سرینگر: جمعہ کے روز امرناتھ گُپھا کے نزیک بادل پھٹنے ایک واقعے میں 17 افراد ہلاک جب کہ درجنوں زخمی ہوئے ہیں۔ فوج ، این ڈی آر ایف، ایس ڈی آر ایف، جموں و کشمیر پولیس، آئی ٹی بی پی نے مشترکہ طور پر ریسکیو آپریشن شروع کیا۔
گذشتہ روز یہ خبریں موصول ہو رہی تھی کہ آندھر پردیش کے 37 یاتری بادل پھٹنے کے واقعہ کے بعد لاپتہ ہوئے ہیں۔ جموں و کشمیر انتظامیہ نے پیر کے روز کہا کہ آندھرا پردیش کے 35 یاتریوں کا سراغ لگایا گیا ہے اور وہ بحفاظت آندھرا پہنچ گئے ہیں، جب کہ دو ابھی تک لاپتہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آندھرا پردیش کے دو یاتری گنیشٹی سودھا اور کوٹھا پاروتی تاحال لاپتہ ہیں، جن کا سراغ لگانے کی کوششیں کی جاری ہیں۔
آندھرا پردیش کے 37 میں سے 35 لاپتہ یاتریوں کا سراغوہیں ایڈیشنل ریذیڈنٹ کمشنر آندھرا پردیش ہمانشو کوشک کی طرف سے جاری کردہ ایک خط میں کہا گیا ہے کہ 37 لاپتہ یاتریوں میں سے 35 کا سراغ لگا لیا گیا ہے اور وہ بحفاظت ریاست واپس لوٹ رہے ہیں۔ تاہم مبینہ طور پر 2 افراد لاپتہ ہیں۔خط میں انہوں نے کہا کہ آندھرا پردیش حکومت جموں و کشمیر انتظامیہ کی طرف سے کی جانے والی ریسکیو آپریشن کی تعریف کرتی ہے۔
بھارتی فضائیہ کے ایئر کموڈور پنکج متل نے آج پریس کانفرنس کے دوران ریسکیو آپریشن کے بارے میں تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ گُپھا کے پاس چلائے جارہے ریسکیو آپریشن کا بڑا حصہ مکمل کر لیا گیا۔نہوں نے کہا کہ آئی اے ایف نے امرناتھ سانحہ میں ریسکیو آپریشن کے دوران 112 مشن انجام دیے جن میں 130 افراد کو سرینگر منتقل کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ان افراد میں 123 یاتری زخمی ہوئے جب کہ 17 ہلاکتیں ہوئیں۔ موصوف فضائیہ افسر نے کہا کہ بھارتہ فضائیہ نے 29 ٹن لوڈ جس میں آلات، این ڈی آر ایف ریسکیو ٹیمیں، انجینئرز، ڈاگ اسکواڈ کو جائے حادثہ پر پہنچایا۔
واضح رہے کہ جنوبی کشمیر کی پہاڑیوں میں واقع امرناتھ گُپھا کے نزدیک جمعہ کے روز بادل پھٹنے کے ایک واقعے میں 17 افراد ہلاک ہوئے ہیں جن میں خواتین بھی شامل ہیں۔ بادل پھٹنے کا یہ واقعہ شام کے قریب پانچ بجے پیش آیا جس کے بعد کئی ڈھلانوں سے پانی تیز بہاؤ کے ساتھ نیچے آیا اور ایک ریلے کی شکل اختیار کرگیا۔قابل ذکر ہے کہ سطح سمندر سے 13000 فٹ کی بلندی پر واقع ایک پہاڑی غار میں گرما کے دوران بننے والی ایک برفانی شبیہ کو شیولنگ کے ساتھ منسوب کیا جاتا ہے جس کی ہندو عقیدت مند پوجا کرتے ہیں۔ امرناتھ یاتریوں کے لیے اس سال آن لائن ہیلی کاپٹر بکنگ سروس بھی شروع کی گئی ہے۔ 43 دنوں تک جاری رہنے والی یاترا کے لیے تاحال سوا تین لاکھ سے زیادہ یاتریوں نے اپنا رجسٹریشن کروایا ہے اور انتظامی مشینری کی جانب سے بھی یاتریوں کی حفاظت اور قیام و طعام کے خاطر خواہ انتظامات کیے گئے ہیں۔







