امت نیوز ڈیسک // جموں و کشمیر پولیس نے جمعرات کو دعویٰ کہ امسال وادی کشمیر میں اب تک ہونے والی 50 کے قریب تصادم آرائیوں کے دوران 83 عسکریت پسند ہلاک کیے گئے ہیں۔ ایک سینئر پولیس افسر نے ای ٹی وی بھارت کو تفصیلات فراہم کرتے ہوئے کہا کہ ’’جنوری سے عسکریت پسندوں کی موجودگی کے بارے میں مصدقہ اطلاعات کی بنیاد پر سیکورٹی فورسز کی جانب سے عسکری مخالف کارروائیوں میں تیزی لائی گئی۔ تکنیکی اور ہیومن انٹلی جنس کا استعمال کرتے ہوئے کارروائیوں کو انجام دیا جاتا ہے۔‘‘
اعدد و شمار کی تفصیلات فراہم کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’’سنہ 2022 میں اب تک ہوئی کل 115 ہلاکتوں میں 16 عام شہری اور 16 سیکورٹی فورسز کے اہلکار جبکہ دیگر 83 عسکریت پسند تھے۔ اس کے مزید 40 سے زائد ہائبرڈ عسکریت پسندوں کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔‘‘ انسپکٹر جنرل آف پولیس (کشمیر زون) وجے کمار کا کہنا ہے کہ ’’امثال ہلاک کیے گئے عسکریت پسندو میں 26 غیر ملکی ہیں، جن میں سے 12 لشکر طیبہ / دی ریزسٹنس فرنٹ سے وابستہ تھے جبکہ 14 جیش محمد سے تعلق رکھتے تھے۔‘‘دریں اثنا، پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ شمالی کشمیر کے کپوارہ ضلع میں ایک مسلح تصادم کے دوران لشکر طیبہ سے وابستہ تین عسکریت پسند ہلاک کیے گئے۔
انہوں نے کہا کہ عسکریت پسندوں کو وادی میں سرحد کے اِس پار آنے سے روک کر دراندازی کی ایک اور کوشش کو ناکام بنا دیا گیا۔ قابل ذکر ہے کہ شمالی کشمیر میں 24 گھنٹوں کے دوران یہ دوسرا تصادم تھا۔ بدھ کی صبح بارہمولہ کے کریری علاقے میں مسلح تصادم میں تین غیر ملکی عسکریت پسند اور ایک پولیس اہلکار ہلاک ہو گئے ۔










