹر کارڈ

Next Post

30 سال کے بعدکشمیر کا قدیم ترین چرچ کھولا گیا، مقامی عیسائی برادری نے قرار دیا کرسمس کا تحفہ

امت ڈیسک

امت ڈیسک

Related Posts

انقلاب اسلامی:کامیابیوں کا ایک اور درخشاں باب

انقلاب اسلامی:کامیابیوں کا ایک اور درخشاں باب

30/01/2026
کشمیر میں نئی ریلوے لائن:ترقی کے نام پر عوامی بے چینی کیوں؟

کشمیر میں نئی ریلوے لائن:ترقی کے نام پر عوامی بے چینی کیوں؟

30/01/2026
امریکہ کی لوٹ مار جاری! وینزویلا کا تیل امریکا کے لیے اتنا قیمتی کیوں؟

فرشتوں سے بہتر انسان بننا ہی کیوں

16/01/2026
امریکہ کی لوٹ مار جاری! وینزویلا کا تیل امریکا کے لیے اتنا قیمتی کیوں؟

امریکہ کی لوٹ مار جاری! وینزویلا کا تیل امریکا کے لیے اتنا قیمتی کیوں؟

16/01/2026

کشمیر بغیر برف کے: ایک انتباہی موسمِ سرما

16/01/2026
جموں و کشمیر کے سرکاری تعلیمی ادارے  تشویشناک صورتحال میں ”تعلیم کا اجالا یا انتظامیہ کی تاریکی؟ یو ٹی کے تعلیمی نظام پر ایک نوحہ’’

علمائے حق کی توہین ناقابلِ برداشت: کشمیری قوم کا دوٹوک مؤقف

09/01/2026
Next Post
30 سال کے بعدکشمیر کا قدیم ترین چرچ کھولا گیا، مقامی عیسائی برادری نے قرار دیا کرسمس کا تحفہ

30 سال کے بعدکشمیر کا قدیم ترین چرچ کھولا گیا، مقامی عیسائی برادری نے قرار دیا کرسمس کا تحفہ

تمل ناڈو ہیلی کاپٹر حادثے سے متعلق سوشل میڈیا پر قابل اعتراض پوسٹ، راجوری میں دکاندار کو کیا گیا گرفتار

سوشل میڈیا پر قابل اعتراض پوسٹ کرنے پر ایک شخص گرفتار

راجوری میں جاسوسی ریکیٹ کا پردہ فاش، دو گرفتار

پولیس کا بڈگام میں دو جنگجو اعانت کاروں کی گرفتاری کا دعویٰ

غیرتسلی بخش کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے تدریسی اور غیرتدریسی ملازمین کی فہرست طلب

غیرتسلی بخش کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے تدریسی اور غیرتدریسی ملازمین کی فہرست طلب

آرونی اننت ناگ میں فورسز اہلکاروں اور مشتبہ جنگجووں کے مابین تصادم، ایک جنگجو ہلاک

آرونی اننت ناگ میں فورسز اہلکاروں اور مشتبہ جنگجووں کے مابین تصادم، ایک جنگجو ہلاک

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • Policy
  • Contact Us
  • About Us
  • Home

© Designed By Gabfire.in - UMMAT NEWS

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر

© Designed By Gabfire.in - UMMAT NEWS

Translate »