(سرینگر) جموں و کشمیر پیپلز کانفرنس کے چیرمین سجاد غنی لون نے ہفتے کے روز اپنے والد عبدالغنی لون کی برسی پر یاد کرتے ہوئے کہا: ’’میرے والد کو اس لیے ہلاک کر دیا گیا کیونکہ انہوں نے وہ بات کہی جس پر ان کا ایمان و یقین تھا۔‘‘ پارٹی کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں سجاد لون نے مزید کہا: ’’اپنے والد عبدالغنی لون کو یاد کرتے ہوئے ہر سال 21 مئی قریب آتے ہی میں کانپنے لگتا ہوں۔ اپنے محبوب کی گولیوں سے چھلنی لاش موصول ہونے کے وہ دردناک لمحات اور یادیں عمر بھر آپ کا پیچھا کرتی ہیں۔‘‘ انہوں نے وادیٔ کشمیر میں ہلاکتوں کے حوالے سے اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے کہا: ’’وادیٔ کشمیر میں جب بھی کوئی شخص ہلاک کیا جاتا ہے تو اس کے گھر والوں پر کیا گزرتی ہوگی میں اُس چیز کا بخوبی ادراک کر سکتا ہوں۔ عزیز و اقارب کی وہ نم آنکھیں، وہ درد و کرب، یہ سب ایک جیسا ہے۔‘‘ سجاد لون کا مزید کہنا ہے کہ ’’میرے والد سمیت تمام ان لوگوں کی خاطر جنہوں نے اس تنازعہ کے لیے اپنی جانیں نچھاور کیں، میں امن و امان کی دعا کرتا ہوں۔ اب مزید گولیوں سے چھلنی لاشیں لواحقین تک نہ پہنچائی جائیں، اس کے لیے دعا گو ہوں۔ یہ جنون اب ختم ہو جائے۔‘‘










