سری نگر// جے کے ایس ایس بی کی طرف سے اب سے رہبر جنگلاٹ، رہبر زراعت اور رہبر کھیل کی اسامیوں کے دوبارہ اشتہار دینے کے انتظامی فیصلے کی سختی سے تنقید کرتے ہوئے اپنی پارٹی کے صدر سید محمد الطاف بخاری نے اتوار کے روز کہا کہ اس طرح کے صوابدیدی احکامات جموں اور کشمیر میں یکے بعد دیگرے منتخب حکومتوں کے جواز اور مینڈیٹ پر سوالیہ نشان اٹھا رہے ہیں۔
اپنی پارٹی کے صدر نے مشاہدہ کیا کہ کسی بھی جمہوریت میں مقبول حکومتیں عوامی مینڈیٹ پر کام کرتی ہیں اور اس لیے وہ اپنے ساتھ کیے گئے وعدوں کے لیے عوام کے سامنے جوابدہ ہوتی ہیں۔ انہوں نے مشاہدہ کیا کہ "تکنیکی طور پر قابل نوجوانوں کی بڑھتی ہوئی بے روزگاری کے پیش نظر تیار کردہ یہ اسکیمیں متواتر حکومتوں کے ذریعہ شروع کی گئی تھیں جن میں سے بی جے پی کبھی جموں و کشمیر میں اتحادی رہی ہے”۔
اپنی پارٹی کے صدر نے کہا کہ ایل جی کی قیادت میں انتظامیہ کی طرف سے ان سکیموں کے لیے مختص عہدوں کے حوالے اور دوبارہ اشتہار دینے کا تازہ ترین فیصلہ جموں و کشمیر میں سابقہ منتخب حکومتوں کے وعدوں کی مکمل خلاف ورزی ہے۔
بخاری نے کہا،”آج اس انتظامیہ نے ان پوسٹوں کو منجمد کرنے اور ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ کل کوئی اور حکومت آئے اور اس فیصلے کو منسوخ کر دے! جمہوریت میں حکومت اس طرح نہیں چلتی۔ اس طرح کے فیصلے لوگوں کی مرضی کو بے دردی سے پامال کرتے ہیں اس طرح پورے نظام حکومت کا مذاق اڑاتے ہیں“۔
انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ جموں وکشمیر لیفٹیننٹ گورنر کے تحت چلنے والی حکومت کی من مانی کا مترادف بن گئے ہیں اور انتظامیہ کی طرف سے روزانہ کی بنیاد پر جاری ہونے والے احکامات سے ایسا لگتا ہے کہ کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کسی بھی گورنر راج کے تحت انتظامیہ چلائی جاتی ہے اور اسے آئینی اعتماد اور اخلاقیات کی روح کے مطابق کام کرنا چاہئے جس کا بنیادی مقصد جمہوری نظام میں عوام کی بہتری ہے










